یورپتازہ ترین

یورپ میں ایئر کنڈیشنرز کا بڑھتا رجحان: موسمیاتی تبدیلی نے رہائشی طرزِ تعمیر اور پالیسیوں کو نئے چیلنج سے دوچار کر دیا

شدید گرمی کی نئی حقیقت نے یورپ کے روایتی رہائشی نظام کو بدلنا شروع کر دیا

جواد احمد-جرمنی،وائس آف جرمنی اردو نیوز

برلن: امریکہ اور ایشیا کے کئی ممالک کے برعکس جرمنی اور شمالی یورپ کے بیشتر گھروں میں روایتی طور پر ایئر کنڈیشننگ سسٹم موجود نہیں تھا، کیونکہ ان خطوں میں معتدل موسم اور نسبتاً ٹھنڈی گرمیاں عام تھیں۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی شدید گرمی، طویل ہیٹ ویوز اور مسلسل بلند درجہ حرارت نے اس صورتحال کو تیزی سے تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یورپ اب ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں ایئر کنڈیشنر کو لگژری کے بجائے بنیادی ضرورت سمجھا جانے لگا ہے، جبکہ حکومتوں اور تعمیراتی شعبے کو بھی نئی موسمی حقیقت کے مطابق اپنی پالیسیوں اور تعمیراتی ڈیزائن میں بنیادی تبدیلیاں لانا پڑ رہی ہیں۔


امریکہ اور یورپ میں ایئر کنڈیشننگ کے استعمال میں نمایاں فرق

امریکی محکمہ توانائی کے مطابق امریکہ میں تقریباً 90 فیصد گھروں میں ایئر کنڈیشننگ کا نظام نصب ہے، جبکہ یورپ میں مجموعی طور پر صرف 20 فیصد گھروں میں کولنگ سسٹم موجود ہے۔

یورپ کے اندر بھی مختلف ممالک میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔

  • اسپین میں تقریباً نصف گھروں میں ایئر کنڈیشنرز موجود ہیں۔
  • اٹلی اور یونان جیسے جنوبی یورپی ممالک میں بھی کولنگ سسٹمز نسبتاً عام ہیں۔
  • جرمنی میں صرف 6 فیصد گھروں میں ایئر کنڈیشنرز نصب ہیں۔
  • شمالی یورپ کے ممالک میں یہ شرح اس سے بھی کم رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فرق بنیادی طور پر مختلف موسمی حالات اور تاریخی تعمیراتی روایات کا نتیجہ ہے۔


کیوں یورپ میں ایئر کنڈیشنرز کو غیر ضروری سمجھا جاتا رہا؟

کئی دہائیوں تک شمالی یورپ میں ایئر کنڈیشنرز کو ایک اضافی سہولت سمجھا جاتا تھا۔

اس کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں:

  • مختصر اور نسبتاً ٹھنڈی گرمیاں
  • زیادہ تر سال سرد موسم
  • توانائی کے اخراجات میں بچت
  • ماحول دوست طرز زندگی
  • روایتی تعمیراتی ڈیزائن

اسی لیے زیادہ تر عمارتیں سردیوں میں حرارت محفوظ رکھنے کے لیے بنائی جاتی رہیں، جبکہ گرمی سے بچاؤ کو تعمیراتی ترجیحات میں شامل نہیں کیا گیا۔


موسمیاتی تبدیلی نے صورتحال یکسر بدل دی

گزشتہ چند برسوں میں یورپ مسلسل شدید گرمی کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔

یورپی تحقیقاتی ادارے "کلیما میٹر” کے حالیہ تجزیے کے مطابق جون 2026 میں یورپ کے کئی حصوں میں درجہ حرارت بیسویں صدی کے آخری عشروں کے مقابلے میں 2 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک وقتی موسمی واقعہ نہیں بلکہ عالمی حدت (Global Warming) کا براہِ راست نتیجہ ہے۔


