
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی کونسل آف کمپلینٹس لاہور نے جیو نیوز کی دس محرم الحرام کی نشریات میں مقدس ہستیوں کی تصویری عکاسی سے متعلق زیرِ سماعت معاملے پر اہم پیش رفت کرتے ہوئے اس حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل سے باضابطہ شرعی اور آئینی رہنمائی طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کونسل نے قرار دیا کہ حتمی سفارشات مرتب کرنے سے قبل اسلامی تعلیمات، آئینی تقاضوں اور عوامی مذہبی جذبات کے تناظر میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے حاصل کرنا ضروری ہے۔
یہ فیصلہ 30 جون کو لاہور میں منعقد ہونے والے پیمرا کونسل آف کمپلینٹس کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں پیمرا اتھارٹی کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں جیو نیوز کے نمائندگان، ان کے قانونی مشیران اور متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی اور اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔
معاملے کا پس منظر
یہ معاملہ جیو نیوز کی جانب سے دس محرم الحرام کی خصوصی نشریات کے دوران مقدس ہستیوں کی تصویری عکاسی سے متعلق سامنے آیا، جس پر مختلف مذہبی اور سماجی حلقوں کی جانب سے اعتراضات کیے گئے تھے۔ اس کے بعد پیمرا نے شکایات اور دستیاب شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے معاملہ کونسل آف کمپلینٹس لاہور کو بھیج دیا تاکہ قانونی اور ضابطہ اخلاق کے مطابق اس کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ آیا مذکورہ نشریات پیمرا قوانین، الیکٹرانک میڈیا ضابطہ اخلاق اور آئینی تقاضوں سے مطابقت رکھتی تھیں یا نہیں، اور اگر خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی نوعیت اور شدت کیا ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کرنے کا فیصلہ
اجلاس کے دوران اراکین نے اس معاملے کی مذہبی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ پیمرا کی حتمی سفارشات مرتب کرنے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل سے باضابطہ رائے حاصل کی جائے۔
کونسل نے اسلامی نظریاتی کونسل سے استفسار کیا ہے کہ آیا جیو نیوز کے خلاف اب تک کیے گئے اقدامات، جن میں نشریات یا لائسنس کی معطلی، ادارے کی جانب سے عوامی معذرت اور انتظامی اصلاحات شامل ہیں، اسلامی تعلیمات اور احکامات کی روشنی میں مناسب اور کافی ردعمل تصور کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
مزید یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ اگر موجودہ اقدامات ناکافی سمجھے جائیں تو اسلامی شریعت اور ملکی قوانین کے مطابق مزید کس نوعیت کی کارروائی مناسب ہوگی، اس بارے میں بھی رہنمائی فراہم کی جائے۔
جیو نیوز کی جانب سے مؤقف
اجلاس میں جیو نیوز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اپنے وکلاء کے ہمراہ کونسل کے سامنے پیش ہوئے۔ انہوں نے ادارے کی جانب سے کیے گئے فوری اقدامات سے اجلاس کو آگاہ کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ نشریات سے متعلق سامنے آنے والے اعتراضات کے بعد ادارے نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام سے معذرت کی، اندرونی سطح پر معاملے کی تحقیقات کیں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مختلف انتظامی اقدامات بھی کیے۔
جیو نیوز کے نمائندگان نے کونسل سے درخواست کی کہ ان اصلاحی اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے عائد پابندی یا لائسنس کی معطلی ختم کی جائے تاکہ ادارہ معمول کے مطابق اپنی نشریات جاری رکھ سکے۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19 کا حوالہ
اجلاس کے دوران آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19 پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جو ہر شہری کو آزادیٔ اظہارِ رائے اور ذرائع ابلاغ کو آزادی فراہم کرتا ہے، تاہم یہ آزادی مکمل طور پر غیر محدود نہیں بلکہ قانون کے تحت معقول پابندیوں کے تابع ہے۔
آرٹیکل 19 کے مطابق اظہارِ رائے کی آزادی ایسی حدود کے اندر استعمال کی جا سکتی ہے جو اسلام کی عظمت، ملکی سلامتی، عدلیہ کے وقار، اخلاقیات، عوامی نظم و نسق اور دیگر آئینی تقاضوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہوں۔
کونسل آف کمپلینٹس نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ معاملہ محض نشریاتی ضابطے کی خلاف ورزی تک محدود نہیں بلکہ اس میں مذہبی حساسیت بھی شامل ہے، اس لیے شرعی رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ آئینی تقاضوں اور مذہبی اصولوں کے مطابق متوازن فیصلہ کیا جا سکے۔
مذہبی جذبات اور ذمہ دارانہ نشریات
اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ الیکٹرانک میڈیا کی ذمہ داری صرف معلومات کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ ایسے حساس مذہبی مواقع پر انتہائی احتیاط، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
اراکین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ محرم الحرام جیسے مقدس ایام میں نشر کیے جانے والے پروگراموں میں مذہبی عقائد، مقدس شخصیات اور اسلامی روایات سے متعلق مواد کی تیاری اور پیشکش میں خصوصی احتیاط برتی جانی چاہیے تاکہ کسی بھی مکتبۂ فکر یا مذہبی طبقے کے جذبات مجروح نہ ہوں۔
اسلامی نظریاتی کونسل کو ایک ہفتے کی مہلت
پیمرا کونسل آف کمپلینٹس نے اسلامی نظریاتی کونسل سے درخواست کی ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات، فقہی اصولوں اور آئینی تقاضوں کی روشنی میں اپنی تفصیلی رائے سات دن کے اندر، یعنی 8 جولائی 2026 تک کونسل کو ارسال کرے تاکہ آئندہ کارروائی اسی رہنمائی کی بنیاد پر آگے بڑھائی جا سکے۔
کونسل کی جانب سے واضح کیا گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات موصول ہونے کے بعد تمام قانونی، آئینی اور انتظامی پہلوؤں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد جیو نیوز کے خلاف جاری کارروائی کے مستقبل، ممکنہ پابندیوں، لائسنس کی بحالی یا کسی اضافی انتظامی اقدام کے بارے میں حتمی سفارشات مرتب کی جائیں گی۔
میڈیا ریگولیشن پر وسیع تر بحث
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے ضابطہ اخلاق، مذہبی حساسیت اور آزادیٔ اظہار کے درمیان توازن کے حوالے سے ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔ ایک طرف آئین ذرائع ابلاغ کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب یہی آئین اس آزادی کو اسلام کی عظمت، عوامی مفاد اور قانون کے دائرے میں استعمال کرنے کی شرط بھی عائد کرتا ہے۔
اسی لیے اس کیس کا حتمی فیصلہ مستقبل میں ایسے معاملات کے لیے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے، جس سے نہ صرف نشریاتی اداروں بلکہ ریگولیٹری اداروں کے لیے بھی واضح رہنمائی میسر آ سکتی ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل
اب تمام نگاہیں اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے پر مرکوز ہیں، جس کی روشنی میں پیمرا کونسل آف کمپلینٹس اپنی حتمی سفارشات مرتب کرے گی۔ اس کے بعد پیمرا اتھارٹی یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا جیو نیوز کے خلاف پہلے سے کیے گئے اقدامات کافی ہیں یا مزید انتظامی یا قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔
یہ معاملہ نہ صرف ایک نشریاتی ادارے کی ذمہ داری سے متعلق ہے بلکہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی، مذہبی احترام، آئینی حدود اور ریگولیٹری نظام کے درمیان توازن کے حوالے سے بھی ایک اہم آزمائش تصور کیا جا رہا ہے۔



