
ویتنام کی معاشی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی: کیا نجی شعبہ کمیونسٹ نظام کو نئی زندگی دے سکتا ہے؟
اگر معیشت مضبوط رہے، غربت میں کمی آئے اور نئی ملازمتیں پیدا ہوں تو پارٹی کی حکمرانی بھی مستحکم رہتی ہے
By Voice of Germany Urdu News Team
ہنوئی: ہر پانچ سال بعد ویتنام کا دارالحکومت ہنوئی سرخ جھنڈوں، ہتھوڑے اور درانتی کے نشانوں، انقلابی نعروں اور کمیونسٹ پارٹی کی شاندار تقریبات سے سج جاتا ہے۔ بظاہر یہ منظر سوویت دور کی یاد تازہ کرتا ہے، لیکن ان تقریبات کے پس منظر میں ملک کی آئندہ پانچ سالہ معاشی اور سیاسی سمت کا تعین بھی کیا جا رہا ہوتا ہے۔ ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی (CPV) اس موقع پر دو اہم دستاویزات جاری کرتی ہے، جن میں سیاسی رپورٹ اور سماجی و اقتصادی ترقی کا پانچ سالہ منصوبہ شامل ہوتا ہے۔
اگرچہ ان دستاویزات میں کمیونسٹ نظریات، انقلابی اصطلاحات اور ریاستی بیانیہ نمایاں ہوتا ہے، لیکن معاشی ماہرین کے نزدیک یہی دستاویزات ویتنام کے مستقبل کی اصل حکمت عملی کا آئینہ دار ہوتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں ان منصوبوں میں ایک واضح تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں کمیونسٹ قیادت پہلی مرتبہ نجی شعبے کو قومی ترقی کا بنیادی ستون قرار دینے لگی ہے۔
نظریاتی تبدیلی نہیں بلکہ معاشی مجبوری
ماہرین کے مطابق ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کا نجی شعبے کی جانب جھکاؤ کسی نظریاتی انقلاب کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک حقیقت پسندانہ معاشی ضرورت ہے۔ ویتنام نے گزشتہ تین دہائیوں میں غیر معمولی معاشی ترقی کی، تاہم اب وہ اس مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں صرف سستی لیبر اور برآمدات پر انحصار مستقبل کی ترقی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
کمیونسٹ قیادت بخوبی جانتی ہے کہ اگر معیشت کی رفتار کم ہوئی، روزگار کے مواقع گھٹے یا عوام کا معیارِ زندگی متاثر ہوا تو اس کی سیاسی ساکھ اور عوامی قبولیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسی لیے حکومت نجی سرمایہ کاری، صنعت، ٹیکنالوجی اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
عوامی حمایت کا انحصار معاشی کارکردگی پر
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی طرح ویتنام میں بھی کمیونسٹ پارٹی کی مقبولیت کا انحصار نظریاتی وابستگی سے زیادہ معاشی کامیابی پر ہے۔ عوام کی اکثریت حکومت سے سیاسی آزادی کے بجائے بہتر روزگار، آمدنی میں اضافے اور بہتر معیارِ زندگی کی توقع رکھتی ہے۔
اگر معیشت مضبوط رہے، غربت میں کمی آئے اور نئی ملازمتیں پیدا ہوں تو پارٹی کی حکمرانی بھی مستحکم رہتی ہے، لیکن معاشی سست روی کی صورت میں عوامی اعتماد متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
سرکاری اداروں کی ناکامی نے نئی سوچ کو جنم دیا
کئی دہائیوں تک ویتنام نے توانائی، بینکنگ، انفراسٹرکچر اور دیگر اہم شعبوں میں سرکاری کمپنیوں پر انحصار کیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان اداروں میں کرپشن، بیوروکریسی، غیر مؤثر انتظامیہ اور بھاری قرضوں کے مسائل شدت اختیار کرتے گئے۔
متعدد سرکاری ادارے عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے میں ناکام رہے، جس کے بعد حکومت نے اعتراف کیا کہ نجی کمپنیاں زیادہ تیزی، جدت اور مؤثر انداز میں ترقی کر سکتی ہیں۔
درمیانی آمدنی والے ملک کا نیا چیلنج
ویتنام اب دنیا کے غریب ترین ممالک کی فہرست سے نکل کر ایک درمیانی آمدنی والا ملک بن چکا ہے۔ تاہم معاشی ماہرین کے مطابق اب ملک کو ترقی کے اگلے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرک گاڑیوں اور اعلیٰ معیار کی مینوفیکچرنگ پر توجہ دینا ہوگی۔
یہ تمام شعبے سرکاری اداروں کے بجائے زیادہ تر نجی کمپنیوں کی مہارت اور سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں۔
