مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران جنگ کے ابوظہبی کے اے آئی عزائم پر ممکنہ اثرات

ڈیٹا سینٹرز اب اہم قومی انفراسٹرکچر بن چکے ہیں، اس لیے ان کی حفاظت بھی آئل ریفائنریوں اور ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے) پلانٹس کی طرح مؤثر انداز میں کی جانا چاہیے

ژینا کلائن وورٹ
ابوظہبی کے یو اے ای کو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت کا عالمی مرکز بنانے کے عزائم ایران جنگ کے باعث دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس خلیجی ریاست پر جنگ کے اثرات کے باوجود سبھی کچھ تو نہیں بدلا۔
ابوظہبی کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا عالمی مرکز بنانے کے عزائم، جنہیں ‘یو اے ای اے آئی اسٹریٹیجی 2031‘ کا نام دیا گیا ہے، ایران جنگ کے باعث دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔
جب متحدہ عرب امارات نے 2017 میں عمر سلطان العلماء کو دنیا کا پہلا وزیر مملکت برائے مصنوعی ذہانت مقرر کیا، تو انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ یو اے ای کو مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے لیے دنیا کا سب سے زیادہ تیار ملک بنا دیا جائے گا۔ صرف چھ سال بعد عمر سلطان العلماء کو ٹائم میگزین کی پہلیTIME100 AI فہرست میں شامل کیا گیا، جبکہ ابوظہبی تب تک اپنی ڈیجیٹل حکمت عملی پر تیزی سے عمل درآمد کر رہا تھا۔
تاہم فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد حالات بدل گئے۔ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات ایرانی حملوں کے لیے اہم عسکری اہداف والے ممالک میں شامل ہو گیا، جہاں ایران نے ہزاروں میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ان حملوں کا نشانہ ایمیزون، گوگل، مائیکروسافٹ اور این ویڈیا جیسی عالمی کمپنیوں کے مقامی دفاتر اور ڈیٹا سینٹرز بھی بنے۔
جرمن تھنک ٹینک کارپو کے سینئر محقق سباستیان زونز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ڈیٹا سینٹرز اب اہم قومی انفراسٹرکچر بن چکے ہیں، اس لیے ان کی حفاظت بھی آئل ریفائنریوں اور ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے) پلانٹس کی طرح مؤثر انداز میں کی جانا چاہیے۔‘‘
متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں 10 دسمبر 2025 کو منعقدہ دنیا کے سب سے بڑے افتتاحی میڈیا ایونٹ "برج سمٹ” کے دوران لمکس ڈائنامکس ہیومنائیڈ روبوٹکس کمپنی کے اسٹال پر ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) روبوٹ کی نمائش کی جا رہی ہےمتحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں 10 دسمبر 2025 کو منعقدہ دنیا کے سب سے بڑے افتتاحی میڈیا ایونٹ "برج سمٹ” کے دوران لمکس ڈائنامکس ہیومنائیڈ روبوٹکس کمپنی کے اسٹال پر ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) روبوٹ کی نمائش کی جا رہی ہے
ماہرین کے مطابق اس خلیجی ریاست پر جنگ کے اثرات کے باوجود سب کچھ ہی تبدیل نہیں ہوا۔ واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے سینئر فیلو محمد سلیمان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سیاسی خطرات کا پروفائل تبدیل ہوا ہے، تاہم بنیادی حقیقتیں اب بھی وہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”متحدہ عرب امارات اب بھی مشرق اور مغرب کے درمیان سرمایہ کاری کے بہاؤ کے مرکز میں واقع ہے، اور اس کے پاس توانائی، زمین اور سیاسی ارادہ موجود ہیں کہ وہ بڑے پیمانے پر اپنی اے آئی صلاحیتیں مسلمہ بنوا سکے۔‘‘
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی خطہ اس سے پہلے بھی مختلف بحرانوں سے گزرا ہے۔ جیسے کہ 2000 کی دہائی کے آخر کا مالی بحران، کووڈ-19 کی وبا، اور ماضی کی خلیجی جنگیں، جنہوں نے خطے کے کاروباری ماڈل کو سخت آزمائش میں ڈال دیا تھا۔
سباستیان زونز کے مطابق ان تمام بحرانوں کے دوران متحدہ عرب امارات نے نمایاں لچک دکھائی اور خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے اور حکمت عملی تبدیل کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
ان کے مطابق طویل المدتی نقصان اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہے اور متحدہ عرب امارات اپنے کاروباری ماڈل کو اس کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ قلیل، درمیانی اور طویل مدت میں یو اے ای کی ‘گلوبل کمپیوٹ ڈپلومیسی‘ نامی حکمت عملی کس سمت میں جائے گی۔
ابوظہبی کے اس بڑے وژن کے مرکز میںG42 ہے، جو 2018 میں قائم ہونے والا اربوں ڈالر کا ایک مقامی کنسورشیم ہے۔ یہ ادارہ مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں مہارت رکھتا ہے اور متحدہ عرب امارات کی ڈیجیٹل ترقی کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔
2019 میں متحدہ عرب امارات نے محمد بن زید یونیورسٹی آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس قائم کی تھی، جو دنیا کی پہلی گریجویٹ سطح کی جامع اے آئی یونیورسٹی ہے۔ اس کا مقصد اسے مشرق وسطیٰ کا ”اسٹینفورڈ‘‘ بنانا ہے۔
کچھ عرصے تک متحدہ عرب امارات نے خود کو امریکہ اور چین کے درمیان ایک ٹیکنالوجی ‘سوِنگ اسٹیٹ‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش بھی کی۔ تاہم واشنگٹن کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد 2023 میں، انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق، یو اے ای نے چین کے ساتھ تمام اے آئی روابط ختم کر دیے۔
مختلف صنعتی ذرائع کے مطابق اس وقت متحدہ عرب امارات میں 35 سے 58 تک ڈیٹا سینٹرز فعال ہیں، جو ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
تجزیہ کار سباستیان زونز کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اس شعبے میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کر دی ہے کہ اب اس راستے سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ اب صرف ایک اختیاری یا اضافی حکمت عملی نہیں بلکہ اس کا مقصد عالمی سطح پر ایک ناگزیر اور مرکزی کھلاڑی بننا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button