پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

انتخابات، احتجاج اور ریاستی رٹ: پاکستان کے زیر انتظام کشمیر ایک نئے سیاسی بحران کے دہانے پر؟

آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت بلند، عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کے بعد احتجاجی لہر

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ (JAAC) کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دے دیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں آئندہ عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے اور عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو اسمبلی کے سامنے دھرنے کی کال دے رکھی ہے۔

ریاست کے محکمہ داخلہ کی جانب سے 5 جون 2026 کو مظفرآباد سے جاری ہونے والے باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدام ’آزاد جموں و کشمیر اینٹی ٹیررازم ایکٹ 2014‘ کے سیکشن 12 کے تحت اٹھایا گیا ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ اس کے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ گروپ دہشت گردی، معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے، منافرت اور انارکی پھیلانے کی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔

جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اس پابندی کا نوٹیفکیشن اپنے ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’ہجوم کے راج کا خاتمہ۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج نہ کیا جائے۔‘

کشیدگی اور تازہ ترین صورتحال

پابندی کے اعلان کے بعد خطے میں انٹرنیٹ سروسز بند کر دی گئی ہیں جبکہ موبائل فون سروسز تاحال جزوی طور پر بحال ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دعویٰ کیا ہے کہ ان کے کئی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم حکومت نے ان چھاپوں اور گرفتاریوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

اسی دوران گزشتہ شب پونچھ ڈویژن کے شہر راولاکوٹ کے نواحی قصبے کھائی گلہ میں فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق اس واقعے میں ان کے ایک مقامی رہنما عمر نذیر زخمی جبکہ ان کے قریبی ساتھی شاہ زیب حبیب ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس ہلاکت کے بعد شہریوں نے سی ایم ایچ راولاکوٹ کے سامنے لاش رکھ کر احتجاجی دھرنا شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ اطلاعات نے پولیس ترجمان کا بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق ’5 جون 2026 کو رات پونے بارہ بجے کھائی گلہ کے قریب پولیس ناکے پر ایک مشتبہ گاڑی کو روکنے کی کوشش کی گئی، جس پر گاڑی میں موجود مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔ پولیس کی جوابی کارروائی پر مسلح افراد فرار ہو گئے۔‘

پولیس نے واقعے میں ملوث یا فرار ہونے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔

انسدادِ دہشت گردی قانون اور پلیٹ فارم کی نوعیت

واضح رہے کہ ’آزاد جموں و کشمیر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014‘ کے تحت صدرِ ریاست کی منظوری سے کسی بھی تنظیم کو ’کالعدم‘ قرار دے کر اس کا نوٹیفکیشن سرکاری گزٹ میں شائع کیا جاتا ہے۔

اس قانون کے تحت تنظیم کے مالیاتی اثاثے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے جاتے ہیں اور اس کی رکنیت یا حمایت سنگین جرم تصور ہوتی ہے۔

یہاں یہ پہلو قابلِ توجہ ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کوئی باقاعدہ رجسٹرڈ تنظیم نہیں ہے بلکہ یہ احتجاج کے لیے قائم کیا گیا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے جس کی قیادت پورے خطے سے تعلق رکھنے والے 30 کور کمیٹی ارکان کے پاس ہے۔

 


عوامی ایکشن کمیٹی مسلسل یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ حکومت نے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تنازع کا پس منظر اور 9 جون کی کال

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ تین برسوں سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوامی حقوق اور مختلف مطالبات کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔ گزشتہ برس کمیٹی کے ریاست گیر لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید تصادم ہوا تھا جس میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

اس بحران کے حل کے لیے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اعلیٰ اختیاراتی مذاکراتی کمیٹی مظفرآباد بھیجی تھی جس کے بعد اسلام آباد اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مطالبات کی منظوری کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔

تاہم رواں برس عوامی ایکشن کمیٹی مسلسل یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ حکومت نے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا۔

کمیٹی کا ایک بڑا مطالبہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کو ختم کرنا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)

گزشتہ ہفتے اسلام آباد کی ہائی پاور کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مظفرآباد میں کئی گھنٹوں پر محیط مذاکرات بھی بے نتیجہ ختم ہوئے جس کے بعد کمیٹی نے 9 جون کو تمام اضلاع سے دارالحکومت مظفرآباد کی طرف مارچ اور قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنے کی کال برقرار رکھی تھی۔

کمیٹی کا ایک بڑا مطالبہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کو ختم کرنا ہے جس پر وہ کسی قسم کا سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں ہے۔

دوسری طرف حکومت نے اس معاملے میں آئینی رہنمائی کے لیے جموں کشمیر کی سپریم کورٹ میں ایک ریفرنس دائر کر رکھا ہے جس کی سماعت آج (6 جون) کو مقرر ہے۔

یہ تمام کشیدگی ایک ایسے وقت میں عروج پر پہنچی ہے جب گزشتہ روز ہی الیکشن کمیشن نے خطے میں عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے 27 جولائی 2026 کو پولنگ کی تاریخ مقرر کی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button