بین الاقوامیاہم خبریں

اسرائیل اور ایران فوری طور پر ایک دوسرے کے خلاف حملے بند کریں: ٹرمپ

ایران سے یہی کہیں گے کہ اس نے اپنی میزائل کارروائی کر لی ہے، اب مزید کشیدگی بڑھانے کے بجائے مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے۔

مدثر احمد-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر مختصر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور ایران کو “فوراً فائرنگ بند” کر دینی چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اسرائیل اور ایران سے فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ مزید حملوں اور جوابی کارروائیوں سے اجتناب کریں اور تنازعہ کے حل کے لیے سفارتی مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر مختصر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور ایران کو “فوراً فائرنگ بند” کر دینی چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً دو ماہ کے جنگ بندی وقفے کے بعد اتوار کو ایران کی جانب سے اسرائیل پر متعدد میزائل داغے گئے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے بھی ایران کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی حملوں میں ایران کے کارون پیٹروکیمیکل پلانٹ سمیت کئی اہم تنصیبات متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان حملوں کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی اور ایک وسیع علاقائی تنازعہ کے خدشات بڑھ گئے ہیں

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے یہی کہیں گے کہ اس نے اپنی میزائل کارروائی کر لی ہے، اب مزید کشیدگی بڑھانے کے بجائے مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں فریقین کے لیے سب سے بہتر راستہ سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی جانب سے حالیہمیزائل حملوں سے قبل واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک ممکنہ معاہدہ طے پانے کے قریب تھا۔ ان کے مطابق فریقین اس قدر قریب پہنچ چکے تھے کہ آئندہ چند دنوں میں معاہدے پر دستخط بھی ہو سکتے تھے، تاہم حالیہ واقعات نے اس عمل کو متاثر کیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے رابطہ کریں گے اور انہیں مزید جوابی کارروائی سے باز رہنے کا مشورہ دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریق اپنی اپنی کارروائیاں کر چکے ہیں اور اب مزید تصادم کی ضرورت نہیں۔ دوسری جانب خطے میں جاری میزائل اور ڈرون حملوں نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے فریقین سے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو مشرق وسطیٰ ایک بڑے اور طویل علاقائی بحران کی جانب بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سلامتی اور معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button