یورپتازہ ترین

جرمنی کا امریکہ سے ٹوماہاک کروز میزائل خریدنے کا فیصلہ

جرمنی مستقبل میں یورپ کے اپنے دفاعی نظام کی تیاری پر بھی کام کرے گا اور یورپی ساختہ دفاعی نظاموں کو یورپ میں ہی نصب کیا جائے گا۔

ڈی پی اے، اے پی، روئٹرز کے ساتھ

وفاقی جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے کہا ہے کہ جرمنی نے امریکہ سے ٹوماہاک کروز میزائل خریدنے اور ان کی اپنے ہاں تنصیب پر اتفاق کر لیا ہے۔ ان کے بقول اس فیصلے سے ملکی دفاع میں موجود ایک ‘اہم اسٹریٹیجک خلا‘ پر ہو جائے گا۔

فریڈرش میرس گزشتہ روز ہی نیٹو سربراہی اجلاس سے واپس لوٹے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی حکومت کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

انہوں نے کہا، ”انقرہ میں نیٹو اجلاس کے موقع پر ہماری امریکی حکومت کے ساتھ یہ مفاہمت بھی ہوئی کہ ہم امریکی ٹوماہاک میزائل خریدیں گے اور انہیں جرمنی میں نصب کریں گے۔ اس طرح ہم اپنے دفاع میں موجود ایک اہم اسٹریٹیجک خلا کو پر کر رہے ہیں۔‘‘

چانسلر میرس نے مزید کہا کہ جرمنی مستقبل میں یورپ کے اپنے دفاعی نظام کی تیاری پر بھی کام کرے گا اور یورپی ساختہ دفاعی نظاموں کو یورپ میں ہی نصب کیا جائے گا۔

جرمن چانسلر فریڈرش میرس
چانسلر فریڈرش میرس نے ٹوماہاک میزائل خریداری کے فیصلے کا اعلان جمعرات کی صبح بنڈسٹاگ میں حکومتی پالیسی بیان کے دوران کیاتصویر: Maryam Majd/REUTERS

ٹوماہاک میزائل کا معاملہ تھا کیا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیش رو جو بائیڈن کی طرف سے 2024 میں منظور کردہ اس منصوبے کو اس سے قبل مسترد کر دیا تھا، جس کے تحت 2026 تک امریکی ٹوماہاک کروز میزائل جرمنی میں نصب کیے جانا تھے۔

اس کے بعد برلن نے واشنگٹن کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ ان میزائلوں کی براہ راست تعیناتی کے بجائے جرمنی کو انہیں خریدنے کی اجازت دی جائے۔ ایک عام ٹوماہاک کروز میزائل تقریباً 2500 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جرمن وزارت دفاع نے 2024 میں کہا تھا کہ ان میزائلوں کا مقصد روس کی جانب سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس وزارت کے مطابق روس نے لیتھوانیا اور پولینڈ سے متصل کالینن گراڈ میں جوہری ہتھیار لے جانے کی ممکنہ صلاحیت رکھنے والے اسکندر میزائل اور ہائپرسونک میزائلوں سے لیس جنگی طیارے تعینات کر رکھے ہیں، جبکہ روس کا بیلاروس میں بھی اپنے ہتھیاروں کی تعیناتی کا منصوبہ موجود ہے۔

برلن سے ماسکو تک کا فضائی فاصلہ تقریباً 1,600 کلومیٹر ہے، جس کے باعث ممکنہ طور پر جرمنی سے کبھی بھی داغے گئے ٹوماہاک میزائل روس کے اندر گہرائی تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے حامل ہوں گے۔

جرمنی کے لیے ٹوماہاک میزائل ضروری کیوں؟

اس وقت یورپی نیٹو ممالک کے پاس اپنے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار موجود نہیں ہیں۔ تاہم متعدد اتحادی ممالک یورپی لانگ رینج اسٹرائیک اپروچ (ای ایل ایس اے) منصوبے کے تحت طویل فاصلے تک درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کی مشترکہ تیاری پر کام کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کا آغاز 2024 میں واشنگٹن میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے ایک کلیدی فیصلے کے بعد کیا گیا تھا۔

اس مشترکہ منصوبے کے تحت نیٹو کے رکن بعض یورپی ممالک 2000 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے اپنے کروز میزائل تیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جرمن وزارت دفاع کے مطابق اس منصوبے پر گزشتہ سال ہی کام شروع کر دیا گیا تھا۔

1987 میں امریکہ اور (اب سابق) سوویت یونین کے درمیان ہونے والے آئی این ایف معاہدے کے تحت 500 سے 5,500 کلومیٹر تک مار کرنے والے زمین سے داغے جانے والے بیلسٹک اور کروز میزائلوں پر پابندی عائد تھی۔

امریکہ اور یورپی نیٹو ممالک نے روس پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے 9M729 قسم کے نئے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے اور ممکنہ جوہری صلاحیت کے حامل کروز میزائل تیار کر کے آئی این ایف معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ امریکا نے 2019 میں اس معاہدے سے باقاعدہ دستبرداری اختیار کر لی تھی۔

ٹی کے ایم ایس آبدوز
چانسلر میرس نے کینیڈا کو ٹی کے ایم ایس آبدوزوں کی فروخت کے معاہدے کو جدید جرمن تاریخ کا سب سے بڑا فوجی معاہدہ قرار دیاتصویر: Reuters

کینیڈا کو آبدوزوں کی فروخت کا معاہدہ

وفاقی جرمن چانسلر میرس نے بنڈس ٹاگ سے اپنے خطاب میں اسی ہفتے کینیڈا کو ٹی کے ایم ایس آبدوزوں کی فروخت کے معاہدے کو جدید جرمن تاریخ کا سب سے بڑا فوجی معاہدہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے معاہدے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ نیٹو ایک ٹرانس اٹلانٹک اتحاد ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا۔

میرس کا مزید کہنا تھا، ”تاہم ہم یورپی ممالک بھی مضبوط ہیں اور ہم یہ سمجھ چکے ہیں کہ اپنی سلامتی کی ذمہ داری مکمل طور پر دوسروں کے سپرد نہیں کی جا سکتی۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button