پاکستاناہم خبریں

نوآبادیاتی دور کے قوانین کی جگہ جدید قانون لانے کا دعویٰ، مجوزہ بل پر آئینی، قانونی اور شہری آزادیوں سے متعلق بحث شروع

پنجاب حکومت کا عوامی تحفظ بل اسمبلی میں پیش، منظم جرائم، سائبر خطرات اور عوامی سلامتی کے لیے نیا قانونی فریم ورک تجویز

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پنجاب حکومت نے عوامی تحفظ، منظم جرائم، دہشت گردی، سائبر جرائم، مالی استحصال اور ڈیجیٹل دور میں ابھرنے والے نئے سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے "عوامی تحفظ بل” پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون نوآبادیاتی دور کے "عادی مجرم” اور "غنڈہ” قوانین کی جگہ لے گا اور جدید تقاضوں کے مطابق عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع قانونی ڈھانچہ فراہم کرے گا۔

تاہم، مجوزہ بل سامنے آنے کے بعد قانونی ماہرین، آئینی ماہرین اور انسانی حقوق کے حلقوں میں اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ ایک جانب حکومت اسے جدید جرائم کے خلاف مؤثر ہتھیار قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض اختیارات شہری آزادیوں، عدالتی نگرانی اور آئینی حقوق کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیتے ہیں۔


بل کا بنیادی مقصد کیا ہے؟

حکومت کے مطابق عوامی تحفظ بل کا مقصد ایسے جرائم کی روک تھام ہے جو روایتی پولیسنگ سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

  • منظم جرائم
  • دہشت گردی سے منسلک سرگرمیاں
  • سائبر جرائم
  • مالی استحصال
  • ڈیجیٹل فراڈ
  • عوامی امن میں خلل ڈالنے والی سرگرمیاں
  • جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے جرائم

سرکاری مؤقف کے مطابق بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر ایسا قانونی نظام ناگزیر ہو چکا ہے جو جدید ٹیکنالوجی اور معلوماتی نظام کو استعمال کرتے ہوئے بروقت خطرات کی نشاندہی اور انسداد کو ممکن بنا سکے۔


صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر انٹیلی جنس کمیٹیاں قائم ہوں گی

مجوزہ بل کے تحت پنجاب بھر میں تین سطحوں پر انٹیلی جنس کمیٹیاں قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ان میں شامل ہوں گی:

  • صوبائی سطح کی انٹیلی جنس کمیٹی
  • ڈویژنل سطح کی کمیٹیاں
  • ضلعی سطح کی کمیٹیاں

یہ کمیٹیاں ایسے افراد، گروہوں یا سرگرمیوں کی نگرانی کریں گی جنہیں عوامی نظم، سلامتی یا امن کے لیے ممکنہ خطرہ تصور کیا جائے۔


کمیٹیوں کو کون سے اختیارات حاصل ہوں گے؟

بل کے مطابق انٹیلی جنس کمیٹیاں مختلف انتظامی اقدامات کی سفارش کر سکیں گی، جن میں شامل ہیں:

  • ضمانتی مچلکے طلب کرنا
  • بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کی سفارش
  • قومی شناختی دستاویزات معطل کرنے کی سفارش
  • پاسپورٹ یا دیگر سفری دستاویزات پر پابندی کی سفارش
  • مخصوص سرگرمیوں پر پابندی
  • ڈیجیٹل موجودگی محدود کرنا
  • دیگر حفاظتی یا انتظامی اقدامات تجویز کرنا

حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد جرائم کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے خطرات کا سدباب کرنا ہے۔


عادی مجرموں کے لیے مرکزی ڈیٹا بیس قائم کرنے کی تجویز

بل کے تحت ایسے افراد کے لیے ایک مرکزی رجسٹری قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے جنہیں "عادی مجرم” قرار دیا جائے۔

اس رجسٹری میں درج ذیل معلومات شامل کی جا سکیں گی:

  • بائیومیٹرک ریکارڈ
  • ڈی این اے پروفائل
  • الیکٹرانک ٹریکنگ کی معلومات
  • مجرمانہ ریکارڈ
  • دیگر شناختی معلومات