جرمنی میں ایئر کنڈیشنرز کی طلب میں غیر معمولی اضافہ

جرمنی میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق:

  • 2019 سے 2024 کے درمیان
  • ایئر کنڈیشنرز اور کولنگ یونٹس کی فروخت میں 75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ہیٹنگ، وینٹیلیشن، کولنگ اور ریفریجریشن انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم یورووینٹ کا کہنا ہے کہ پورے یورپ میں کولنگ ٹیکنالوجی کی مارکیٹ مسلسل وسعت اختیار کر رہی ہے۔


شدید گرمی اب صحتِ عامہ کا مسئلہ بن چکی ہے

یورووینٹ کے نائب سیکرٹری جنرل شٹائن رینےبوگ کا کہنا ہے کہ آج بھی سوشل میڈیا پر اکثر لوگوں کو ایئر کنڈیشنرز استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ سوچ اب حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی۔

انہوں نے کہا کہ:

"شدید گرمی اب صرف موسم کا حصہ نہیں رہی بلکہ صحتِ عامہ کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔”

ان کے مطابق یورپ میں ہر سال گرمی سے متعلق بیماریوں اور ہیٹ ویوز کے باعث دسیوں ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔


یورپی گھروں کا ڈیزائن گرمی برداشت کرنے کے لیے موزوں نہیں

جرمنی اور شمالی یورپ کے بیشتر مکانات اس مقصد کے تحت تعمیر کیے گئے تھے کہ:

  • سردیوں میں حرارت محفوظ رہے۔
  • توانائی کی بچت ہو۔
  • ہیٹنگ کے اخراجات کم ہوں۔

لیکن یہی خصوصیات گرمیوں میں عمارتوں کو زیادہ گرم بنا دیتی ہیں کیونکہ:

  • موٹی دیواریں حرارت جذب کرتی ہیں۔
  • کھڑکیاں محدود ہوتی ہیں۔
  • قدرتی وینٹیلیشن کم ہوتی ہے۔
  • کولنگ کے لیے مناسب ڈیزائن موجود نہیں۔

لوگ اب شیڈنگ اور انسولیشن کے ساتھ ایئر کنڈیشنرز بھی نصب کر رہے ہیں

ایک حالیہ یورپی سروے کے مطابق تقریباً نصف شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھر شدید گرمی کے دوران مناسب حد تک ٹھنڈے نہیں رہتے۔

اسی لیے لوگ اب مختلف طریقے اپنا رہے ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • بہتر شیڈنگ
  • جدید انسولیشن
  • سورج کی روشنی روکنے والی کھڑکیاں
  • ہیٹ پمپس
  • ایئر کنڈیشنرز کی تنصیب

یورپ میں ایئر کنڈیشنرز کا دور شروع ہو چکا ہے

ماحولیات اور گرین انرجی کے ماہر ہیلگے برنکمان کے مطابق:

"یورپ میں ایئر کنڈیشنر کے محدود استعمال کا دور اب اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی نے یورپ کی کولنگ انڈسٹری کے لیے ایک نئی مارکیٹ پیدا کر دی ہے۔


پرانی عمارتوں میں کولنگ سسٹم لگانا آسان نہیں

رپورٹ کے مطابق یورپ کی بڑی تعداد میں رہائشی عمارتیں کئی دہائیاں پرانی ہیں۔

ان میں ایئر کنڈیشننگ نصب کرنے میں متعدد مشکلات پیش آتی ہیں، مثلاً:

  • محدود جگہ
  • پرانی بجلی کی وائرنگ
  • تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے قوانین
  • عمارتوں کی بیرونی ساخت میں تبدیلی پر پابندیاں

اس کے برعکس نئی رہائشی اور تجارتی عمارتوں میں جدید کولنگ سسٹمز آسانی سے شامل کیے جا سکتے ہیں۔


