یورپتازہ ترین

جرمنی میں جون کی تاریخی گرمی کی لہر، پانچ ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے

اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، دل کی بیماریوں اور سانس کے مسائل کے شکار مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا

جواد احمد-جرمنی،وائس آف جرمنی اردو نیوز

برلن: یورپ میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ایک بار پھر انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر گئے ہیں۔ جرمنی میں جون کے دوران آنے والی غیر معمولی گرمی کی شدید لہر کے نتیجے میں گرمی سے متعلقہ وجوہات کے باعث تقریباً 5 ہزار 100 افراد ہلاک ہو گئے، جس کے بعد ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی کو یورپ کے لیے ایک سنگین عوامی صحت کا بحران قرار دیا ہے۔

یہ اعداد و شمار جرمنی کے قومی ادارہ برائے بیماریوں کی روک تھام روبرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ (RKI) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہفتہ وار رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ ادارے کے مطابق جون کے مہینے میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے باعث خاص طور پر بزرگ افراد، دائمی بیماریوں میں مبتلا شہریوں اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

شدید گرمی نے جرمنی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

جون کے آخری ہفتے میں جرمنی کے مختلف علاقوں میں کئی روز تک درجہ حرارت مسلسل بلند رہا۔ بعض شہروں اور علاقوں میں پارہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا، جو جرمنی جیسے نسبتاً معتدل آب و ہوا رکھنے والے ملک کے لیے غیر معمولی صورتحال تصور کی جاتی ہے۔

شدید گرمی کے باعث شہری زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، دل کی بیماریوں اور سانس کے مسائل کے شکار مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جبکہ طبی عملے پر بھی غیر معمولی دباؤ پڑا۔

بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان

شدید گرمی نے نہ صرف انسانی جانوں کو متاثر کیا بلکہ جرمنی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچایا۔

رپورٹس کے مطابق بلند درجہ حرارت کی وجہ سے کئی شاہراہوں کی سطح پھیلنے اور ابھرنے لگی، جس کے باعث متعدد اہم سڑکوں کو حفاظتی اقدامات کے تحت عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔

اسی طرح ریل کی پٹریاں بھی شدید گرمی سے متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں کئی ٹرینوں کی رفتار محدود کر دی گئی جبکہ متعدد روٹس پر ریل سروس میں تاخیر اور عارضی معطلی بھی دیکھنے میں آئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک کا انفراسٹرکچر اس قدر شدید گرمی کے لیے تیار نہیں تھا، اس لیے مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے پیش نظر بنیادی ڈھانچے کو بھی ازسرِ نو ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہوگی۔

مغربی یورپ میں تاریخ کا گرم ترین جون

یورپی یونین کے موسمیاتی تبدیلی کی نگرانی کرنے والے ادارے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس (Copernicus Climate Change Service) کے مطابق جون 2026 مغربی یورپ کی تاریخ کا سب سے گرم جون ثابت ہوا۔

ادارے کے مطابق مغربی یورپ میں جون کے دوران اوسط درجہ حرارت 20.74 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو 1991 سے 2020 کے درمیان اسی مہینے کے اوسط درجہ حرارت سے تقریباً 3 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فرق انتہائی غیر معمولی ہے کیونکہ عام حالات میں عالمی اوسط درجہ حرارت میں ایک ڈگری کا اضافہ بھی موسمیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

دنیا بھر میں دوسرا گرم ترین جون

کوپرنیکس کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر بھی جون 2026 ریکارڈ کیے گئے گرم ترین مہینوں میں شامل رہا۔

اعداد و شمار کے مطابق دنیا کا اوسط درجہ حرارت 16.54 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو 1991 سے 2020 کے اوسط کے مقابلے میں 0.56 ڈگری زیادہ ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اگر اس کا موازنہ صنعتی انقلاب سے پہلے یعنی 1850 سے 1900 کے عرصے سے کیا جائے تو جون کا درجہ حرارت 1.39 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی حدت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

گرمی کی لہر نے کئی ریکارڈ توڑ دیے

ماہرین کے مطابق جون کے دوسرے نصف میں آنے والی گرمی کی لہر نے فرانس، جرمنی، اسپین، اٹلی، بیلجیئم، نیدرلینڈز، سوئٹزرلینڈ اور دیگر مغربی یورپی ممالک میں درجہ حرارت کے کئی دہائیوں پرانے ریکارڈ توڑ دیے۔

بعض شہروں میں دن کے اوقات میں درجہ حرارت مسلسل 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب رہا جبکہ رات کے وقت بھی درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث شہریوں کو شدید جسمانی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید سنگین

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ حالیہ گرمی کی لہر کسی ایک موسمی واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی واضح مثال ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے ہوئے اخراج، صنعتی آلودگی اور عالمی حدت نے شدید گرمی، خشک سالی، جنگلات میں آگ، سیلاب اور دیگر انتہائی موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں فوری کمی نہ لائی گئی تو مستقبل میں ایسی گرمی کی لہریں مزید شدید، زیادہ طویل اور زیادہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔

صحت کے ماہرین کی وارننگ

طبی ماہرین نے شہریوں کو شدید گرمی کے دوران غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز، زیادہ پانی پینے، ہلکے رنگ کے کپڑے پہننے، بزرگ افراد اور بچوں کا خصوصی خیال رکھنے اور ہیٹ اسٹروک کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت صرف جسمانی صحت ہی نہیں بلکہ دل، گردوں، سانس کی بیماریوں اور ذہنی دباؤ میں بھی اضافے کا باعث بنتی ہے، اس لیے عوامی آگاہی اور بروقت حفاظتی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

مستقبل کے لیے بڑا چیلنج

تجزیہ کاروں کے مطابق جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کے لیے یہ واقعہ ایک اہم انتباہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا سب سے بڑا بحران بن چکی ہے۔

اگرچہ یورپی یونین قابلِ تجدید توانائی، کاربن اخراج میں کمی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے متعدد منصوبوں پر عمل پیرا ہے، تاہم حالیہ گرمی کی لہر نے واضح کر دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر، فوری اور جامع اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں انسانی جانوں کے تحفظ، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، صحت عامہ کے نظام کی تیاری اور موسمیاتی موافقت (Climate Adaptation) پر سرمایہ کاری ہی ایسے جان لیوا موسمی واقعات کے نقصانات کو کم کر سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button