پاکستان میں گرو ارجن دیو جی کے شہیدی دن کی تقریبات جاری، بھارتی سکھ یاتریوں کی گردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب سمیت مقدس مقامات کی یاترا
پاکستان میں سکھ یاتریوں کے لیے مثالی انتظامات، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب احترام کی روشن مثال
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
متروکہ وقف املاک بورڈ، وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیر اہتمام سکھ مذہب کے پانچویں گرو، گرو ارجن دیو جی کے شہیدی دن (جوڑ میلہ) کی تقریبات عقیدت و احترام کے ساتھ جاری ہیں۔ ان تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں نے جمعرات کے روز سکھ مذہب کے مقدس ترین مقام گردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب میں حاضری دی، مذہبی رسومات ادا کیں اور خصوصی دعاؤں میں شرکت کی۔
یاتریوں نے اپنے روحانی سفر کے دوران گردوارہ جنم استھان کے علاوہ دیگر اہم تاریخی اور مذہبی مقامات بشمول گردوارہ پٹی صاحب، گردوارہ بالیلا صاحب، گردوارہ کیارا صاحب اور گردوارہ تمبو صاحب کی بھی یاترا کی، جہاں انہوں نے مذہبی عبادات ادا کرتے ہوئے سکھ مذہب کی مقدس روایات کو زندہ رکھا۔
ننکانہ صاحب میں عقیدت اور روحانیت کا منفرد منظر
گرو نانک دیو جی کی جنم بھومی ننکانہ صاحب میں بھارتی سکھ یاتریوں کی آمد کے موقع پر عقیدت، احترام اور روحانیت کا منفرد منظر دیکھنے میں آیا۔ یاتریوں نے گردواروں میں ماتھا ٹیکا، مذہبی دعائیں کیں اور سکھ مذہب کی تعلیمات کے مطابق انسانیت، امن، بھائی چارے اور خدمت خلق کے جذبے کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
گردوارہ جنم استھان میں ہونے والی مذہبی تقریبات میں پاکستان اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے سکھ عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر مذہبی کیرتن، خصوصی ارداس اور دیگر مذہبی رسومات ادا کی گئیں۔
یاتریوں کے لیے مثالی انتظامات
چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمر الزمان کی خصوصی ہدایات پر بھارتی سکھ یاتریوں کے لیے رہائش، لنگر، صفائی ستھرائی، طبی سہولیات، ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی سمیت تمام ضروری انتظامات بہترین انداز میں کیے گئے ہیں۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام کے مطابق یاتریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی انتظامی ٹیمیں متحرک ہیں جو چوبیس گھنٹے خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ یاتریوں کے قیام کے مقامات پر صاف ستھرا ماحول، معیاری خوراک اور طبی امداد کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے۔
سخت سکیورٹی انتظامات، قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک
بھارتی سکھ یاتریوں کی آمد کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ ننکانہ صاحب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جامع اور مؤثر سکیورٹی پلان ترتیب دیا ہے۔ یاتریوں کی نقل و حرکت، مذہبی مقامات اور رہائشی مقامات پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ان کے مذہبی سفر کو مکمل طور پر محفوظ اور پرامن بنایا جا سکے۔
سکیورٹی اداروں کے اہلکار یاتریوں کے قافلوں کے ساتھ ہمہ وقت موجود ہیں جبکہ اہم مقامات پر اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔ یاتریوں کے روٹس پر خصوصی نگرانی اور ٹریفک مینجمنٹ کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کی ٹیم یاتریوں کے ہمراہ
ڈپٹی سیکرٹری شرائنز فراز عباس کی زیر نگرانی شرائن برانچ کے افسران اور عملہ یاتریوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کی ضروریات کو فوری طور پر پورا کرنے کے لیے متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کے نمائندے یاتریوں کے قافلوں کے ساتھ ہمہ وقت موجود ہیں تاکہ کسی بھی انتظامی یا سفری مسئلے کی صورت میں فوری معاونت فراہم کی جا سکے۔
ریسکیو اور طبی سہولیات بھی فراہم
شدید گرمی اور موسم کی صورتحال کے پیش نظر یاتریوں کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ متروکہ وقف املاک بورڈ اور ریسکیو 1122 کی ایمبولینسز یاتریوں کے ساتھ موجود ہیں جبکہ طبی عملہ بھی الرٹ ہے۔
یاتریوں کو مسلسل ٹھنڈا منرل واٹر فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ شدید گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ طبی کیمپس اور فرسٹ ایڈ مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
بھارتی سکھ رہنماؤں کا انتظامات پر اطمینان
بھارت سے آنے والے شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے رہنما سردار بھوپندر سنگھ نے پاکستان میں کیے گئے انتظامات، مہمان نوازی اور یاتریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمر الزمان، ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق، متروکہ وقف املاک بورڈ کے عملے اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یاتریوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کے مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے سازگار ماحول میسر ہے۔
سردار بھوپندر سنگھ نے کہا کہ پاکستان میں سکھوں کے مقدس مقامات کی دیکھ بھال اور یاتریوں کے لیے کیے جانے والے انتظامات بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کی مثبت مثال ہیں۔
مذہبی سیاحت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ
مبصرین کے مطابق سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد نہ صرف مذہبی سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ پاکستان اور بھارت کے عوام کے درمیان ثقافتی اور مذہبی روابط کو بھی مضبوط بناتی ہے۔
پاکستان میں واقع سکھ مذہب کے مقدس مقامات دنیا بھر کے سکھوں کے لیے خصوصی روحانی اہمیت رکھتے ہیں، جن کی زیارت کے لیے ہر سال ہزاروں یاتری پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔
یاتری آج گردوارہ سچا سودا روانہ ہوں گے
متروکہ وقف املاک بورڈ کے مطابق بھارتی سکھ یاتری 12 جون کو گردوارہ سچا سودا فاروق آباد کی یاترا کریں گے، جہاں وہ مذہبی رسومات اور عبادات میں شرکت کریں گے۔
بعد ازاں یاتریوں کا قافلہ تاریخی گردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال روانہ ہوگا، جہاں گرو ارجن دیو جی کے شہیدی دن کی مرکزی تقریبات اور دیگر مذہبی سرگرمیوں میں شرکت کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یاتریوں کے پورے دورے کے دوران سکیورٹی، رہائش، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات سمیت تمام انتظامات اعلیٰ معیار کے مطابق برقرار رکھے جائیں گے تاکہ وہ اپنے مذہبی فرائض خوش اسلوبی سے انجام دے سکیں۔