نجی کمپنیاں بدل رہی ہیں ویتنام کی معیشت
آج ویتنام کی کئی نجی کمپنیاں عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا چکی ہیں۔
Vingroup الیکٹرک گاڑیوں، اسمارٹ شہروں اور جدید رہائشی منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جبکہ FPT Corporation آئی ٹی خدمات، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور سافٹ ویئر ایکسپورٹ میں دنیا بھر میں اپنی موجودگی بڑھا رہی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نجی شعبہ ملکی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں 40 فیصد سے زیادہ حصہ ڈال رہا ہے جبکہ لاکھوں افراد کو روزگار بھی فراہم کر رہا ہے۔ یہ شعبہ ملکی معیشت میں سب سے زیادہ روزگار پیدا کرنے والا شعبہ بن چکا ہے۔
عالمی سرمایہ کاری کا نیا مرکز
امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی کے بعد متعدد عالمی کمپنیاں اپنی سپلائی چین کو چین سے باہر منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
اسی تناظر میں ایپل، سیمسنگ، انٹیل، نائیکی اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے ویتنام میں اپنی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ویتنام کی جغرافیائی اہمیت، نسبتاً کم پیداواری لاگت، مستحکم سیاسی ماحول اور تجارتی معاہدوں نے اسے عالمی مینوفیکچرنگ حب میں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری کافی نہیں ہوگی بلکہ مقامی نجی صنعت کو بھی مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ وہ عالمی کمپنیوں کو مقامی سطح پر پرزہ جات، خدمات اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کر سکے۔
انسدادِ کرپشن مہم اور سرمایہ کاروں کے خدشات
اگرچہ ویتنامی حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں "بلیزنگ فرنس” (Blazing Furnace) کے نام سے ایک وسیع انسدادِ کرپشن مہم شروع کی، جس کے دوران کئی بڑے کاروباری افراد، سرکاری حکام اور ارب پتی شخصیات کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، تاہم اس مہم نے نجی شعبے میں بے یقینی بھی پیدا کر دی۔
کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ سخت احتساب اور غیر واضح ضوابط کی وجہ سے کئی سرمایہ کار نئے منصوبوں میں سرمایہ لگانے سے ہچکچا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ، شفاف ضابطے اور پالیسیوں میں تسلسل بھی فراہم کرنا ہوگا تاکہ کاروباری اعتماد بحال ہو سکے۔
ریاستی کنٹرول اور نجی شعبے کے درمیان توازن
کمیونسٹ پارٹی اب بھی یہ چاہتی ہے کہ سیاسی طاقت مکمل طور پر اس کے پاس رہے اور کوئی بھی کاروباری گروپ اتنا طاقتور نہ ہو جائے کہ وہ ریاستی نظام کو چیلنج کر سکے۔
اسی وجہ سے حکومت نجی شعبے کو فروغ دینے کے باوجود اس پر سخت نگرانی برقرار رکھے ہوئے ہے، جسے بعض ماہرین مستقبل کی معاشی ترقی کی راہ میں ممکنہ رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔
مستقبل کا سب سے بڑا امتحان
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ویتنام واقعی ایشیا کی اگلی معاشی طاقت بننا چاہتا ہے تو اسے صرف پانچ سالہ منصوبے بنانے سے آگے بڑھنا ہوگا۔
قانون کی بالادستی، شفاف پالیسی سازی، سرمایہ کار دوست ماحول، بیوروکریسی میں اصلاحات، نجی شعبے کو زیادہ آزادی اور اختراع کی حوصلہ افزائی مستقبل کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہوں گے۔
اگر کمیونسٹ پارٹی نجی شعبے کو صرف ایک معاشی آلہ سمجھنے کے بجائے اسے ترقی کا حقیقی شراکت دار تسلیم کرتی ہے، تو ویتنام نہ صرف عالمی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا مرکز بن سکتا ہے بلکہ آئندہ دہائیوں میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں بھی شامل ہو سکتا ہے۔
بصورتِ دیگر، سرخ بینرز، انقلابی نعرے اور پانچ سالہ منصوبے صرف سرکاری دستاویزات تک محدود رہ جائیں گے، جبکہ معیشت کو درپیش حقیقی چیلنجز بدستور موجود رہیں گے۔




