
سائبر کرائم پر کنٹرول یا آزاد ی صحافت پر قدغن……پیر مشتاق رضوی
صحافتی تنظیموں عدم تحفظ کا اظہار کرتے ہوۓ مؤقف اختیار کیا کہ پیکا ایکٹ "فیک نیوز" کی آڑ میں اختلاف رائے دبانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے
پاکستان میں سائبر جرائم روکنے کے لیے بننے والا یہ قانون پیکا ایکٹ "Prevention of Electronic Crimes Act” یعنی گزشتہ چند برسوں میں سب سے زیادہ متنازعہ قانون بن چکا ہے۔ 2016ء میں سائبر جرائم روکنے کے لیے بننے والا یہ قانون 2025ھ کی ترامیم کے بعد حکومت، صحافیوں اور وکلا کے درمیان وجہ اختلاف بن گیا ہے۔ پیکا ایکٹ کا بظاہر مقصد انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ہونے والے جرائم کو روکنا ہے جسمیں سائبر جرائم مثلا” ہیکنگ، سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کرنا، نجی تصاویر/ویڈیوز شیئر کرنا، آن لائن ہراسانی و بلیک میلنگ، جھوٹی خبر پھیلانا، نفرت انگیز مواد، سائبر دہشت گردی اور آن لائن مالی فراڈ وغیرہ شامل ہیں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اور 2025ء کی ترامیم کے بعد NCCA نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی اس قانون کے تحت FIRs درج کرنے اور تحقیقات کرنےکا مجاز ادارہ ہے۔ اس ایکٹ کے اہم قانونی نکات: مطابق کسی کی عزت اچھالنا جرم ہے،خواتین و بچوں کی آن لائن ہراسانی پرسخت سزائیں دینا ،غیر قانونی اکاؤنٹ رسائی جرم ہے ملزم کو آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہےپیکا ایکٹ کے بارے حکومت کا مؤقف ہے کہ "ذمہ دار ڈیجیٹل پاکستان کےلیے یہ قانون ضروری ہے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے 2025ء کی ترامیم کا دفاع کرتےہوئے کہاتھا کہ اس کا مقصدجعلی خبریں، ہراسانی،چائلڈ ابیوزاورقومی سلامتی کے خطرات روکنا ہےحکومت نے”ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی” اور "سوشل میڈیاپروٹیکشن ٹربیونلز” بنانے کی تجویز دی تھی اس قانون کے تحت جھوٹی خبر پھیلانے پر 3 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ، اتھارٹی کو مواد ہٹانے کا اختیار ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ٹربیونل کے فیصلے ہائی کورٹ میں چیلنج ہوسکتے ہیں اور وہ صحافیوں سے مشاورت کے لیے تیار ہے۔ جبکہ صحافتی تنظیموں کا ردعمل کے مطابق یہ "کالا قانون "ہے صحافتی تنظیوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی جس میں PFUJ, APNS, CPNE, AEMEND شامل ہیں، نے بل کو متفقہ طور پر مسترد کر دیاتھا کہ مشاورت کے بغیر قانون سازی کی گئ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا پیکا ایکٹ "آرٹیکل 19” کی خلاف ورزی ہے اور آزادی اظہار پر پابندی کے مترادف ہے صحافتی تنظیموں عدم تحفظ کا اظہار کرتے ہوۓ مؤقف اختیار کیا کہ پیکا ایکٹ "فیک نیوز” کی آڑ میں اختلاف رائے دبانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے پیکا ایکٹ کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) نے بھر پور احتجاج کیا تھا اور عدالت میں چیلنج کا اعلان کیاتھاکراچی پریس کلب میں سینئر سیاستدان رضا ربانی نے کہا تھا کہ یہ قانون ملک میں جمہوری اقدار کے لیے جگہ کم کر رہا ہے بار ایسوسی ایشنز کی طرف سے پیکا ایکٹ کی بھر پور مخالفت کی تھی وکلا کی تمام بڑی تنظیمیں صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پیکا ترمیمی ایکٹ 2025ء کو "ناقص قانون” قرار دے کر اسے آئین کے آرٹیکل 19، ICCPR کے آرٹیکل 19 اور آئین کے آرٹیکلز 4, 9, 10-A کے خلاف قراردیااور حکومت سے فوری واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ 2022ء میں بھی نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پیکا آرڈیننس کو "آمرانہ ذہنیت” قرار دیا تھا لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل ہاؤس نے پیکا ترامیم کو مسترد کر کے اسے "غیر آئینی” قرار دیا لاہور بار ایسوسی ایشن کے اس وقت کے صدر مبشر رحمان نے اسے "انسانی حقوق کی خلاف ورزی” کہا اور ریلی نکالی۔ ان کا کہنا تھا کہ "قانونی پیشہ اور صحافت دونوں کو دبایا جا رہا ہے”سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نےاسےطاقت کا "رنگین استعمال” اور "فاشسٹ حکومتوں کی عکاسی” قرار دیاتھا پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں پر کتنے مقدمات قائم کیے گیے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صحافیوں پر اس کالے قانون کے تحت مقدمات کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے سینیٹ قائمہ کمیٹی کی اگست 2025ء رپورٹ کے مطابق کل 689 پیکا مقدمات میں سے 9 صحافی شامل تھے۔ ان میں سے صرف ایک کو گرفتار کیا گیا دیگر7 ملک سے باہر تھے NCCIA نے ستمبر 2025ء میں 1,214 کل مقدمات درج کیے جن میں سے 10 صحافی شامل تھے سینیٹ کی سب کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق صحافی، میڈیا ورکرز اور ایکٹوسٹس کے خلاف 41 مقدمات درج ہوئے۔ اسلام آباد 9، راولپنڈی 2،کراچی میں ایک صحافی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا غیر سرکاری رپورٹسفریڈم نیٹ ورک کے مطابق نومبر 2024ء سے ستمبر 2025ء تک 30 صحافیوں پر 36 مقدمات بنے۔ پاکستان پریس فاؤنڈیشن نے جنوری 2025ء سے اپریل 2026ء تک 67 مجرمانہ شکایات میں سے 34 پیکا کے تحت بتائیں جبکہ سینیٹ کو بتایا گیا کہ صحافیوں کے خلاف درج 13ایف آئی آرز میں سے 11 ابتدائی تفتیش کے بعد خارج کر دی گئیں۔ زیادہ تر مقدمات "ریاست مخالف بیانیہ” یا "فیک نیوز” کے الزام میں بنے۔ گذشتہ ماہ NCCA نے ملتان مین روزنامہ” بیٹھک” کے دفتر پر ایک دن میں دو بار چھاپے مارے جس پر صحافتی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا تھا واضح رہے کہ پیکا ایکٹ کا بنیادی مقصد سائبر کرائم روکنا ہے، لیکن 2025ء کی ترامیم کے بعد یہ آزادی اظہار، صحافت اور وکلا کی آزادی کے تنازعے کا مرکز بن گیا ہے۔حکومت اسے "تحفظ کا قانون” کہتی ہے،جبکہ SCBA, PBC, PFUJ اور تمام بڑی صحافتی تنظیمیں اسے "بلیک لا” قرار دے کر واپسی کا مطالبہ کر رہی ہیں ڈیجیٹل آزادی کے ساتھ ذمہ داری لازم ہے، لیکن وہ ذمہ داری آئین کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ڈیجیٹل دور میں موبائل اور انٹرنیٹ ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسی کے ساتھ سائبر جرائم، ہراسانی، فراڈ اور جھوٹی خبروں میں بھی اضافہ ہوا ہےان خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان میں 2016ء میں” یعنی پیکا ایکٹ نافذ کیا گیا۔پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ بننے پر بھی ملزم کو پاکستان کے آئین کے مطابق منصفانہ ٹرائل، وکیل اور دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ حالیہ برسوں میں پیکا میں ترامیم کے بعد اس قانون پر قومی سطح پر بحث ہوئی ہے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ سائبر جرائم،ت خواتین کی ہراسانی، بچوں کے استحصال اور جعلیر خبروں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے ایک سخت قانون ناگزیر تھا۔ جبکہ صحافتی اورب انسانی حقوق کی بعض تنظیموں نے اظہارِ رائے کی آزادی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ قانون کا استعمال شفاف اور غلط استعمال سے پاک ہونا چاہیے۔ پیکا ایکٹ کے حوالے سے ہر شہری کے لیے بھی اہم احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازم ہے کوئی بھی خبر، ویڈیو یا اسکرین شاٹ شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں۔ کسی کی نجی تصاویر، چیٹ یا معلومات اس کی اجازت کے بغیرشیئر کرناجرم ہے سوشل میڈیا پر دھمکی آمیز، توہین آمیز یا نفرت انگیز مواد پوسٹ نہ کریں۔ اگر کوئی شہری سائبر کرائم کا شکار ہو یابلیک میلنگ کا شکار ہویا اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو فوراً FIA Cyber Crime Wing سے رابطہ کریں۔ ہیلپ لائن اور آن لائن پورٹل موجود ہے۔ڈیجیٹل دنیا نے ہمیں بے پناہ آزادی دی ہے، لیکن اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔ یاد رکھیے ایک غلط کلک، ایک غلط شیئر یا ایک غلط کمنٹ آپ کو قانونی مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔ سرکار کے مطابق ”پیکا ایکٹ” کا مقصد آزادی اظہار پر پابندی نہیں، بلکہ ڈیجیٹل اسپیس کو محفوظ، ذمہ دار اور قانون کے دائرے میں رکھنا ہے۔ اس لیے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے قانون کا احترام اور دوسروں کی پرائیویسی کا خیال رکھنا ہر پاکستانی شہری کی ذمہ داری ہے۔#


