بین الاقوامیتازہ ترین

ایران کے لیے کوئی رقم نہیں، ہم 60 روز کی مہلت پر قائم ہیں: ٹرمپ

سوئس وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اطلاع دی کہ امریکہ، ایران، قطر اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مجوزہ مذاکرات ملتوی کر دیے گئے ہیں

ایجنسیاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے مایوسی کے باعث واشنگٹن کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کرنا قبول کیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ امریکہ 60 دن کے عرصے پر عمل پیرا رہے گا اور تہران کو کوئی رقم نہیں دے گا۔
انہوں نے آج جمعے کے روز "ٹروتھ سوشل” پر لکھا "ہم نے مایوسی کی وجہ سے ملاقات نہیں کی، بلکہ ایران نے ایسا کیا ہے… وہ مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم 60 دن کا عرصہ مکمل کریں گے۔ انہیں کوئی رقم نہیں ملے گی، دس سینٹ بھی نہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کی طرف سے دستخط شدہ مفاہمت کی یاد داشت جمعہ کے روز خطرے میں پڑتی دکھائی دی، کیونکہ سوئٹزرلینڈ میں طے شدہ مذاکرات ملتوی کر دیے گئے اور لبنان میں تصادم کی شدت میں اضافہ ہو گیا۔ ادھر تہران نے مذاکرات کے لیے اپنی طے کردہ "سرخ لکیروں” پر واشنگٹن کے عمل پیرا ہونے کی شرط رکھ دی۔
سوئس حکومت نے تہران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق بنیادی مسئلے کو حل کرنے کے لیے 60 دن کے عمل کو شروع کرنے کی غرض سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے طے شدہ مذاکرات کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔
نیز سوئس وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اطلاع دی کہ امریکہ، ایران، قطر اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مجوزہ مذاکرات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ ان مذاکرات کو آسان بنانے کے لیے تیار ہے۔ ضروری تیاری کے کام جاری ہیں، تاہم وزارت نے ان مذاکرات کے لیے کوئی نئی تاریخ نہیں بتائی جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ امریکی ایرانی مذاکرات شروع ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے تصدیق کی کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد کے دورے کی ان کی دعوت قبول کر لی ہے… اور مشکل وقت میں ایران کے ساتھ کھڑے ہونے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
ایرانی صدر نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور محسن نقوی کا بھی شکریہ ادا کیا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے دور سے مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کرنے کے بعد، جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ روکنے کی بات کی گئی تھی، یہ طے پایا تھا کہ جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں سرکاری طور پر اس پر دستخط کیے جائیں گے اور مذاکرات کا مرحلہ شروع ہو گا۔ اس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی موجودگی متوقع تھی۔ انھوں نے نے اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کے واحد دور میں اپنے اپنے ممالک کے وفود کی قیادت کی تھی۔
تاہم وینس نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا، اسی طرح پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی، جن کے ملک نے ثالثی کا کردار ادا کر کے معاہدے تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button