صحتتازہ ترین

پاکستان میں پیریڈز پاورٹی: کیا سینیٹری نیپکنز اور مانع حمل ادویات پر ٹیکس کا خاتمہ کافی ہے؟ رپورٹ

اگرچہ یہ اقدام خوش آئند اور دیرینہ مطالبے کی تکمیل ہے، لیکن صرف ٹیکس کا خاتمہ پاکستان میں موجود "پیریڈز پاورٹی" کے مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کر سکتا۔

پاکستان میں ماہواری (Menstruation) اور تولیدی صحت (Reproductive Health) پر گفتگو کئی دہائیوں تک سماجی شرمندگی، خاموشی اور غلط فہمیوں کا شکار رہی ہے۔ بیشتر گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی حلقوں میں اس موضوع پر کھل کر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا، جس کے باعث لاکھوں لڑکیاں اور خواتین نہ صرف بنیادی معلومات سے محروم رہیں بلکہ انہیں مناسب طبی سہولیات اور حفظانِ صحت کی ضروری اشیاء تک رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ چند برسوں میں نوجوان سماجی کارکنوں، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں، طبی ماہرین اور سول سوسائٹی کی مسلسل کوششوں نے اس خاموشی کو کسی حد تک توڑا ہے۔ سوشل میڈیا مہمات، آگاہی پروگراموں اور تعلیمی ورکشاپس کے ذریعے ماہواری کو ایک فطری حیاتیاتی عمل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں اس موضوع پر عوامی سطح پر گفتگو میں اضافہ ہوا۔

اسی تناظر میں حکومت پاکستان نے حالیہ بجٹ میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے سینیٹری نیپکنز، مانع حمل گولیوں اور تولیدی صحت سے متعلق بعض ضروری مصنوعات پر عائد 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) ختم کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خواتین پر مالی بوجھ کم ہوگا اور انہیں بنیادی صحت کی ضروریات تک نسبتاً آسان رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم ماہرین، سماجی کارکنوں اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اقدام خوش آئند اور دیرینہ مطالبے کی تکمیل ہے، لیکن صرف ٹیکس کا خاتمہ پاکستان میں موجود "پیریڈز پاورٹی” کے مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کر سکتا۔

پیریڈز پاورٹی کیا ہے؟

پیریڈز پاورٹی سے مراد ایسی صورتحال ہے جہاں خواتین اور لڑکیاں مالی، سماجی یا جغرافیائی رکاوٹوں کی وجہ سے محفوظ اور معیاری ماہواری کی مصنوعات، صاف پانی، بیت الخلا، صحت سے متعلق معلومات اور طبی سہولیات تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔

پاکستان میں یہ مسئلہ صرف کم آمدنی والے گھرانوں تک محدود نہیں بلکہ دور دراز دیہی علاقوں، کچی آبادیوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والی خواتین کو زیادہ شدت سے متاثر کرتا ہے۔

متعدد سماجی تنظیموں کے مطابق بہت سی لڑکیاں مہنگے سینیٹری پیڈز خریدنے کی استطاعت نہ ہونے کے باعث کپڑا، روئی یا دیگر غیر محفوظ متبادل استعمال کرنے پر مجبور ہوتی ہیں، جس سے انفیکشن اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ٹیکس کے خاتمے سے کیا فرق پڑے گا؟

حکومت کے مطابق 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم ہونے کے بعد سینیٹری مصنوعات اور مانع حمل ادویات کی قیمتوں میں کمی آنے کی توقع ہے، جس سے لاکھوں خواتین کو براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکس چھوٹ کا مکمل فائدہ صارفین تک منتقل کیا گیا تو خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ان مصنوعات کی خریداری نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔

تاہم اقتصادی ماہرین اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ صرف ٹیکس ختم ہونے سے قیمتوں میں نمایاں کمی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ خام مال، درآمدی لاگت، نقل و حمل، مہنگائی، ڈسٹری بیوشن اخراجات اور مارکیٹ کے منافع جیسے عوامل بھی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

نوجوان ایکٹیوسٹس کی جدوجہد

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے مختلف شہروں میں نوجوان خواتین اور مردوں نے ماہواری سے متعلق آگاہی مہمات چلائیں، اسکولوں اور جامعات میں ورکشاپس منعقد کیں، جبکہ سوشل میڈیا پر "پیریڈز نارمل ہیں” جیسے پیغامات عام کیے۔

ان کارکنوں کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ صرف مہنگائی نہیں بلکہ معاشرتی رویے بھی ہیں۔ بہت سی لڑکیاں آج بھی گھر میں اپنی ماہواری کے بارے میں کھل کر بات نہیں کر سکتیں، جبکہ متعدد اسکولوں میں تولیدی صحت کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔

دیہی علاقوں میں صورتحال

پاکستان کے دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات کی کمی، صاف پانی کی عدم دستیابی، مناسب بیت الخلا کی قلت اور آگاہی کے فقدان نے پیریڈز پاورٹی کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

کئی علاقوں میں خواتین کو طبی مشورہ لینے یا سینیٹری مصنوعات خریدنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں یہ مصنوعات باقاعدگی سے دستیاب ہی نہیں ہوتیں۔

تعلیم بھی ایک بڑا مسئلہ

تعلیمی ماہرین کے مطابق ماہواری کے دوران مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے متعدد طالبات ہر ماہ کئی دن اسکول نہیں جا پاتیں، جس کا اثر ان کی تعلیمی کارکردگی پر پڑتا ہے۔

بہت سے سرکاری اسکولوں میں صاف بیت الخلا، پانی اور سینیٹری مصنوعات کی عدم دستیابی طالبات کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتی ہے۔

صحت پر اثرات

طبی ماہرین کے مطابق غیر محفوظ یا غیر معیاری مواد کا استعمال پیشاب کی نالی کے انفیکشن، جلدی امراض، تولیدی صحت کے مسائل اور دیگر پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ماہواری سے متعلق درست معلومات اور معیاری مصنوعات تک رسائی خواتین کی مجموعی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے۔

ماہرین کی تجاویز

صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پیریڈز پاورٹی کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی درکار ہے، جس میں درج ذیل اقدامات شامل ہو سکتے ہیں:

  • سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں مفت یا رعایتی سینیٹری پیڈز کی فراہمی۔
  • تولیدی صحت اور ماہواری سے متعلق سائنسی اور عمر کے مطابق تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانا۔
  • دیہی اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات بہتر بنانا۔
  • صاف پانی اور مناسب بیت الخلا کی فراہمی یقینی بنانا۔
  • مقامی سطح پر کم قیمت سینیٹری مصنوعات کی تیاری کی حوصلہ افزائی۔
  • معاشرتی بدنامی اور غلط تصورات کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر آگاہی مہمات چلانا۔

کیا صرف ٹیکس ختم کرنا کافی ہے؟

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا حالیہ فیصلہ مثبت پیش رفت ضرور ہے، تاہم یہ مسئلے کے مکمل حل کی جانب صرف ایک ابتدائی قدم ہے۔

ان کے مطابق جب تک سستی اور معیاری مصنوعات ہر علاقے میں دستیاب نہیں ہوتیں، تولیدی صحت کی تعلیم عام نہیں کی جاتی، اسکولوں میں بنیادی سہولیات فراہم نہیں ہوتیں اور معاشرے میں ماہواری سے متعلق منفی رویوں کا خاتمہ نہیں ہوتا، اس وقت تک پیریڈز پاورٹی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ٹیکس میں رعایت خواتین کی صحت اور معاشی سہولت کے لیے اہم قدم ہے، مگر حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب حکومت، نجی شعبہ، تعلیمی ادارے، صحت کے ماہرین اور سول سوسائٹی مشترکہ طور پر ایسی پالیسیاں نافذ کریں جو ہر لڑکی اور خاتون کو باعزت، محفوظ اور سستی تولیدی صحت کی سہولیات تک مساوی رسائی فراہم کریں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button