
روئٹرز کے ساتھ
روس نے یوکرین کے خلاف اپنی جنگ میں جمعہ 19 جون کے روز یہ اعتراف کر لیا کہ اس جنگ میں کییف کی طرف سے روسی دارالحکومت ماسکو کے قریب ایک آئل ریفائنری پر حال ہی میں ایک بڑا ڈرون حملہ کیا گیا، جس سے وہاں آگ لگ گئی تھی۔
نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق یہ یوکرینی ڈرون حملہ ایک دن پہلے ہی کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں روسی دارالحکومت کے مضافات میں ایک ایسی بہت بڑی آئل ریفائنری کو آگ لگ گئی تھی اور اس کی پیداوار روکنا پڑ گئی تھی، جو ماسکو کو صاف تیل کی ترسیل کے لیے کافی اہمیت کی حامل ہے۔
روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف جنگ میں کییف کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی برائے نام ہی تصدیق کی جاتی ہے اور ایسی تفصیلات سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے، جن سے پتا چل سکے کہ کس یوکرینی جنگی حملے میں روس کو کتنا شدید نقصان ہوا۔

ماسکو کے نواح میں آئل ریفائنری پر یوکرینی ڈرون حملہ اتنا بڑا تھا کہ اب کریملن نے اس کی باقاعدہ تصدیق بھی کر دی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اس حملے کے تنائج (مادی نقصانات) کے ازالے (مرمت اور بحالی) کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعے کے روز ایک بریفنگ کے دوران یہ بھی کہا کہ روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف حملے آئندہ بھی جاری رہیں گے۔
اس بریفنگ کے دوران جب ایک صحافی نے کریملن کے ترجمان پسیکوف سے یہ پوچھا کہ آیا روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی یوکرینی حملے سے آئل ریفائنری میں لگنے والی آگ کی ویڈیو فوٹیج دیکھی ہے، تو پیسکوف نے کہا کہ صحافیوں کو ان یوکرینی شہروں کی تصاویر دیکھنا چاہییں، جن پر روسی افواج حملے کر چکی ہیں۔



