یورپتازہ ترین

یورپی ممالک میں سائبر فراڈ نیٹ ورکس چینی جرائم پیشہ گروہوں کے زیرِ کنٹرول ہیں

اس تحقیق کے مطابق سائبر فراڈ کے تحت گزشتہ 12 مہینوں میں یورپی ممالک میں تقریباً 50 بلین یورو (57.7 بلین ڈالر) کا نقصان ہوا۔

مصنف: ڈیوڈ ہٹ

یورپ میں آن لائن دھوکہ دہی کے سبب شہریوں کو ہر سال اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔تاہم یورپی حکام اس دھوکہ دہی میں ملوث ایشیائی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی میں امریکہ، برطانیہ اور چین سے کافی پیچھے ہیں۔

اگرچہ 71 فیصد لوگوں نے دعویٰ کیا کہ وہ فراڈ کو پہچان لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود آٹھ فیصد افراد دھوکہ بازوں کے چکر میں آ گئے۔ مزید یہ کہ 16 فیصد والدین نے بتایا کہ ان کے بچوں کو بھی فراڈ کرنے والوں نے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

اربوں ڈالر کا نقصان

گلوبل اینٹی اسکیم الائنس (جی اے ایس اے) کی جانب سے جاری کی گئی اس رپورٹ کی تیاری کے لیے 15 یورپی ممالک میں 22 ہزار سے زائد افراد سے سوالات پوچھے گئے۔

اس تحقیق کے مطابق سائبر فراڈ کے تحت گزشتہ 12 مہینوں میں یورپی ممالک میں تقریباً 50 بلین یورو (57.7 بلین ڈالر) کا نقصان ہوا۔

فراڈ کرنے والوں کے رابطے میں آنے والے 22 فیصد افراد کو مالی یا ڈیٹا کا نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم صرف 39 فیصد متاثرین نے یہ واقعات متعلقہ حکام کو رپورٹ کیے۔ اوسطاً ہر متاثرہ فرد کو 2,735 ڈالر (تقریباً 2,369 یورو) کا نقصان ہواجبکہ اس  نقصان کی اوسط شرح سب سے زیادہ سوئٹزرلینڈ، ڈنمارک اور بیلجیم میں ریکارڈ کی گئی۔

صرف جرمنی میں ہی تقریباً 10.6 بلین یورو کا نقصان رپورٹ ہوا۔

رقم کی واپسی بہت محدود

جن لوگوں نے اپنے نقصان کی رپورٹ درج کرائی، ان میں سے صرف 35 فیصد کو رقم واپس مل سکی۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر لوگ دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے کسی رسمی نظام کی بجائے اپنی عادتوں پر انحصار کرتے ہیں، جیسے کہ غیر متوقع پیغامات کو نظر انداز کرنا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ متاثرین میں سے نصف کو اس وقت تک دھوکہ دہی کا علم نہیں ہوتا جب تک وہ رقم سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں یا کسی بیرونی ذریعے سے آگاہ نہ کیے جائیں۔

اس فائل تصویر میں اسیکم سینٹرز پر کام کرنے والوں کو پولیس گرفتار کرکے لے جا رہی ہے
ہزاروں مزدوروں کو جنوب مشرقی ایشیائی خطے میں اسمگل کر کے اسکیم سینٹرز میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا ہےتصویر: AFP

جنوب مشرقی ایشیا سائبر فراڈ کا گڑھ

اگرچہ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یورپ میں کتنے متاثرین کو جنوب مشرقی ایشیا سے نشانہ بنایا گیا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خطہ حالیہ برسوں میں آن لائن فراڈ کا مرکزی گڑھ بن چکا ہے۔

امریکی ادارے یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے 2024  میں لگائے گئے ایک اندازے کے مطابق  صرف کمبوڈیا میں سائبر فراڈ کی صنعت کی مالیت تقریباً 11 بلین یورو سالانہ تک ہو سکتی ہے، جو ملک کی باقاعدہ معیشت کے نصف کے برابر ہے۔

اگر اس میں  میانمار اور لاؤس میں سرگرم گروہوں کو بھی شامل کیا جائے تو یہ نیٹ ورکس سالانہ 37.9 بلین یورو سے زائد کی رقم ہتھیا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق خطے میں موجود کئی سائبر فراڈ نیٹ ورکس چینی جرائم پیشہ گروہوں کے زیرِ کنٹرول ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں چینی شہریوں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کے باعث بیجنگ نے ان نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔

امریکہ کی سخت کارروائی، یورپ پیچھے

سائبر فراڈ کے خلاف اقدامات میں امریکہ یورپی یونین سے کافی آگے دکھائی دیتا ہے۔

اکتوبر 2024 میں امریکی محکمہ خزانہ نے برطانیہ کے تعاون سے کمبوڈیا کے پرنس گروپ سے وابستہ 146 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کیں اور اسے ایک بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیم قرار دیا۔

اس کے برعکس یورپی یونین نے اب تک صرف ایک مرتبہ جنوب مشرقی ایشیا سے متعلق سائبر فراڈ پر پابندیاں لگائی ہیں۔ اکتوبر 2024 میں یورپی کونسل نے میانمار کے تھِٹ لن میائنگ گروپ سے منسلک تین افراد کو نشانہ بنایا۔

17 ستمبر 2025 کو لی گئی اس فضائی تصویر میں میانمار کے مشرقی میاوادی ٹاؤن شپ میں واقع کے کے پارک کمپلیکس کو دکھایا گیا ہے
امریکی ادارے یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے 2024  میں لگائے گئے ایک اندازے کے مطابق  صرف کمبوڈیا میں سائبر فراڈ کی صنعت کی مالیت تقریباً 11 بلین یورو سالانہ تک ہو سکتی ہےتصویر: Lillian Suwanrumpha/AFP

یورپ کی کمزور حکمت عملی

ماہرین کے مطابق یورپ اس مسئلے پر عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

گلوبل اینٹی اسکیم الائنس کے ایشیا پیسیفک ڈائریکٹر برائن ڈی ہینلے کے مطابق امریکہ، چین اور برطانیہ کے مقابلے میں یورپ جنوب مشرقی ایشیا کے سائبر فراڈ نیٹ ورک کے معاملے پر کم سرگرم دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ”بدقسمتی سے ان نیٹ ورکس کو ایک علاقائی مسئلہ سمجھا گیا جبکہ حقیقت میں یہ ایک عالمی سکیورٹی خطرہ ہے۔‘‘

ہینلے کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے اندر اختیارات کی تقسیم بھی مؤثر کارروائی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ مختلف اداروں اور رکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی کی کمی پائی جاتی ہے۔

ان کے مطابق تاہم ”یورپی شہریوں پر اس کے حقیقی اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں لیکن موجودہ اقدامات اس خطرے سے نمٹنے سے مطابقت نہیں رکھتے۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button