
ایران پر نئے امریکی فضائی حملے، پاسداران انقلاب کے تین اہلکار ہلاک، خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی
پاسداران انقلاب نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو "ملکی دفاع کے شہداء" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔
By Voice of Germany Urdu News Team
تہران / واشنگٹن / منامہ / کویت سٹی: مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں امریکہ نے ایران کے مختلف فوجی اور تزویراتی مقامات پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں پاسداران انقلاب (IRGC) کے کم از کم تین اہلکار ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین، کویت اور اردن کی سمت میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے، جنہیں ان ممالک کے فضائی دفاعی نظام نے بڑی حد تک ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صرف تین ہفتے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا۔ تاہم حالیہ حملوں نے اس معاہدے کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دو روز میں 170 سے زائد ایرانی عسکری اہداف نشانہ بنائے گئے
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران ایران میں 170 سے زائد فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز اور خلیج میں بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرات کا خاتمہ، ایرانی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا اور خطے میں امریکی و اتحادی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں ایرانی میزائل تنصیبات، ڈرون مراکز، بحری تنصیبات، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، اسلحہ گوداموں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
خوزستان میں پاسداران انقلاب کے تین اہلکار ہلاک
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق مغربی صوبے خوزستان میں امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے میں متعدد فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا جبکہ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور نقصانات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔
پاسداران انقلاب نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو "ملکی دفاع کے شہداء” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔
بندرگاہ سیرک پر حملہ، شہری ہلاکتیں بھی رپورٹ
ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق جنوبی ایران کے ساحلی شہر سیرک کی بندرگاہ پر امریکی حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق حملے کے باعث بندرگاہ کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا جبکہ امدادی اداروں نے زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا۔
ایران کے متعدد شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات
ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
جن علاقوں میں حملوں یا دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں ان میں:
- خوزستان
- اصفہان
- بندر عباس
- جاسک
- سیرک
- چابہار
- آق قلا
- جزیرہ ابو موسیٰ
- صوبہ بوشہر
شامل ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق کئی علاقوں میں فضائی دفاعی نظام متحرک رہا جبکہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
بوشہر نیوکلیئر پلانٹ کے اطراف بھی حملہ
ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی حملوں میں بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اطراف کے علاقے بھی نشانہ بنائے گئے۔
بوشہر کے نائب گورنر کے مطابق حملوں میں نیوکلیئر پلانٹ کے اطراف، چگادک کے فوجی اڈے اور جنوبی ساحلی علاقے میں ماہی گیروں کی جیٹی کو نقصان پہنچا، تاہم نیوکلیئر تنصیبات محفوظ ہیں اور تابکاری کے کسی اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔
حکام کے مطابق اس حملے میں فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
پاسداران انقلاب کا سخت ردعمل
پاسداران انقلاب کی بحریہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کی حالیہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معمولات بحال کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی مداخلت نہ صرف ایران بلکہ ان تمام ممالک کے معاشی مفادات کو بھی متاثر کرے گی جو اس اہم سمندری گزرگاہ پر انحصار کرتے ہیں۔
پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ امریکی حملوں کا "سخت اور فیصلہ کن جواب” دیا جائے گا اور ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ایران کے جوابی حملے
امریکی حملوں کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین، کویت اور اردن کی سمت متعدد بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون فائر کیے۔
اگرچہ ایرانی حکام نے ان حملوں کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم خلیجی ممالک نے اپنی فضائی دفاعی کارروائیوں کی تصدیق کی ہے۔
کویت نے متعدد میزائل اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
کویت کی وزارت دفاع کے مطابق ملکی فضائی دفاعی نظام نے کامیابی کے ساتھ:
- تین بیلسٹک میزائل
- ایک کروز میزائل
- دس ڈرون
کو تباہ کر دیا۔
وزارت دفاع کے ترجمان کرنل سعود العطوان نے بتایا کہ کارروائی کے دوران صرف معمولی مادی نقصان ہوا جبکہ ایک شہری زخمی ہوا، تاہم کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ کویتی افواج مکمل الرٹ پر ہیں اور فضائی حدود کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
بحرین کا فضائی دفاع بھی متحرک
بحرین ڈیفنس فورس نے بھی اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملک کی جانب آنے والے متعدد ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔
بحرینی فوج کے مطابق ایران مسلسل شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاہم دفاعی نظام نے تمام خطرات کو بروقت ناکام بنا دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بحرین اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
آبنائے ہرمز پر بڑھتے خدشات
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے دنیا کی تیل کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔
اگر اس آبی گزرگاہ میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو عالمی تیل کی قیمتوں، توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
جنگ بندی معاہدہ خطرے میں
صرف چند ہفتے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو خطے میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا تھا، تاہم تازہ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے اس معاہدے کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر دونوں ممالک نے فوری طور پر سفارتی رابطے بحال نہ کیے تو موجودہ کشیدگی ایک وسیع علاقائی تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ، عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
عالمی برادری کی تشویش
عالمی سفارتی حلقوں نے موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل، فوری جنگ بندی کی بحالی اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل پر زور دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ بحران صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں بلکہ خلیجی ممالک، عالمی توانائی کی سلامتی، بین الاقوامی تجارت اور مشرق وسطیٰ کے مجموعی امن کے لیے بھی ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔




