
![]()
By Voice of Germany Urdu News Team
فٹبال کی دنیا کے دو عظیم ترین ستارے لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو بھی ورلڈ کپ فائنل میں گول کرنے کے معاملے میں کائلیان ایمباپے سے پیچھے ہیں۔ فرانس کے اس نوجوان اسٹار نے صرف دو فیفا ورلڈ کپ فائنلز میں مجموعی طور پر چار گول کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
ایمباپے نے لیجنڈز کو پیچھے چھوڑ دیا
جب ورلڈ کپ فائنل میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑیوں کا ذکر ہوتا ہے تو عام طور پر پیلے، لیونل میسی یا رونالڈو جیسے عظیم نام ذہن میں آتے ہیں، لیکن اعداد و شمار ایک مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔ فرانس کے نوجوان سپر اسٹار کائلیان ایمباپے نے اب تک صرف دو ورلڈ کپ کھیلے ہیں اور دونوں مرتبہ ان کی ٹیم فائنل تک پہنچی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ انہوں نے دونوں فائنلز میں گول اسکور کیے اور مجموعی طور پر چار گول کر کے ورلڈ کپ فائنلز میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔
پیلے اور زیدان بھی پیچھے
اس فہرست میں دوسرے نمبر پر برازیل کے عظیم فٹبالرز پیلے اور واوا کے ساتھ فرانس کے لیجنڈ زین الدین زیدان ہیں، جنہوں نے ورلڈ کپ فائنلز میں تین، تین گول کیے تھے۔ دوسری جانب ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی اور برازیل کے سابق اسٹار رونالڈو نازاریو نے فائنلز میں دو، دو گول اسکور کیے، لیکن وہ بھی ایمباپے کے ریکارڈ سے پیچھے ہیں۔ جبکہ کرسٹیانو رونالڈو اپنی قومی ٹیم کے ساتھ کبھی ورلڈ کپ فائنل تک نہیں پہنچ سکے۔
ایک ہی فائنل میں تاریخ رقم کر دی
ایمباپے کے نام صرف مجموعی گولوں کا ریکارڈ ہی نہیں بلکہ ایک ورلڈ کپ فائنل میں سب سے زیادہ گول کرنے کا اعزاز بھی موجود ہے۔ انہوں نے قطر ورلڈ کپ 2022 کے فائنل میں ارجنٹینا کے خلاف شاندار ہیٹ ٹرک اسکور کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا۔اس کارنامے کے ساتھ انہوں نے انگلینڈ کے جیف ہرسٹ کے ریکارڈ کی برابری کی، جنہوں نے 1966 کے ورلڈ کپ فائنل میں تین گول کیے تھے۔ اگرچہ فرانس وہ فائنل جیتنے میں ناکام رہا، لیکن ایمباپے کی کارکردگی تاریخ کا حصہ بن گئی۔
کیا 2026 میں اپنا ہی ریکارڈ توڑ پائیں گے؟
اب تمام نظریں فیفا ورلڈ کپ 2026 پر مرکوز ہیں۔ اگر فرانس ایک بار پھر فائنل تک رسائی حاصل کرتا ہے اور ایمباپے اپنی شاندار فارم برقرار رکھتے ہیں تو ان کے پاس اپنے ہی ریکارڈ کو مزید بہتر بنانے کا سنہری موقع ہوگا۔فٹبال کے اس عالمی میلے میں جہاں کروڑوں شائقین اپنی پسندیدہ ٹیموں کی حمایت کریں گے، وہیں کائلیان ایمباپے پر بھی خاص نظر رہے گی کہ آیا وہ ایک بار پھر دنیا کے سب سے بڑے اسٹیج پر تاریخ رقم کر پاتے ہیں یا نہیں۔



