
مصنفہ: نینا ویرک ہوئزر
وفاقی جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جرمن بحری یونٹوں کو ”آبنائے ہرمز میں ممکنہ مشن کے لیے پیشگی طور پر تعینات کیا جا رہا ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ فی الحال یہ صرف ایک ”ممکنہ‘‘ مشن ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے کے باوجود کئی اہم سوالات ابھی تک حل طلب ہیں۔
جرمن وزارت دفاع کے مطابق کسی بھی مشن کے آغاز کے لیے چند بنیادی شرائط ضروری ہیں، جن میں دشمنی کا مستقل خاتمہ، بین الاقوامی قانون کے تحت قانونی جواز اور جرمن پارلیمان کی منظوری شامل ہیں۔ وفاقی جرمن قانون کے تحت بیرون ملک کسی بھی مسلح فوجی کارروائی کے لیے پارلیمانی منظوری لازمی ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی جرمن بحریہ کی نمایاں صلاحیتوں میں شمار ہوتی ہے۔ جرمنی کی کیل یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ فار سکیورٹی پالیسی میں بحری سلامتی امور کے ماہر یوہانس پیٹرز نے بتایا کہ جرمن افواج کو اس شعبے میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔
ان کے مطابق بحیرہ شمالی اور بحیرہ بالٹک دنیا کے ان علاقوں میں شامل ہیں، جہاں پہلی اور دوسری دونوں عالمی جنگوں کے دوران استعمال ہونے والے بارودی مواد کی سب سے زیادہ باقیات موجود ہیں۔ ان سمندری علاقوں میں لاکھوں بارودی سرنگیں، گولہ بارود اور دیگر دھماکہ خیز اشیاء گزشتہ 70 برس یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے موجود ہیں، جن کی نگرانی اور صفائی کے باعث جرمن بحریہ کو اس میدان میں خاص مہارت حاصل ہو چکی ہے۔

سمندری بارودی سرنگیں بچھانا آسان، صاف کرنا انتہائی مشکل
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی درست تعداد اور ان کے مقامات کے بارے میں ابھی تک واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے صفائی کا عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
یوہانس پیٹرز کا کہنا تھا، ”ہمیں بارودی سرنگوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں اور نہ ہی ان علاقوں کے بارے میں مکمل معلومات ہیں جہاں یہ سرنگیں بچھائی گئی ہو سکتی ہیں۔ اس وقت صورتحال میں بہت زیادہ بےیقینی پائی جاتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ سمندری بارودی سرنگیں نسبتاً کم وقت میں بچھائی جا سکتی ہیں، لیکن انہیں تلاش کرنا اور محفوظ طریقے سے ناکارہ بنانا ایک نہایت دشوار اور طویل عمل ہوتا ہے۔ البتہ جرمن بحریہ کے مائن سویپر جہاز اسی مقصد کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
جرمن بحریہ کے مائن سویپر اس انداز میں ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ وہ بارودی سرنگوں کا سراغ تو لگا سکتے ہیں لیکن خود ان کی زد میں نہیں آتے۔ چونکہ بہت سی سمندری بارودی سرنگیں فولادی جہازوں کے مقناطیسی میدان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتی ہیں، اس لیے مائن سویپرز کا ڈھانچہ غیر مقناطیسی اسٹیل سے بنایا جاتا ہے۔
یہ جہاز انتہائی کم رفتار اور خاموش انداز میں بھی سفر کر سکتے ہیں تاکہ ان کے انجن یا پروپیلر بارودی سرنگوں کو فعال نہ کر دیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی مائن کلیئرنس مشن کے لیے ایک بنیادی شرط یہ بھی ہوتی ہے کہ متعلقہ ساحلی ممالک اپنی رضامندی ظاہر کریں۔
دریں اثنا فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کے مطابق تقریباً 20 ممالک اس ممکنہ مشن میں عملی تعاون کا وعدہ کر چکے ہیں۔

مشن کا انحصار امریکی ایرانی مذاکرات میں پیش رفت پر
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے ممکنہ بین الاقوامی بحری مشن کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی ابتدائی مفاہمتی یادداشت پر کس حد تک عمل درآمد ہوتا ہے۔
جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے بدھ کے روز وفاقی جرمن فوج کے ممکنہ مشن کے جلد آغاز سے متعلق توقعات کو محدود کرتے ہوئے کہا کہ جرمن پارلیمان موسم گرما کی تعطیلات سے قبل اپنے آخری اجلاسوں کے دوران ہی اس معاملے پر غور کر سکے گی۔ جرمن پارلیمان کے لیے تعطیلات 6 جولائی سے شروع ہونے والی ہیں۔
تاہم سیاسی منظوری کا انتظار کرنے کے باوجود جرمن بحریہ اپنی تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ جرمن وزیر دفاع نے اس حوالے سے کہا، ”ہم ہر صورت میں تیار ہیں۔ جب بھی وقت آئے گا، ہم کارروائی کے لیے تیار ہوں گے۔‘‘



