افغانستان،ہرات میں خواتین کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج، طالبان اہلکاروں کی فائرنگ اور کریک ڈاؤن، متعدد افراد زخمی و گرفتار
اگر خواتین کے حقوق اور شہری آزادیوں سے متعلق پالیسیوں میں نرمی نہ لائی گئی تو افغانستان کو بین الاقوامی سطح پر مزید تنقید اور سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
سید عاطف ندیم-پاکستان,اے ایف پی، اے پی، روئٹرز کے ساتھ
ہرات (افغانستان): افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں خواتین کی مبینہ گرفتاریوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے پر طالبان سکیورٹی فورسز کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی جبکہ کئی مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ عینی شاہدین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات نے ایک بار پھر افغانستان میں شہری آزادیوں، خواتین کے حقوق اور آزادیِ اظہار کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق منگل کے روز تقریباً 150 افغان شہری، جن میں اکثریت مردوں کی تھی، ہرات شہر میں جمع ہوئے تاکہ ان خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے جنہیں گزشتہ ہفتے مبینہ طور پر طالبان کی اخلاقی پولیس نے لباس سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ان خواتین کو مکمل چادر یا چہرہ ڈھانپنے والا برقع نہ پہننے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
احتجاج کے دوران فائرنگ اور تشدد
احتجاج شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد طالبان سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین کے مطابق اہلکاروں نے لاٹھیوں، کوڑوں اور اسلحے کا استعمال کیا جبکہ متعدد مقامات پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ اس کے مطابق فورسز نے پہلے لوگوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا اور بعد ازاں لاٹھی چارج اور فائرنگ شروع کر دی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ کئی افراد زخمی ہوئے جبکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایک دوسرے گواہ نے بتایا کہ اس نے فضا میں متعدد گولیاں چلتے ہوئے دیکھیں اور سڑکوں پر خون کے نشانات بھی موجود تھے۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ زخمی افراد گولی لگنے سے متاثر ہوئے یا انہیں تشدد اور لاٹھی چارج کے دوران چوٹیں آئیں۔
صحافیوں اور فوٹوگرافروں کے مشاہدات
احتجاج کی کوریج کرنے والے مقامی فوٹوگرافروں اور صحافیوں نے بھی سکیورٹی فورسز کے سخت رویے کی تصدیق کی۔ ایک فوٹوگرافر نے بتایا کہ اس نے اہلکاروں کو مظاہرین پر تشدد کرتے اور ہجوم کی جانب اسلحہ تانتے ہوئے دیکھا۔
اس کے مطابق حالات انتہائی کشیدہ تھے اور لوگوں میں خوف پایا جا رہا تھا۔ اس نے کہا کہ کئی افراد کو زخمی حالت میں احتجاجی مقام سے ہٹایا گیا جبکہ بعض افراد کو فورسز اپنے ساتھ لے گئیں۔
طالبان حکام کا مؤقف
دوسری جانب طالبان حکام نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض عناصر نے حجاب کے قوانین کے خلاف احتجاج کے بہانے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی۔
ہرات پولیس کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث صورتحال کو قابو میں رکھا گیا اور مزید کشیدگی پیدا ہونے سے روک دیا گیا۔ ان کے مطابق چند افراد اشتعال انگیزی کے ذریعے بدامنی پھیلانا چاہتے تھے لیکن فورسز نے حالات کو سنبھال لیا۔
خواتین کی گرفتاریوں پر تنازع
احتجاج کا بنیادی سبب وہ اطلاعات تھیں جن کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران ہرات میں متعدد خواتین کو لباس سے متعلق طالبان حکومت کے ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔ مقامی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ گرفتار خواتین کی تعداد ایک درجن سے زیادہ تھی اور ان میں مختلف عمر کی خواتین شامل تھیں۔
سوشل میڈیا پر شہریوں نے ان گرفتاریوں کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ خواتین کے حقوق کے دفاع کے لیے آواز بلند کریں۔ اسی مہم کے نتیجے میں ہرات میں احتجاج کا انعقاد کیا گیا۔
تاہم طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے ان اطلاعات کو "افواہیں” قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی گرفتاریوں کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبروں میں صداقت نہیں ہے۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلامی حجاب اللہ کا حکم ہے اور اس پر عمل درآمد حکومت کی شرعی ذمہ داری ہے۔ حکام کے مطابق معاشرے میں اسلامی اقدار کے نفاذ کے لیے متعلقہ قوانین پر عمل کروایا جا رہا ہے۔
طالبان حکومت اور خواتین پر پابندیاں
اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے متعدد نئی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم محدود کر دی گئی، خواتین کے لیے بہت سے شعبوں میں ملازمتوں پر پابندیاں عائد کی گئیں اور عوامی زندگی میں ان کی شرکت کو بھی نمایاں طور پر محدود کر دیا گیا۔
خواتین کے لباس سے متعلق ضوابط طالبان حکومت کی پالیسی کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان ضوابط کے نفاذ کے لیے وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور اس کی نگرانی میں کام کرنے والی اخلاقی پولیس سرگرم رہتی ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل ان پالیسیوں کو خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتی رہی ہیں جبکہ طالبان حکومت انہیں اسلامی شریعت کے مطابق اقدامات قرار دیتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردعمل
انسانی حقوق کے نگران اداروں نے ہرات کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق جمعہ سے اب تک کم از کم 16 خواتین کی گرفتاریوں کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہے۔
افغانستان سے متعلق امور پر کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں نے طالبان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خواتین کی آزادیوں کو مزید محدود کر رہے ہیں اور اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی تشویش
افغانستان میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی تحقیق کار رچرڈ بینیٹ نے بھی ہرات کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر پرامن مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر طاقت کا غیر ضروری استعمال ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی کم کرنے، شہریوں کی آزادیِ اظہار کے احترام اور خواتین و لڑکیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
افغانستان میں احتجاج کی محدود گنجائش
ماہرین کے مطابق طالبان حکومت کے تحت افغانستان میں عوامی احتجاج انتہائی محدود ہو چکا ہے۔ حکومت مخالف مظاہروں کی اجازت شاذ و نادر ہی دی جاتی ہے اور سکیورٹی ادارے اکثر ایسے اجتماعات کو فوری طور پر منتشر کر دیتے ہیں۔
ہرات کا حالیہ احتجاج اس لحاظ سے غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے کہ اس میں مرد شہریوں کی بڑی تعداد نے خواتین کے حقوق اور ان کی مبینہ گرفتاریوں کے خلاف آواز بلند کی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی سماجی بے چینی اور شہری آزادیوں کے حوالے سے موجود تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
مستقبل کے خدشات
ہرات کے واقعات نے ایک مرتبہ پھر افغانستان میں خواتین کے حقوق، آزادیِ اظہار اور پرامن احتجاج کے حق کے حوالے سے جاری عالمی بحث کو تیز کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں طالبان حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ گرفتار افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے، زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر خواتین کے حقوق اور شہری آزادیوں سے متعلق پالیسیوں میں نرمی نہ لائی گئی تو افغانستان کو بین الاقوامی سطح پر مزید تنقید اور سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ ملک کے اندر بھی عوامی بے چینی میں اضافہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