
کپتان مہدی طارمی نے کہا کہ یہ ورلڈ کپ ان کے لیے کھیل سے زیادہ مشکلات کا سبب بنا۔ انہوں نے کہا کہ بار بار شکایت کے باوجود کوئی مدد نہیں ملی اور ہر میچ کے بعد فوری روانگی کی شرط نے کھلاڑیوں کی تیاری اور بحالی کو شدید متاثر کیا۔

گروپ مرحلہ: تین میچ ڈرا، ایک منسوخ گول
میدان میں ایران نے تینوں میچ برابر کھیلے اور تین پوائنٹس حاصل کیے۔ فیصلہ کن لمحہ مصر کے خلاف آخری میچ میں آیا جب اضافی وقت کے تیسرے منٹ میں شجاع خلیل زادہ نے گول کیا لیکن ویڈیو ریویو نے چند لمحوں بعد گول منسوخ کر دیا۔ خلیل زادہ کا پاؤں آف سائیڈ لائن سے معمولی آگے تھا۔
کوچ امیر قلعهنوئی نے کہا، ”فیصلہ قوانین کے مطابق تھا لیکن چند ملی میٹر کے فرق نے ہماری قسمت بدل دی۔‘‘
آخری امید بھی دم توڑ گئی
اگلے مرحلے میں جانے کے لیے ایران کو آسٹریا اور الجزائر کے میچ کے نتیجے پر انحصار کرنا تھا۔ اگر کوئی ایک ٹیم جیتتی تو ایران بہترین تیسرے نمبر کی ٹیموں میں جگہ بنا سکتا تھا لیکن وہ میچ 3-3 کی برابری پر ختم ہوا۔ الجزائر چھٹے نمبر پر آیا اور ایران آٹھ بہترین ٹیموں میں جگہ نہ بنا سکا۔

سیاست کا سایہ
ایران اس ورلڈ کپ میں ایسے وقت شریک ہوا جب ملک میزبان امریکہ کے ساتھ سنگین تنازعات میں الجھا ہوا تھا۔ ٹیم نے کوشش کی کہ میدان کے باہر کی کشیدگی کھیل کو متاثر نہ کرے لیکن سفری پابندیوں، ویزوں کی رکاوٹو اور مستقل نگرانی نے پوری مہم کو متاثر کیے رکھا۔
کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کے مطابق یہ ورلڈ کپ میدان سے زیادہ میدان کے باہر کی رکاوٹوں کا امتحان تھا، ایک امتحان جس میں انہیں شکست ہوئی۔




