
وفاقی محتسب کا لاہور آفس کا دورہ، عوامی شکایات کے فوری ازالے پر زور؛ چیئرمین نیب نے ہاؤسنگ فراڈ متاثرین میں 46 کروڑ روپے سے زائد تقسیم کر دیے
احتساب، شفافیت اور عوامی خدمت کے فروغ کے لیے اہم اقدامات، وفاقی اور احتسابی اداروں کی کارکردگی میں مزید بہتری کے عزم کا اظہار
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وفاقی محتسب پاکستان کے سربراہ جناب نوید کامران بلوچ نے ریجنل آفس لاہور کا دورہ کیا جہاں انہیں ادارے کی کارکردگی، عوامی شکایات کے ازالے اور اصلاحاتی اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بعد ازاں انہوں نے چیف سیکریٹری پنجاب جناب زاہد اختر زمان سے ملاقات کی، جس میں عوامی مسائل کے حل، بین الادارہ تعاون اور گورننس کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسی روز قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور میں بھی ایک اہم تقریب منعقد ہوئی جس میں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ نے مختلف ہاؤسنگ اور سرمایہ کاری فراڈ کیسز کے متاثرین میں تقریباً 46 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کے 1,619 پے آرڈرز تقسیم کیے۔ یہ رقوم مختلف مقدمات میں برآمد کی گئی تھیں تاکہ متاثرہ شہریوں کو ان کی جمع شدہ سرمایہ کاری واپس دلائی جا سکے۔
وفاقی محتسب کا لاہور ریجنل آفس کا دورہ
وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ کے دورہ لاہور کے دوران ممبر انچارج وفاقی محتسب جناب وقاص علی محمود نے انہیں ریجنل آفس لاہور کی مجموعی کارکردگی، عوامی شکایات کے ازالے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
اس موقع پر وفاقی محتسب نے ریجنل آفس لاہور کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کا بنیادی مقصد عوام کو فوری، سستا اور مؤثر انصاف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جدید ٹیکنالوجی، انتظامی اصلاحات اور تنظیم نو کے ذریعے عوامی خدمت کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
انہوں نے خصوصی طور پر انفارمل ریزولوشن آف ڈسپیوٹس (IRD) کے نظام کو مزید فعال بنانے پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی محتسب سیکریٹریٹ میں اس مقصد کے لیے باقاعدہ ونگ قائم کر دیا گیا ہے تاکہ عوامی شکایات کو عدالتی کارروائی کے بغیر فوری اور غیر رسمی انداز میں حل کیا جا سکے۔
تحصیل سطح پر عوامی مسائل کے حل کی ہدایات
وفاقی محتسب نے افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آؤٹ ریچ کمپلینٹ ریزولوشن (OCR) پروگرام کے تحت تحصیل اور دور دراز علاقوں میں جا کر عوامی مسائل کا ازالہ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو انصاف کے حصول کے لیے دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے اداروں کو ان کی دہلیز تک جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی محتسب کا ادارہ عوامی فلاح اور شکایات کے بروقت ازالے کے لیے جدید طرزِ حکمرانی اور ڈیجیٹل نظام کے فروغ پر بھرپور توجہ دے رہا ہے تاکہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔
چیف سیکریٹری پنجاب سے ملاقات
دورے کے بعد وفاقی محتسب نے چیف سیکریٹری پنجاب زاہد اختر زمان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران عوامی مسائل کے حل، انتظامی امور اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیف سیکریٹری پنجاب نے وفاقی محتسب کا خیر مقدم کرتے ہوئے عوامی شکایات کے ازالے اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے وفاقی محتسب کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
نیب لاہور میں متاثرین کو اربوں روپے کی واپسی کا عمل جاری
