
پاکستان:کاہنہ میں دل دہلا دینے والا سانحہ، تعلیمی ادارہ ماتم کدہ بن گیا
لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی عمارت کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، متعدد زخمی؛ مالک مکان سمیت 12 افراد حراست میں، تحقیقات شروع
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
لاہور کے نواحی علاقے کاہنہ میں کچوانہ روڈ پر واقع ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی عمارت کی چھت اچانک گرنے سے ایک ہولناک سانحہ پیش آیا، جس میں کم از کم 14 بچے جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور والدین اپنے بچوں کی تلاش میں جائے وقوعہ اور اسپتالوں کا رخ کرتے رہے۔
ریسکیو ٹیموں، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں، جبکہ ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے کے لیے کئی گھنٹوں تک مشترکہ آپریشن جاری رہا۔
حادثہ کیسے پیش آیا؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ٹیوشن سینٹر میں بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات کلاسز میں موجود تھے۔ اچانک عمارت کی چھت زور دار آواز کے ساتھ زمین بوس ہو گئی، جس کے نتیجے میں درجنوں بچے ملبے تلے دب گئے۔
واقعے کے فوراً بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹانے میں مصروف ہو گئے، جبکہ ریسکیو 1122، پولیس اور دیگر امدادی اداروں کو فوری اطلاع دی گئی۔
14 بچوں کی موت، زخمیوں کو فوری اسپتال منتقل کیا گیا
تحصیل ہیڈ کوارٹرز (ٹی ایچ کیو) اسپتال کاہنہ کے ذرائع کے مطابق حادثے میں مجموعی طور پر 19 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ٹی ایچ کیو کاہنہ نے تصدیق کی کہ:
- 14 بچے جان کی بازی ہار گئے۔
- جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں تقریباً 15 سال یا اس سے کم تھیں۔
- پانچ زخمی بچے زیر علاج ہیں۔
- زیر علاج بچوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق بیشتر بچوں کو سر، سینے اور جسم کے مختلف حصوں پر شدید چوٹیں آئیں، جبکہ کئی متاثرین کو ملبے سے انتہائی تشویشناک حالت میں نکالا گیا۔
ریسکیو آپریشن، پولیس اور اہل علاقہ کا مشترکہ کردار
حادثے کے بعد ریسکیو 1122، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور مقامی شہریوں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔
ابتدائی چند منٹوں میں اہل علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت:
- ملبہ ہٹایا،
- زخمی بچوں کو باہر نکالا،
- ایمبولینسوں تک منتقل کیا۔
بعد ازاں ریسکیو اہلکار بھاری مشینری اور جدید آلات کے ساتھ موقع پر پہنچے اور باقاعدہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا۔
پولیس اہلکار بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک رہے اور متاثرہ علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو ٹیموں کو کام کرنے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران موقع پر پہنچ گئے
لاہور پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران حادثے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پہنچے اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔
انہوں نے ریسکیو حکام کو ہدایت کی کہ:
- تمام دستیاب وسائل فوری استعمال کیے جائیں۔
- زخمیوں کو بغیر کسی تاخیر کے اسپتال منتقل کیا جائے۔
- ملبے کے مکمل کلیئر ہونے تک آپریشن جاری رکھا جائے۔
انہوں نے موقع پر موجود پولیس افسران کو بھی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت جاری کی۔
اکیڈمی کا کنٹریکٹر گرفتار
ڈی آئی جی فیصل کامران نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی کارروائی کے دوران ٹیوشن سینٹر کی تعمیر سے وابستہ کنٹریکٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر غفلت یا ناقص تعمیر ثابت ہوئی تو ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مالک مکان سمیت 12 افراد حراست میں
بعد ازاں پولیس نے مزید کارروائی کرتے ہوئے ٹیوشن سینٹر کی عمارت گرنے کے واقعے میں مالک مکان سمیت 12 افراد کو حراست میں لے لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق زیر حراست افراد سے درج ذیل نکات پر تفتیش کی جا رہی ہے:
- عمارت کی تعمیر کب ہوئی؟
- کیا تعمیراتی قوانین کی پابندی کی گئی؟
- عمارت کا نقشہ منظور شدہ تھا یا نہیں؟
- کیا عمارت کو تعلیمی ادارے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت موجود تھی؟
- حالیہ مرمت یا اضافی تعمیرات کی گئیں یا نہیں؟
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔
حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز
ضلعی انتظامیہ، بلڈنگ کنٹرول حکام اور پولیس نے مشترکہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ابتدائی طور پر درج ذیل پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے:
- عمارت کی ساخت اور مضبوطی
- ناقص تعمیراتی مٹیریل کا استعمال
- تعمیراتی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی
- چھت پر اضافی بوجھ
- عمارت کی عمر اور تکنیکی حالت
حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک اور انجینئرنگ رپورٹ موصول ہونے کے بعد حادثے کی اصل وجوہات سامنے آئیں گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا نوٹس
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے افسوسناک واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ:
- زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
- علاج میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہ کی جائے۔
- حادثے کی شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں۔
- ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
وزیراعلیٰ نے جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
علاقے میں سوگ کی فضا
حادثے کے بعد کاہنہ اور گردونواح کے علاقوں میں غم اور افسردگی کی فضا چھا گئی۔ اسپتالوں میں والدین، عزیز و اقارب اور شہریوں کی بڑی تعداد جمع رہی، جہاں اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے بے چینی دیکھی گئی۔
بچوں کی اموات کی خبر سنتے ہی کئی خاندان غم سے نڈھال ہو گئے، جبکہ متاثرہ تعلیمی ادارے کے باہر بھی شہریوں کا ہجوم جمع رہا۔
عمارتوں کی حفاظت پر نئے سوالات
یہ افسوسناک سانحہ ایک مرتبہ پھر نجی تعلیمی اداروں اور ٹیوشن سینٹرز میں استعمال ہونے والی عمارتوں کی تعمیراتی معیار، حفاظتی انتظامات اور سرکاری نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کے لیے استعمال ہونے والی عمارتوں کا باقاعدہ اسٹرکچرل آڈٹ، حفاظتی معائنہ اور قانونی منظوری یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔
اہم نکات
- مقام: کاہنہ، کچوانہ روڈ، لاہور
- واقعہ: نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گر گئی
- جاں بحق: 14 بچے
- زخمی: 19 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، 5 زیر علاج اور حالت خطرے سے باہر
- کارروائی: کنٹریکٹر گرفتار، مالک مکان سمیت 12 افراد حراست میں
- تحقیقات: پولیس، ضلعی انتظامیہ اور بلڈنگ حکام کی مشترکہ انکوائری جاری
- حکومتی ردعمل: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔



