
پاسدارانِ انقلاب نے خلیجی ممالک پر حملوں کے لیے خفیہ گروہ تشکیل دے دیے : عراقی ذرائع
جس کا مقصد ایران نواز مسلح گروہوں کے کمزور ہونے اور وسائل کی کمی کے دوران خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے عراق میں خفیہ گروہوں کی ایک نئی تشکیل کی ہے جس کا مقصد خلیجی ممالک پر حملے کرنا ہے جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔ ان نئے گروہوں کو موجودہ مسلح گروہوں سے الگ رکھا گیا ہے تاکہ ان کی شناخت نہ ہو سکے۔ یہ بات آٹھ عراقی ذرائع نے بتائی ہے۔
تین ذرائع کے مطابق ہر گروہ تقریباً 10 عراقی شیعہ جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔ ان میں تین سے چار گروہوں نے 20 اپریل سے 17 مئی کے درمیان بصرہ اور سماوہ کے صحرائی علاقوں سے کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر کم از کم سات ڈرون حملے کیے ہیں۔ ذرائع نے وضاحت کی کہ ان کے ارکان کا تعلق "المقاومۃ الاسلامیۃ فی العراق” سے ہے، جو ہزاروں جنگجوؤں پر مشتمل ایک شیعہ مسلح اتحاد ہے۔
عراقی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل اور عسکری امور کے ماہر جاسم البہادلی کے مطابق یہ نئے گروہ حجم مین چھوٹے، نظریاتی طور پر زیادہ سخت گیر اور کنٹرول کے تابع ہیں، جو اقتصادی دباؤ میں ایران کی وسائل کو بچانے کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔
عراق میں موجود بہت سے مسلح دھڑے جن کے تہران سے گہرے تعلقات ہیں، ایران کے ساتھ منسلک "محورِ مزاحمت” کی بنیاد ہیں۔ یاد رہے کہ عراق میں کچھ گروہوں نے ماضی میں امریکی مفادات پر درجنوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس کے جواب میں 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے آغاز کے بعد سے مہلک فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں۔

چونکہ متعدد با اثر عراقی دھڑوں نے پچھلے سال سے ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی انتظامیہ کے ساتھ تصادم سے بچنے کے لیے ہتھیار ڈالنے اور داخلی سیاست پر توجہ کا اعلان کیا ہے، اس لیے البہادلی کا ماننا ہے کہ اس پیش رفت نے پاسدارانِ انقلاب کو ایسے گروپ بنانے پر مجبور کیا جو براہ راست ان کے کنٹرول میں ہوں۔ عصائب اہل الحق اور امام علی بریگیڈز جیسے دو گروہوں نے رواں ماہ اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی انتباہات کے بعد اپنے ہتھیار ریاست کے حوالے کرنا شروع کر دیں گے۔