دوسری جانب نیب لاہور میں منعقدہ تقریب کے دوران چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ نے مختلف ہاؤسنگ اور سرمایہ کاری فراڈ کیسز کے متاثرین میں 46 کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے 1,619 پے آرڈرز تقسیم کیے۔
یہ رقوم اومیگا ریزیڈینشیا، ایڈن ہاؤسنگ، ابوزر ہاؤسنگ اسکیم، فارمینائٹس ہاؤسنگ اسکیم، ماڈل بزنس ٹریڈ سینٹر اور دیگر زیر تفتیش مقدمات میں برآمد کی گئی تھیں۔ نیب لاہور کے مطابق رقوم کی بازیابی کا عمل ڈی جی نیب لاہور مرزا فاران بیگ کی نگرانی میں مکمل کیا گیا تاکہ متاثرین کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
اومیگا ریزیڈینشیا اور ایڈن ہاؤسنگ کیس میں بڑی پیش رفت
نیب حکام کے مطابق اومیگا ریزیڈینشیا کیس میں ادائیگیوں کے پہلے مرحلے کے تحت 500 متاثرین میں 1,308 پے آرڈرز کے ذریعے 14 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد تقسیم کیے گئے۔
اسی طرح ایڈن ہاؤسنگ کیس میں 150 متاثرین کو 39 کروڑ 74 لاکھ روپے مالیت کے پے آرڈرز جاری کیے گئے۔ نیب لاہور اب تک 5,571 کلیمنٹس کو آن لائن بینکاری کے ذریعے تقریباً 68 کروڑ 53 لاکھ 60 ہزار روپے منتقل کر چکا ہے جبکہ باقی تصدیق شدہ کلیمنٹس کو ادائیگیوں کا عمل بھی جاری ہے۔
نیب کے مطابق ایڈن ہاؤسنگ کیس میں مجموعی طور پر 11,076 متاثرین میں اب تک ایک ارب 40 کروڑ روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں، جو ملک میں فراڈ متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کی بڑی مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔
دیگر مقدمات میں بھی متاثرین کو رقوم کی واپسی
تقریب کے دوران سوزوکی سیالکوٹ موٹرز کیس کے 136 متاثرین میں 18 کروڑ 61 لاکھ 90 ہزار روپے کے پے آرڈرز تقسیم کیے گئے، جبکہ ابوزر ہاؤسنگ اسکیم کے متاثرین کو بھی 6 کروڑ 75 لاکھ روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔
مزید برآں ریاست بنام ابرار حسین جعفری کیس میں برآمد ہونے والی 22 لاکھ روپے کی رقم ڈی ایس پوسٹل سروس میانوالی کے حوالے کر دی گئی تاکہ متعلقہ متاثرین کو ان کا حق واپس مل سکے۔
عوام سرمایہ کاری سے قبل مکمل تصدیق کریں، چیئرمین نیب
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ نے کہا کہ نیب مالیاتی فراڈ کے متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے، قومی دولت کی بازیابی اور احتساب کے مؤثر نظام کے قیام کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ کسی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی یا رئیل اسٹیٹ منصوبے میں سرمایہ کاری سے قبل اس کا این او سی، لے آؤٹ پلان، زمین کی ملکیت اور قانونی حیثیت کی مکمل جانچ پڑتال ضرور کریں تاکہ ممکنہ فراڈ سے بچا جا سکے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں تاکہ عوام کا سرمایہ محفوظ بنایا جا سکے۔
شفاف اور جوابدہ نظام کے تحت رقوم کی واپسی ترجیح ہے، ڈی جی نیب لاہور
ڈی جی نیب لاہور مرزا فاران بیگ نے کہا کہ برآمد شدہ رقوم کو شفاف، مؤثر اور جوابدہ نظام کے تحت متاثرین تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام متاثرین کو ان کی رقوم کی بروقت واپسی اور انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ نیب لاہور قومی دولت کی بازیابی، احتساب کے مؤثر نظام کے فروغ اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے مشن پر ثابت قدمی سے عمل پیرا ہے۔
عوامی خدمت اور احتسابی نظام کو مزید مؤثر بنانے کا عزم
وفاقی محتسب کے دورہ لاہور اور نیب لاہور کی جانب سے متاثرین کو رقوم کی واپسی کے اقدامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاستی ادارے عوامی مسائل کے حل، شفافیت کے فروغ، احتساب کے مؤثر نظام اور شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، ادارہ جاتی اصلاحات اور شفاف طرزِ حکمرانی ہی عوامی اعتماد کے فروغ اور بہتر گورننس کی بنیاد ہیں۔



