
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں "سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ” کے عنوان سے منعقدہ ایک اہم قومی سیمینار میں وفاقی حکومت، آبی ماہرین، سفارت کاروں اور قومی و بین الاقوامی ماہرین نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا خواہاں ہے اور اپنے حصے کے پانی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ یا قدغن ہرگز قبول نہیں کرے گا۔
سیمینار میں وفاقی وزرا، پارلیمانی رہنما، آبی وسائل کے ماہرین، سفارت کار، قانونی ماہرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ مقررین نے سندھ طاس معاہدے کی تاریخی اہمیت، اس کے قانونی اور سفارتی پہلوؤں، بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل کرنے کے دعوؤں اور خطے میں پانی کے مسئلے کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
عطا اللہ تارڑ: یہ صرف معاہدہ نہیں، 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی کا مسئلہ ہے
افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ آج پاکستان صرف ایک معاہدے کا دفاع نہیں کر رہا بلکہ 24 کروڑ عوام کی زندگی، معیشت، خوراک اور مستقبل کی حفاظت کی بات کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ:
"ہم ایک معاہدے پر نہیں بلکہ پاکستان کی شہ رگ پر بات کر رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ وادی سندھ کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے اور پاکستان اسی عظیم تہذیب کا وارث ہے۔
ان کے مطابق پانی پاکستان کے لیے صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ زندگی، زراعت، خوراک، صنعت اور قومی سلامتی کا بنیادی ستون ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ دریائے سندھ ہزاروں برس سے اس خطے کی تہذیبوں کو زندگی فراہم کرتا آیا ہے اور 1960 میں دونوں ممالک نے عالمی ثالثی کے ذریعے ایک ایسا تاریخی معاہدہ کیا تھا جس نے کئی دہائیوں تک خطے میں آبی تنازعات کو بڑی حد تک قابو میں رکھا۔
پاکستان اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا: مصدق ملک
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات ڈاکٹر مصدق ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے قانونی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ آبی حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ:
"پاکستان اپنے حصے کے پانی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔”
ان کے مطابق اصل مسئلہ پانی کی تقسیم نہیں بلکہ بھارت کی جانب سے پانی کو سیاسی دباؤ اور سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی ملک اپنی مرضی سے بین الاقوامی معاہدے کو معطل کرکے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول نہیں کرسکتا۔
مصدق ملک نے کہا کہ اگر سندھ طاس معاہدے جیسے عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو اس سے دنیا بھر میں بین الاقوامی معاہدوں کی حیثیت متاثر ہوگی اور عالمی قوانین پر اعتماد کمزور پڑ جائے گا۔
پانی صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے خطے کا مسئلہ ہے
وفاقی وزیر نے کہا کہ پانی کی قلت کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بھی اس سے متاثر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم سے خطے میں غذائی قلت، زرعی بحران، اقتصادی عدم استحکام اور انسانی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان ہمیشہ عالمی قوانین، سفارتی ذرائع اور معاہدوں کے مطابق اپنے حقوق کا دفاع کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی یہی راستہ اختیار کرے گا۔
سندھ طاس معاہدہ صرف ایک دستاویز نہیں: کمشنر سید مہر علی شاہ
پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف قانونی دستاویز نہیں بلکہ پاکستان کے کروڑوں شہریوں کی زندگی، زراعت، خوراک اور معیشت کا ضامن ہے۔
انہوں نے کہا کہ:
- پاکستان کی زرعی معیشت کا بڑا حصہ انہی دریاؤں پر انحصار کرتا ہے۔
- ملکی غذائی تحفظ براہ راست پانی کی دستیابی سے وابستہ ہے۔
- لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کا دارومدار سندھ طاس نظام پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد صرف پانی کی تقسیم نہیں بلکہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا اور مستقل امن کو فروغ دینا بھی ہے۔
معاہدے میں تنازعات کے حل کا واضح طریقہ موجود ہے
سید مہر علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں مجموعی طور پر 12 بنیادی شقیں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ:
- دونوں ممالک پر پانی کے بہاؤ سے متعلق معلومات کے تبادلے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
- اگر کوئی تکنیکی اختلاف پیدا ہو تو پہلے دونوں ممالک کے کمشنرز اس پر بات کرتے ہیں۔
- اگر مسئلہ حل نہ ہو تو اسے غیر جانبدار ماہر کے پاس بھیجا جاتا ہے۔
- مزید پیچیدہ معاملات عالمی ثالثی عدالت تک بھی لے جائے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی وہ قانونی طریقہ کار ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے معاہدے کو فعال رکھا ہے۔
بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل نہیں کرسکتا
انڈس واٹر کمشنر نے کہا کہ بین الاقوامی ثالثی فورمز پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر نہ معطل کرسکتا ہے اور نہ ختم کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق دونوں ممالک معاہدے کی تمام ذمہ داریوں کے پابند ہیں۔
1960 کا تاریخی سندھ طاس معاہدہ
سندھ طاس معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا۔
اس معاہدے کے تحت:
- تین مشرقی دریاؤں (راوی، بیاس اور ستلج) کا استعمال بھارت کے لیے مختص کیا گیا۔
- تین مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم اور چناب) پر بنیادی حقوق پاکستان کو دیے گئے۔
- عالمی بینک معاہدے کا ضامن ادارہ ہے۔
- دونوں ممالک مستقل انڈس کمیشن کے ذریعے رابطہ برقرار رکھتے ہیں۔
یہ معاہدہ دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے اور گزشتہ کئی جنگوں کے باوجود نافذ العمل رہا۔
بھارت کی جانب سے معاہدہ معطل کرنے کے دعوے
گزشتہ برس بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک دہشت گرد حملے کے بعد نئی دہلی نے پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور سرحدی تناؤ کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی متاثر ہوئے۔
پاکستان نے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون، سندھ طاس معاہدے اور عالمی ذمہ داریوں کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو ختم یا معطل نہیں کرسکتا۔
ماہرین کی رائے: پانی کو ہتھیار بنانا خطرناک رجحان
سیمینار سے خطاب کرنے والے مختلف قومی و بین الاقوامی ماہرین نے کہا کہ پانی کو سیاسی یا عسکری دباؤ کے لیے استعمال کرنا جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی خطرناک رجحان ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے اس امر پر زور دیا کہ:
- پانی کے تنازعات کا حل صرف سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے ذریعے ممکن ہے۔
- سندھ طاس معاہدے پر مکمل عمل درآمد خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔
- عالمی برادری کو بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
- موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے تناظر میں علاقائی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوچکا ہے۔
سیمینار جاری، مزید سفارشات متوقع
اسلام آباد میں منعقدہ یہ قومی سیمینار تاحال جاری ہے، جہاں مختلف ماہرین، سفارت کار، قانونی ماہرین اور آبی وسائل کے ماہرین سندھ طاس معاہدے، پانی کے تحفظ، علاقائی تعاون اور مستقبل کی آبی حکمت عملی پر اپنے خیالات پیش کر رہے ہیں۔
توقع ہے کہ سیمینار کے اختتام پر ایسی سفارشات مرتب کی جائیں گی جن کی روشنی میں پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ، بین الاقوامی سفارت کاری اور خطے میں پائیدار امن کے فروغ کے لیے مزید مؤثر حکمت عملی اختیار کرے گا۔




