یورپتازہ ترین

فرانس کا مجوزہ پولیس فائرنگ قانون ’قتل کا لائسنس‘ ہے، ناقدین

تاہم مخالفین کا مؤقف ہے کہ یہ قانون پولیس کو زیادہ اختیارات دے گا، ہلاکتوں میں اضافہ کرے گا اور اس سے متاثرہ خاندانوں کو انصاف کے حصول میں مشکلات پیش آئیں گی۔

روئٹرز کے ساتھ

فرانس کے قانون سازوں نے ایک متنازع مجوزہ قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کے واقعات میں قانونی تحفظ حاصل ہو گا۔ ناقدین نے اس قانون کو ’قتل کا لائسنس‘ قرار دیا ہے۔

یہ بل منگل کی شام فرانس کے ایوانِ زیریں، فرانسیسی قومی اسمبلی میں 313 ووٹوں کے مقابلے میں 199 ووٹوں سے منظور ہوا۔ فرانسیسی حکومت نے بھی اس قانون کی حمایت کی ہے، تاہم اسے اب ایوانِ بالا میں ووٹنگ کے مرحلے سے گزرنا ہو گا۔

فرانس میں پولیس فائرنگ کے واقعات میں اضافہ

فرانس میں پولیس کی جانب سے مہلک فائرنگ کے واقعات یورپ کے کئی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں اوران میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس کے خلاف تحقیقات کرنے والے اداروں آئی جی جی این اور آئی جی پی این کے مطابق 2024 میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے 69 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 49 اور 2022 میں 50 تھی۔

اس قانون کے حامی، جن میں فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطرناک حالات میں کام کرنے والے پولیس اہلکاروں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

تاہم مخالفین کا مؤقف ہے کہ یہ قانون پولیس کو زیادہ اختیارات دے گا، ہلاکتوں میں اضافہ کرے گا اور اس سے متاثرہ خاندانوں کو انصاف کے حصول میں مشکلات پیش آئیں گی۔

فرانسیسی پولیس
فرانسیسی حکومت کو پولیس تشدد اور ہراسانی کے الزامات پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے مسلسل دباؤ کا سامنا ہےتصویر: Loic Venance/AFP

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مخالفت

ایمنسٹی انٹرنیشل کی نمائندہ ماری لور جیوفرے نے کہا کہ یہ قانون پولیس تشدد سے متعلق تحقیقات کو سست کر دے گا اور ثبوت فراہم کرنے کا بوجھ متاثرہ افراد کے خاندانوں پر ڈال دے گا۔

وزیر داخلہ  لوراں نونیز نے پارلیمنٹ میں قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا، ”یہ قانون کسی بھی طرح فوجداری ذمہ داری سے مکمل استثنیٰ نہیں دیتا۔ اگر حالات اور شواہد موجود ہوں تو کوئی بھی پراسیکیوٹر اس قانونی مفروضے کو ختم کر سکتا ہے۔‘‘

پولیس تشدد پر پہلے ہی دباؤ کا سامنا

فرانسیسی حکومت کو پولیس تشدد اور ہراسانی کے الزامات پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے مسلسل دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر سیاہ فام اور عرب پس منظر رکھنے والے افراد کے خلاف کارروائیوں پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

2023  میں 17 سالہ نایل مرزوق کی پولیس فائرنگ سے ہلاکت کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور فسادات ہوئے تھے۔

2017 میں نافذ کیے گئے ایک قانون نے پولیس کو اس وقت بھی ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دی تھی جب وہ کسی گاڑی کو روکنے میں ناکام ہوں۔ ماہرینِ کے مطابق اس تبدیلی کے بعد چلتی گاڑیوں سے متعلق پولیس فائرنگ میں ہلاکتوں کی تعداد میں پانچ گنا اضافہ ہوا۔

فرانسیسی پولیس ایک چیکنگ پوسٹ پر
مجوزہ قانون کے مخالفین کا مؤقف ہے کہ یہ قانون پولیس کو زیادہ اختیارات دے گا، ہلاکتوں میں اضافہ کرے گا اور اس سے متاثرہ خاندانوں کو انصاف کے حصول میں مشکلات پیش آئیں گیتصویر: Christophe Ena/AP Photo/picture alliance

بائیں بازو کے رکنِ پارلیمنٹ پوریا امیرشاہی نے کہا، ”مزید اموات ہوں گی۔ اگر کسی شخص کو یہ احساس ہو جائے کہ ہتھیار استعمال کرنے کے باوجود اسے جواب دہ نہیں ٹھہرایا جائے گا تو وہ فائرنگ کر دے گا۔ یہ قانون پولیس کو استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔‘‘

اس قانون کے خلاف فرانس کی قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر ایک آن لائن درخواست پر 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں۔ یہ مہم عصام الخلخاوی نے شروع کی، جن کے بیٹے کو 2021 میں ایک پولیس اہلکار نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button