پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

کابل کے فائیو سٹار ہوٹل میں مبینہ پاکستان مخالف عسکریت پسندوں کی پناہ گاہ سے لطف اندوز ہونے کا بصری ثبوت

افغان سرزمین کے مبینہ استعمال سے متعلق پاکستان کے خدشات ایک بار پھر توجہ کا مرکز، سکیورٹی ماہرین نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

کابل کے معروف اور پرتعیش انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں مبینہ طور پر پاکستان مخالف عسکریت پسند تنظیم سے وابستہ افراد کی موجودگی ظاہر کرنے والی ایک تصویر منظر عام پر آنے کے بعد خطے کی سلامتی، سرحد پار دہشت گردی اور افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

سکیورٹی ذرائع اور بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سامنے آنے والی تصویر پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کو تقویت دیتی ہے جس میں بارہا دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان مخالف عسکریت پسند عناصر افغان سرزمین کو اپنی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم اس تصویر اور اس میں موجود افراد کی شناخت کے بارے میں آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔

تصویر میں کون نظر آ رہا ہے؟

ذرائع کے مطابق تصویر میں کالعدم حافظ گل بہادر گروپ سے منسلک قرار دی جانے والی شخصیات کو کابل کے ایک معروف فائیو سٹار ہوٹل کے سوئمنگ پول کے قریب دیکھا جا سکتا ہے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تصویر میں گروپ کے مبینہ سربراہ ابو سفیان کاروان، صدر حیات المعروف ابو سفیان، کمانڈر جلالی، کمانڈر رہبر اور وزیرستانی سمیت دیگر افراد موجود ہیں۔

تصویر میں نظر آنے والے افراد ایک پُرسکون اور غیر رسمی ماحول میں دکھائی دیتے ہیں، جس پر سکیورٹی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اگر ان افراد کی شناخت درست ثابت ہوتی ہے تو وہ افغانستان کے دارالحکومت میں اتنی آزادی کے ساتھ کیسے موجود ہیں۔

پاکستان کے تحفظات

پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ سرحد پار سے سرگرم بعض عسکریت پسند گروہ پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کے خلاف حملوں میں ملوث ہیں اور ان کے نیٹ ورک افغانستان میں موجود ہیں۔

اسلام آباد متعدد مواقع پر افغان حکام سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور افغان سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیاں اس وقت متاثر ہوتی ہیں جب سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ نہ کیا جائے۔

افغان حکومت کا مؤقف

افغان طالبان حکومت ماضی میں پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے اور اس کا مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

کابل نے بارہا کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کوشاں ہے اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کو حقائق اور شواہد کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

تاہم نئی تصویر سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ افغانستان میں سرگرم مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی اور نقل و حرکت کی نوعیت کیا ہے۔

علاقائی سلامتی کے لیے اہم سوالات

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر تصویر میں موجود افراد کی شناخت مستند ذرائع سے ثابت ہو جاتی ہے تو یہ معاملہ نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے اہم سوالات کھڑے کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں مطلوب یا کالعدم تنظیموں سے وابستہ عناصر کی آزادانہ نقل و حرکت خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو بڑھا سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس کا پس منظر

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کی مختلف مانیٹرنگ رپورٹس افغانستان میں متعدد مسلح اور دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کے خدشات کا ذکر کرتی رہی ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے عالمی سطح پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور اقوام متحدہ سمیت مختلف ادارے وقتاً فوقتاً اس بارے میں رپورٹس جاری کرتے رہے ہیں۔

سفارتی اور سکیورٹی اثرات

تجزیہ کاروں کے مطابق کابل میں سامنے آنے والی یہ تصویر، اگر اس کی مکمل تصدیق ہو جاتی ہے، تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سکیورٹی مذاکرات اور سرحدی تعاون کے معاملات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر حتمی نتائج اخذ کرنے سے قبل تصویر، افراد کی شناخت اور اس کے پس منظر کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔

خطے کی توجہ اس معاملے پر مرکوز

مبصرین کے مطابق حالیہ تصویر نے ایک بار پھر خطے میں دہشت گردی، سرحد پار عسکریت پسندی اور علاقائی سلامتی کے مسائل کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ پاکستان، افغانستان اور بین الاقوامی برادری کے لیے یہ معاملہ مستقبل میں سکیورٹی تعاون، انٹیلی جنس رابطوں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کے تناظر میں اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button