
الیزابیتھ گرینئر
اگرچہ سبز رنگ میں ڈھلا کانسی کا ‘ایوا‘ نامی یہ مجسمہ اس نمائش کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا فن پارہ بن چکا ہے، لیکن اس نمائش میں ویڈیو اور آڈیو آلات سے لیس، فوٹوگرافی اور روایتی آئل پینٹنگز سے بنے متعدد جدید فن پارے بھی شامل ہیں، جن کا مقصد جمہوریت، اقتدار، نمائندگی اور عوامی زندگی جیسے موضوعات پر مکالمے کو فروغ دینا ہے۔
نمائش کے افتتاح سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی جرمن صدر فرینک والٹر اشٹائن مائر نے کہا، ”ہمیں فن کی ضرورت ہے۔ آزاد فن کے بغیر جمہوریت اپنی خود احتسابی کی صلاحیت کھو دیتی ہے، اور آزادی کے بغیر فن اپنی سماجی اہمیت سے محروم ہو جاتا ہے۔‘‘
یہ نمائش برلن کی اکیڈمی آف آرٹس نے ملکی صدر کی سرپرستی میں منعقد کی ہے اور اسے اشٹائن مائر کی جانب سے بَیلے وُو پیلس میں ایک طرح کی الوداعی تقریب بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سرکاری محل کو آئندہ آٹھ برسوں کے لیے تزئین و مرمت کی غرض سے بند کیا جا رہا ہے جبکہ صدر اشٹائن مائر کی دوسری اور آخری آئینی مدت بھی اگلے سال ختم ہو رہی ہے، اس لیے ان کی دوبارہ اس سرکاری رہائش گاہ میں واپسی کا امکان نہیں۔

جمہوریت اور فن کے تعلق پر زور
نمائش میں داخل ہوتے ہی حاضرین کو بار بار سنائی دینے والا لفظ ”ہیلو‘‘ متوجہ کرتا ہے، جو جرمن فنکار یوخن گیرز کی 1972 کی ‘تھک جانے تک پکارتے رہنا‘ کے عنوان کے تحت پیش کی گئی یادگار پرفارمنس کا حصہ ہے۔ اس میں فنکار اس وقت تک ‘ہیلو‘ پکارتا رہتا ہے جب تک اس کی آواز جواب نہیں دے جاتی۔
نمائش کے منتظمین کے مطابق یہ پرفارمنس آج اظہارِ رائے کی حدود اور سوشل میڈیا کے دور میں مسلسل توجہ حاصل کرنے کی خواہش پر ایک علامتی تبصرہ ہے۔ اس کے ساتھ یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ جب جمہوری معاشروں میں شہریوں کی آوازیں نظرانداز کی جائیں تو مایوسی اور اجتماعی تھکن جنم لے سکتی ہے۔
دوسری جانب متنازع مجسمہ ‘ایوا‘ انسانی جسم، جنس، جنسی شناخت اور خواتین کو محض ایک شے کے طور پر پیش کیے جانے جیسے موضوعات پر سوالات اٹھاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی ریاستی محل کے رسمی ماحول میں اس نوعیت کے فن پارے کی نمائش معاشرے میں جسم اور شناخت پر اختیار اور نمائندگی کے بارے میں ایک نئی بحث کو جنم دیتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بَیلے وُو پیلس کی عمارت عام حالات میں عوام کے لیے کھلی نہیں ہوتی، اس لیے یہ نمائش شہریوں کے لیے اس تاریخی عمارت کے اندرونی حصوں کو دیکھنے کا ایک نادر موقع بھی فراہم کر رہی ہے۔