تاریخی شہروں میں ضابطہ جاتی پابندیاں بھی رکاوٹ

رپورٹ کے مطابق پیرس، برلن، ویانا، پراگ اور دیگر تاریخی شہروں میں عمارتوں کی اصل خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے سخت قوانین نافذ ہیں۔

اسی وجہ سے:

  • بیرونی یونٹ لگانے کی اجازت محدود ہوتی ہے۔
  • عمارت کی ظاہری شکل تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
  • تاریخی ورثے کے تحفظ کے قوانین کولنگ سسٹمز کی تنصیب کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

کرایہ دار بھی مشکلات کا شکار

یورپ کے کئی ممالک میں بڑی تعداد میں لوگ کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں۔

ایسے افراد کو اکثر درج ذیل مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے:

  • مالک کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
  • قانونی پابندیاں موجود ہوتی ہیں۔
  • مستقل سرمایہ کاری سے گریز کیا جاتا ہے۔
  • ایئر کنڈیشنر کی تنصیب مہنگی ثابت ہوتی ہے۔

توانائی کی بڑھتی قیمتیں ایک بڑا مسئلہ

اگرچہ ایئر کنڈیشنرز کی مانگ بڑھ رہی ہے، لیکن بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے ان کا استعمال مہنگا بنا دیا ہے۔

یورپی یونین کے ایک سروے کے مطابق:

38 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اپنے گھروں کو مناسب حد تک ٹھنڈا رکھنے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔


کم آمدنی والے طبقے پر زیادہ دباؤ

2020 میں اٹلی کے محققین کی ایک تحقیق، جس میں فرانس، اسپین، سویڈن اور نیدرلینڈز سمیت متعدد ممالک کا جائزہ لیا گیا، اس نتیجے پر پہنچی کہ جیسے جیسے کولنگ ایک بنیادی ضرورت بنتی جائے گی، کم آمدنی والے خاندان سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق اگر حکومتیں مناسب سبسڈی اور توانائی کی مؤثر پالیسیاں نہ بنائیں تو "کولنگ پوورٹی” (Cooling Poverty) ایک نیا سماجی مسئلہ بن سکتی ہے۔


کولنگ کو بنیادی انسانی ضرورت قرار دینے کا مطالبہ

یورووینٹ کے نائب سیکرٹری جنرل شٹائن رینےبوگ کا کہنا ہے کہ جس طرح سردیوں میں گھروں کو گرم رکھنا ایک بنیادی انسانی ضرورت سمجھا جاتا ہے، اسی طرح شدید گرمی میں عمارتوں کو محفوظ حد تک ٹھنڈا رکھنا بھی صحتِ عامہ اور سماجی تحفظ کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔

ان کے بقول:

"اب وقت آ گیا ہے کہ گرمیوں میں محفوظ حد تک ٹھنڈک فراہم نہ کر سکنا بھی ایک سنگین سماجی اور صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر تسلیم کیا جائے۔”


نتیجہ: موسمیاتی تبدیلی نے یورپ کے طرزِ زندگی کو نئی سمت دے دی

موسمیاتی تبدیلی نے یورپ کے روایتی رہائشی ماڈل، تعمیراتی ڈیزائن، توانائی کی پالیسیوں اور شہری زندگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ جہاں کبھی ایئر کنڈیشنر کو محض ایک آسائش تصور کیا جاتا تھا، وہاں اب یہ شدید گرمی، ہیٹ ویوز اور صحت کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر ایک ناگزیر ضرورت بنتا جا رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں توقع ہے کہ یورپ میں توانائی کے مؤثر، ماحول دوست اور کم بجلی استعمال کرنے والے جدید کولنگ سسٹمز کی مانگ میں مزید اضافہ ہوگا، جبکہ حکومتوں کو شہریوں کے لیے محفوظ، پائیدار اور قابلِ برداشت کولنگ سہولیات فراہم کرنے کی سمت میں جامع پالیسیاں اپنانا ہوں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button