پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

معاہدے کی خلاف ورزی پر کالعدم JAAC کے ارکان کے خلاف مقدمات بحال، حکومت کا مذاکرات نہ کرنے کا دوٹوک اعلان

سرکاری ذرائع کے مطابق معطل ایف آئی آرز دوبارہ فعال، حالیہ پرتشدد واقعات کی ذمہ داری تنظیمی قیادت پر عائد

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

معتبر سرکاری ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کالعدم قرار دی گئی تنظیم JAAC کے ساتھ ماضی میں ہونے والے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اس کے ارکان کے خلاف درج مقدمات اور ایف آئی آرز کو دوبارہ بحال کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہے گی۔

سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بعض مقدمات کو معاہدے کے تحت معطل کیا گیا تھا، تاہم حالیہ حالات اور مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد ان مقدمات کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔

کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات کا امکان مسترد

ذرائع کے مطابق حکومت نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ کالعدم JAAC کے مسلح عناصر یا ان کے نمائندوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات یا باضابطہ بات چیت نہ تو اس وقت جاری ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق ریاست کسی بھی قسم کے دباؤ، طاقت کے استعمال یا پرتشدد سرگرمیوں کے ذریعے مطالبات منوانے کی روایت کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر شہری کو اپنے حقوق کے اظہار کی آزادی حاصل ہے، تاہم مسلح سرگرمیوں اور تشدد کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

پرانی معطل ایف آئی آرز بھی بحال کیے جانے کا فیصلہ

ذرائع نے مزید بتایا کہ صرف حالیہ واقعات ہی نہیں بلکہ ماضی میں معطل کی گئی بعض ایف آئی آرز کو بھی دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس اقدام کا مقصد تمام زیر التواء مقدمات کو قانونی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانا اور مبینہ قانون شکنی میں ملوث افراد کا احتساب یقینی بنانا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام دستیاب شواہد، بیانات اور تحقیقات کی روشنی میں کارروائی کریں گے اور کسی بھی فرد کے خلاف کارروائی قانون اور ثبوت کی بنیاد پر ہوگی۔

حالیہ جھڑپوں اور تشدد کے واقعات کی تحقیقات جاری

سرکاری ذرائع کے مطابق حالیہ جھڑپوں اور پرتشدد واقعات میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ ان واقعات کے اسباب، ذمہ داران اور پس منظر کا مکمل تعین قانونی طریقہ کار کے مطابق کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق حکومت کا خیال ہے کہ حالیہ کشیدگی اور تصادم کی صورتحال نے نہ صرف امن و امان کو متاثر کیا بلکہ عوامی زندگی اور سرکاری امور کو بھی نقصان پہنچایا، جس کے باعث ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی ناگزیر ہو گئی ہے۔

قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاستی ادارے امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کسی بھی تنظیم یا گروہ کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا اور تمام شہریوں کو آئین اور قانون کے مطابق اپنی سرگرمیاں انجام دینا ہوں گی۔

حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاستی رٹ کو برقرار رکھنے، امن و استحکام کو یقینی بنانے اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے تمام قانونی و آئینی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

سیاسی و سماجی حلقوں میں بحث

معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد مقدمات کی بحالی اور مذاکرات نہ کرنے کے حکومتی مؤقف نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس معاملے کی قانونی اور سیاسی جہتیں مزید نمایاں ہو سکتی ہیں، جبکہ تمام فریقین کی نظریں حکومتی اقدامات اور عدالتی کارروائیوں پر مرکوز ہیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح خطے میں امن، استحکام اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہے اور اسی مقصد کے تحت تمام فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button