پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

تعلیمی بجٹ میں تاریخی کمی آرٹیکل 25-A کی خلاف ورزی، 18ویں ترمیم کے بعد تعلیمی نظام بحران کا شکار: کاشف مرزا

ان کے مطابق وفاق کا بنیادی کردار ملک بھر میں کم از کم تعلیمی معیارات کو یقینی بنانا ہونا چاہیے جبکہ صوبے تعلیمی خدمات کی فراہمی کے ذمہ دار رہیں۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کاشف مرزا کے ساتھ

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن (اے پی پی ایس ایف) کے صدر کاشف مرزا نے وفاقی بجٹ 2025-26 میں تعلیم کے لیے مختص فنڈز میں نمایاں کمی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 اور آرٹیکل 25-A کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تعلیمی اخراجات کو گزشتہ مالی سال کے 1.5 فیصد سے کم کرکے جی ڈی پی کے صرف 0.8 فیصد تک محدود کر دیا ہے، جو ملک کے لاکھوں بچوں کے بنیادی تعلیمی حق سے انحراف کے مترادف ہے۔

کاشف مرزا نے اپنے ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ پاکستان میں تعلیم پہلے ہی شدید بحران کا شکار ہے اور ایسے وقت میں تعلیمی بجٹ میں کمی نہ صرف قومی ترقی کی رفتار کو متاثر کرے گی بلکہ آئین میں دیے گئے مفت اور لازمی تعلیم کے وعدے کو بھی کمزور کرے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر تعلیمی بجٹ کو جی ڈی پی کے کم از کم پانچ فیصد تک بڑھائے تاکہ پاکستان اپنے آئینی اور بین الاقوامی وعدوں کو پورا کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 25-A کے تحت ریاست پانچ سے سولہ سال کی عمر کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے، تاہم موجودہ بجٹ اس آئینی ذمہ داری سے متصادم ہے۔ ان کے مطابق تعلیم پر کم سرمایہ کاری کا براہ راست اثر ملک میں بڑھتی ہوئی ناخواندگی، سکول سے باہر بچوں کی تعداد اور تعلیمی عدم مساوات کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

18ویں ترمیم کے نتائج تشویشناک قرار

صدر اے پی پی ایس ایف نے 18ویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیمی اختیارات صوبوں کو منتقل کیے جانے کے نتائج پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ 2010 میں آرٹیکل 142(c) کے تحت تعلیم کو مکمل طور پر صوبائی معاملہ بنا دیا گیا تھا، لیکن پندرہ برس بعد اس ماڈل کے نتائج انتہائی مایوس کن سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم سے قبل وفاقی سطح پر کم از کم قومی معیارات، نگرانی اور پالیسی ہم آہنگی موجود تھی، جبکہ ترمیم کے بعد ملک میں چار مختلف تعلیمی نظام وجود میں آ گئے ہیں جن کے درمیان معیار، نصاب، امتحانات اور فنڈنگ کے حوالے سے نمایاں تفاوت پیدا ہو چکا ہے۔

کاشف مرزا کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریباً 28 ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں، جبکہ مختلف صوبوں کے درمیان شرح خواندگی میں 20 سے 30 فیصد تک کا فرق موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں سکول سے باہر بچوں کی شرح 28 سے 38 فیصد کے درمیان ہے اور مجموعی طور پر صوبائی حکومتیں تعلیم پر اپنے کل بجٹ کا 15 فیصد سے بھی کم خرچ کر رہی ہیں۔

قومی تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ تعلیم کو صرف صوبائی مسئلہ سمجھنا ایک بڑی غلطی ثابت ہوئی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسے قومی ایمرجنسی قرار دے کر وفاقی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمزور انتظامی صلاحیت، سیاسی مداخلت، کرپشن اور قومی معیارات کے فقدان نے موجودہ ڈیولوشن ماڈل کو ناکام بنا دیا ہے۔

کاشف مرزا نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی شرح خواندگی اب بھی صرف 63 فیصد ہے جبکہ خواتین کی شرح خواندگی 54 فیصد کے قریب ہے۔ اگرچہ سکول سے باہر بچوں کی شرح میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم اب بھی تقریباً ہر تین میں سے ایک بچہ تعلیم سے محروم ہے، جو قومی سطح پر ایک سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

وفاقی تعلیمی اتھارٹی کے قیام کی تجویز

اے پی پی ایس ایف کے صدر نے مطالبہ کیا کہ نصاب، تعلیمی معیار، امتحانات، فنڈنگ اور نگرانی کے لیے ایک مضبوط وفاقی تعلیمی اتھارٹی قائم کی جائے جو پورے ملک میں یکساں معیار کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ معیارات، نصاب اور تشخیصی نظام کو دوبارہ قومی سطح پر مربوط کرنا وفاقیت کے خلاف نہیں بلکہ وفاقی نظام کو مضبوط بنانے کے مترادف ہوگا۔

ان کے مطابق وفاق کا بنیادی کردار ملک بھر میں کم از کم تعلیمی معیارات کو یقینی بنانا ہونا چاہیے جبکہ صوبے تعلیمی خدمات کی فراہمی کے ذمہ دار رہیں۔

پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم کا مطالبہ

کاشف مرزا نے پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر آئین میں ضروری ترمیم کرتے ہوئے "تعلیم، نصاب، قومی معیارات، امتحانات، اساتذہ کی تربیت اور اعلیٰ تعلیم” کو دوبارہ وفاقی قانون ساز فہرست میں شامل کرے تاکہ ملک بھر میں یکساں تعلیمی معیار اور احتساب کا نظام قائم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مزید تاخیر پاکستان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے کیونکہ ملک پہلے ہی عالمی تعلیمی درجہ بندیوں میں نچلے درجوں پر موجود ہے۔ ان کے مطابق پاکستان تقریباً 28 ملین سکول سے باہر بچوں کے ساتھ عالمی سطح پر تعلیمی چیلنجز کا سامنا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور ریاست مزید ایک دہائی تک اس تقسیم اور عدم ہم آہنگی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

اقتصادی سروے کے اعداد و شمار تشویشناک

صدر اے پی پی ایس ایف نے پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اخراجات گزشتہ مالی سال کے 1,251.06 ارب روپے سے کم ہو کر 962 ارب روپے رہ گئے ہیں، جو تقریباً 23 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کمی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملک کو تعلیمی شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ وفاقی بجٹ کو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDG-4) اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 25-A کے مطابق ترتیب دیا جانا چاہیے اور تعلیم کے لیے کم از کم جی ڈی پی کا پانچ فیصد مختص کیا جانا چاہیے۔

اے پی پی ایس ایف کا انتباہ

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر تعلیم کے شعبے کو فوری طور پر قومی ترجیح نہ بنایا گیا تو ملک میں تعلیمی عدم مساوات مزید گہری ہو جائے گی۔ تنظیم کے مطابق بعض صوبوں میں تعلیمی بجٹ میں شدید کمی جبکہ پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اس امر کا ثبوت ہے کہ موجودہ نظام مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہا ہے۔

کاشف مرزا نے کہا کہ تعلیم پاکستان کے مستقبل، معاشی ترقی اور قومی استحکام کی بنیاد ہے، اس لیے حکومت کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک جامع قومی تعلیمی پالیسی تشکیل دینی چاہیے تاکہ ہر پاکستانی بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button