حکومت کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا بیس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جرائم کی روک تھام اور تحقیقات میں مدد ملے گی۔


حکومت کا مؤقف: جدید جرائم کے لیے جدید قانون ضروری

حکومتی حلقوں کے مطابق ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان، مال اور آزادی کا تحفظ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ:

  • سائبر جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
  • منظم جرائم جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔
  • مالی فراڈ کے نئے طریقے سامنے آ رہے ہیں۔
  • دہشت گرد تنظیمیں بھی ڈیجیٹل ذرائع استعمال کر رہی ہیں۔

اسی لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی جدید قانونی اختیارات فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔


نوآبادیاتی قوانین کی جگہ نیا فریم ورک؟

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بل برطانوی دور کے ان قوانین کی جگہ لے گا جن کے تحت "عادی مجرم” اور "غنڈہ” جیسے قانونی تصورات موجود تھے۔

تاہم بعض آئینی ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ نئے قانون میں جدید ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے، لیکن بنیادی فلسفہ بڑی حد تک ماضی کے انہی قوانین سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔

ان کے مطابق:

  • پہلے نگرانی رجسٹروں، مخبروں اور پولیس رپورٹوں کے ذریعے ہوتی تھی۔
  • اب یہی کام بائیومیٹرکس، ڈی این اے، ڈیجیٹل نگرانی اور الیکٹرانک ٹریکنگ کے ذریعے کیا جائے گا۔

آئینی سوالات اور قانونی خدشات

قانونی ماہرین کے مطابق سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کسی شخص کو مجرم قرار دینے کا اختیار آئینی طور پر عدالت کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ انتظامیہ کے پاس۔

ان کے مطابق پولیس اور انٹیلی جنس ادارے:

  • معلومات اکٹھی کرتے ہیں،
  • تحقیقات کرتے ہیں،
  • خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں،

لیکن کسی فرد کے بنیادی حقوق پر اثر انداز ہونے والے اقدامات، بالخصوص وہ اقدامات جو سزا سے مشابہ ہوں، عدالتی نگرانی کے بغیر اختیار کرنا آئینی بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔


عدالتی فیصلے سے پہلے پابندیوں پر سوالات

مجوزہ بل میں بعض ایسی پابندیاں بھی تجویز کی گئی ہیں جو کسی شہری کی:

  • نقل و حرکت،
  • مالی وسائل،
  • شناختی حیثیت،
  • سماجی سرگرمیوں،
  • اور ڈیجیٹل رسائی

کو متاثر کر سکتی ہیں، حالانکہ متعلقہ شخص کے خلاف جرم ابھی عدالت میں ثابت نہ ہوا ہو۔

اگرچہ بل میں اپیل اور بعض معاملات میں عدالتی نگرانی کا طریقہ کار شامل کیا گیا ہے، تاہم ناقدین کے مطابق بنیادی سوال برقرار رہتا ہے کہ آیا انتظامی کارروائی اس حد تک جا سکتی ہے کہ اس کے عملی اثرات سزا جیسے محسوس ہوں۔


ٹیکنالوجی اور شہری آزادیوں کا توازن

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے انتہائی مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس کا استعمال آئین، قانون اور عدالتی نگرانی کے تحت ہو۔

ان کے مطابق:

  • اگر بائیومیٹرک، ڈی این اے اور الیکٹرانک شواہد عدالت میں جرم ثابت کرنے کے لیے استعمال ہوں تو یہ قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرتے ہیں۔
  • لیکن اگر یہی ذرائع شہریوں کی مسلسل نگرانی، درجہ بندی یا عدالتی فیصلے سے پہلے پابندیاں عائد کرنے کے لیے استعمال ہوں تو اس سے شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پارلیمانی بحث کی ضرورت

قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ مجوزہ عوامی تحفظ بل براہ راست شہری حقوق، قومی سلامتی، انتظامی اختیارات اور عدالتی نگرانی جیسے حساس معاملات سے متعلق ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس پر پنجاب اسمبلی میں تفصیلی پارلیمانی بحث کی جائے۔

ماہرین کا مؤقف ہے کہ ایسا قانون مؤثر بھی ہونا چاہیے اور آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق، شفاف قانونی عمل اور عدلیہ کے کردار کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button