
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
حکومت آزاد جموں و کشمیر نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ریاست میں انتشار پھیلانے کی مبینہ سرگرمیوں کے خلاف اہم اقدام کرتے ہوئے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 150 سرگرم ارکان اور سہولت کاروں کو فورتھ شیڈول میں شامل کر دیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ داخلہ حکومت آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کابینہ کے 41ویں اجلاس میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے وابستہ سرگرم عناصر کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی، جس کے بعد محکمہ داخلہ نے قانونی کارروائی مکمل کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت کارروائی
نوٹیفکیشن کے مطابق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرگرم عناصر کو آزاد جموں و کشمیر اینٹی ٹیررازم ایکٹ 2014 کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق فورتھ شیڈول میں شامل کیے جانے والے افراد کی سرگرمیوں پر خصوصی نگرانی رکھی جائے گی اور قانون کے مطابق ان پر مختلف پابندیاں عائد ہوں گی۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں اور مبینہ سرغناؤں میں شوکت نواز، راجہ امجد، انجم زمان اور راجہ شعیب کے نام بھی فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں۔
مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد فہرست میں شامل
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق فورتھ شیڈول میں شامل افراد کا تعلق آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع سے ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق:
- ضلع پونچھ سے 36 افراد
- ضلع سدھنوتی سے 31 افراد
- ضلع میرپور سے 14 افراد
- ضلع کوٹلی سے 15 افراد
- ضلع بھمبر سے 10 افراد
- ضلع حویلی سے 8 افراد
- راولاکوٹ سے 36 افراد
- ضلع باغ سے 15 افراد
- ضلع جہلم ویلی سے 9 افراد
- ضلع نیلم سے 8 افراد
کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کی سرگرمیوں کا ریکارڈ اور سیکیورٹی اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
فورتھ شیڈول کیا ہے؟
محکمہ داخلہ کے مطابق فورتھ شیڈول ایک قانونی طریقہ کار ہے جس کے تحت ایسے افراد کو نگرانی کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے جن کے بارے میں ریاستی اداروں کو امن و امان، عوامی سلامتی یا ممکنہ شرپسند سرگرمیوں کے حوالے سے خدشات ہوں۔
فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نقل و حرکت، اجتماعات میں شرکت، سرگرمیوں اور بعض دیگر معاملات پر قانون نافذ کرنے والے ادارے خصوصی نظر رکھتے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بدامنی یا امن عامہ کے مسئلے کو بروقت روکا جا سکے۔
امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی
محکمہ داخلہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر عوامی حقوق اور جمہوری آزادیوں کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے، تاہم عوامی حقوق کی آڑ میں امن و امان کو نقصان پہنچانے، ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کرنے یا انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
حکام کے مطابق ایسی سرگرمیوں کے خلاف "زیرو ٹالرنس پالیسی” اختیار کی جا رہی ہے اور ریاست میں امن و استحکام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
احتجاجی کال کو عوامی پذیرائی نہ مل سکی
دوسری جانب حکومتی ذرائع کے مطابق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال کو عوامی سطح پر خاطر خواہ پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ باغ اور راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں احتجاج کے لیے مختص مقامات پر عوام کی بڑی تعداد شریک نہیں ہوئی، جس کے باعث احتجاجی سرگرمیاں محدود رہیں۔
حکام کے مطابق احتجاج کے لیے مختص کئی مقامات پر میدان خالی رہے اور عوام نے معمولاتِ زندگی جاری رکھے۔
عوام نے انتشار کی سیاست کو مسترد کر دیا، حکومتی مؤقف
حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام نے احتجاج میں عدم شرکت کے ذریعے انتشار، تصادم اور بدامنی کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے باشعور عوام امن، ترقی اور استحکام کے خواہاں ہیں اور وہ کسی ایسی سرگرمی کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں جو ریاست میں کشیدگی یا بدامنی کا باعث بنے۔
حکام کے مطابق عوام نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون اور ریاستی اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جو آزاد کشمیر میں امن و استحکام کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔
حکومت کا امن و استحکام برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ
حکومت آزاد جموں و کشمیر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق قانون سے بالاتر کسی فرد یا گروہ کو نہیں سمجھا جائے گا اور ریاستی امن کو متاثر کرنے والی ہر سرگرمی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے مفادات، ریاستی استحکام اور امن عامہ کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام قانونی اور انتظامی وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔



