کالمزپیر مشتاق رضوی

محترمہ فاطمہ جناحؒ، آمریت کے خلاف جمہوری للکار۔۔۔ !!پیر مشتاق رضوی

(نوٹ ;راقم نے اس تحقیقی مضمون میں تاریخِ پاکستان کے بعض چھپے ہوئے گوشوں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔)

پاکستان محض جغرافیے کا نام نہیں، یہ ایک جمہوری نظریے کا نام ہے۔ یہ ملک قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی ایک طویل اور تاریخی جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا۔ 1946ء کے انتخابات میں مسلمانوں نے "وٹ کی طاقت” سے ثابت کر دیا کہ وہ اپنا مستقبل خود طے کریں گے۔ اسی ووٹ کی طاقت سے پاکستان بنا اور اسی ووٹ سے اسے چلنا تھا۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ، قائدِ اعظم کی صرف "ہمشیرہ” نہیں تھیں، وہ جمہوریت کی بھی علمبردار تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود ایک عظیم سیاسی شخصیت تھیں۔انہوں نے 1930ء – 1947ء کے دوران تحریکِ پاکستان کے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ یہ وہ دور تھا جب انہوں نے سیاست میں باقاعدہ قدم رکھا۔ 1930ء میں جب قائدِ اعظمؒ واپس ہندوستان آئے تو فاطمہ جناحؒ نے اپنی ڈینٹل پریکٹس چھوڑ کر ان کی سیاسی زندگی سنبھال لی۔ وہ ان کی سیکرٹری، مشیر اور ساتھی بن گئیں۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کی ویمنز سب کمیٹی بنائی۔ گھر گھر جا کر عورتوں کو ووٹ کی اہمیت سمجھائی۔1946ء کے انتخابات میں قیامِ پاکستان کے لیے انہوں نے پورے برصغیر میں مہم چلائی۔ پردہ دار خواتین کو بھی گھروں سے نکال کر ووٹ ڈلوایا۔ اسی ووٹ نے پاکستان کی بنیاد رکھی۔ ان کا نعرہ تھا "اسلامی جمہوری پاکستان” جہاں قانون کی حکمرانی ہو اور عوام حکمران ہوں۔قیامِ پاکستان کے بعد: 1947ء سے 1964ء تک قوم کی "خاموش محافظ” کا کردار ادا کیا
قیامِ پاکستان کے بعد وہ سرکاری عہدے سے دور رہیں، لیکن سیاست سے نہیں۔ 1948ء میں قائدِ اعظم کی وفات کے بعد ملک میں بے یقینی تھی۔ فاطمہ جناحؒ نے قوم کو حوصلہ دیا اور کہا "قائد کا مشن ادھورا نہیں رہے گا”۔قائدِ اعظم کے مشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "قائدِ اعظم نے یہ پاکستان ووٹ سے حاصل کیا تھا۔ اور ان شاءاللہ یہ ملک ووٹ سے ہی چلے گا۔ بندوق کے زور پر نہیں”۔

قائدِ اعظمؒ اور قائدِ ملت لیاقت علی خانؒ کے بعد پاکستان محلاتی سازشوں کا شکار ہو گیا۔ بدقسمتی سے 1956ء تک پاکستان آئین نہ بنا سکا۔ وہ مسلسل تقریروں میں آئین کی جلد تکمیل اور پارلیمانی نظام کا مطالبہ کرتی رہیں۔ لیکن جمہوری نظام ڈی ریل کر دیا گیا اور آمریت نے پنجے گاڑ دیے۔ ایوانوں کی جگہ بیرکوں نے لے لی۔ قیامِ پاکستان کے مقاصد یعنی آئین کی حکمرانی، عدل اور عوامی خودمختاری پسِ پشت ڈال دیے گئے۔قیامِ پاکستان کے مقاصد کے پیشِ نظر مادرِ ملت نے اپنے عظیم بھائی کی جمہوری جدوجہد کو آگے بڑھانے کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے خاموشی سے جمہوری اقدار کی وکالت کی اور آئین کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا۔ 1965ء میں پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان نے جب "بنیادی جمہوریت” کے نام پر 12 کروڑ عوام کا حق صرف 80 ہزار لوگوں کو دے دیا، تو مادرِ ملت میدان میں آئیں۔انہوں نے آمریت کو للکارا اور کہا کہ "میں اقتدار کے لیے نہیں، آئین کی بحالی کے لیے آئی ہوں” تاریخ گواہ ہے کہ سرکاری مشینری ایک طرف اور دوسری طرف 71 سالہ ایک خاتون۔ لیکن ان کے ساتھ پوری قوم کا ضمیر تھا۔ انہوں نے رائے عامہ کو منظم کیا، عوام کو جمہوری سوچ دی اور قوم میں جمہوریت کی نئی روح پھونک دی۔

جنرل ایوب دور میں ان پر پابندیاں لگا دی گئیں۔ ریڈیو ٹی وی پر ان کی بات نشر نہیں ہوتی تھی۔ لیکن وہ خاموشی سے جمہوری اقدار کی پاسداری کرتی رہیں۔1965ء کے صدارتی الیکشن میں ان کی "لالٹین والی للکار” – سیاسی عروج پر تھی۔* انہوں نے آمریت کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ "میں اقتدار کی بھوکی نہیں ہوں۔ میں اس لیے میدان میں آئی ہوں کہ پاکستان میں آئین کی حکمرانی قائم ہو۔ بنیادی حقوق بحال ہوں اور یہ ملک جمہوری طریقے سے چلے”۔ (کراچی کا تاریخی جلسہ، ستمبر 1964ء)
یہ ان کی سیاسی زندگی کا سب سے درخشاں باب ہے کہ 8 سالہ ایوبی آمریت، بنیادی جمہوریت کے نظام اور جمہوریت کے قتل کے خلاف، اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر انہیں اپنا امیدوار بنایا۔
71 سال کی عمر میں انہوں نے پورے پاکستان کا دورہ کیا۔ کراچی، لاہور، ڈھاکہ کے جلسوں میں لاکھوں لوگ نکلے۔ ان کا انتخابی نشان "لالٹین” تھا۔ انہوں نے کہا "میں اقتدار کے لیے نہیں آئی، میں آئین، جمہوریت اور بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے آئی ہوں”۔انہوں نے آمریت کا خوف توڑ دیا۔ اس تحریک نے 1968ء کی عوامی تحریک اور 1970ء کے عام انتخابات کی راہ ہموار کی۔ کراچی سے خیبر تک "لالٹین” کا نشان اندھیرے میں امید بن گیا۔اگرچہ سرکاری طور پر وہ بظاہر الیکشن ہار گئیں، لیکن حقیقت میں آمریت ہار گئی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ آمریت کا مقابلہ بندوق سے نہیں، ووٹ اور شعور سے کیا جاتا ہے۔الیکشن کے نتائج کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ ہار گئیں تو انہوں نے کہا کہ "میں نہیں ہاری۔ جمہوریت جیتی ہے۔ کیونکہ آج ہر گھر میں ووٹ کی بات ہو رہی ہے۔ ہر دل میں آزادی کی چنگاری جل چکی ہے”۔مادرِ ملت کی 1965ء کی تحریک کے بعد ملک میں جمہوری قیادت کا خلاء پیدا ہو گیا۔ لیکن انہوں نے جو "جمہوری ذہن” تیار کر دیا تھا وہ رائیگاں نہیں گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو بہت زیرک اور ہوشیار سیاستدان تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ عوام کا جمہوری ذہن "پک کر تیار” ہو چکا ہے اور قوم نے جنرل ایوب کی آمریت کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل ایوب کی آمرانہ رجیم کو خیر باد کہہ کر عوامی لیڈر بن گئے۔1967ء میں انہوں نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور مادرِ ملت کی جمہوری جدوجہد سے بھرپور سیاسی فائدہ اٹھایا۔ 1968ء کی تحریک اور 1970ء کے انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت – یہ سب مادرِ ملت کی للکار کا نتیجہ تھی۔اور اس تاریخی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ مادرِ ملت نے جمہوریت کے لیے زمین نرم کی، بیج بویا۔ بھٹو نے فصل کاٹی۔ پیپلز پارٹی کا قیام دراصل مادرِ ملت کی جمہوری جدوجہد کا تسلسل تھا۔

مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے قیامِ پاکستان کے لیے جمہوری جدوجہد میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد جمہوری مملکت بنانے کے لیے لازوال قربانیاں دیں۔ انہوں نے مہاجرین کی بحالی، خواتین کی تعلیم اور فلاحی کاموں میں حصہ لیا۔ لیکن ساتھ ہی جمہوری اداروں کی کمزوری پر آواز اٹھاتی رہیں۔تاریخ میں بے مثال جمہوری تحریک چلائی۔ آج بھی جب کوئی آئین، ووٹ کے تقدس اور عدلیہ کی آزادی کی بات کرتا ہے تو اسے "فاطمہ جناح کا نظریہ” کہہ کر دبایا جاتا ہے۔ کیونکہ حکمران جانتے ہیں کہ مادرِ ملت کا نام سنتے ہی عوام کو اپنا حق یاد آ جاتا ہے۔مادرِ ملت نے قوم کو سبق دیا کہ اصول پر سودا نہ کرو، خواتین قیادت کر سکتی ہیں اور "خاموشی سب سے بڑی غداری ہے”۔نوجوانوں اور طلبہ کے نام پیغام میں مادرِ ملت نے کہا تھا کہ "نوجوانو! قوموں کا مستقبل تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اگر تم خاموش رہے تو تاریخ تمہیں معاف نہیں کرے گی”۔ (کراچی یونیورسٹی 1965ء) محترمہ فاطمہ جناحؒ جمہوریت کی علمبردار تھیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عورت بھی قوم کی قیادت کر سکتی ہے۔ انہوں نے کبھی اقتدار کے لیے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ پاکستان کی پہلی عوامی سیاسی رہنما تھیں جنہوں نے جلسوں میں براہِ راست عوام سے بات کی۔ ان کی جمہوری تحریک ہی بعد میں پیپلز پارٹی اور دیگر جمہوری قوتوں کی بنیاد بنی۔محترمہ فاطمہ جناحؒ نے اپنی 75 سالہ زندگی کے 40 سال پہلے قیامِ پاکستان کے لیے، پھر جمہوری جدوجہد کے لیے وقف کر دیے۔محترمہ فاطمہ جناحؒ نے 9 جولائی 1967ء کو وفات پائی لیکن ان کی "لالٹین” آج بھی اندھیروں میں روشنی دیتی ہے۔قائدِ اعظم نے پاکستان بنایا، اور مادرِ ملت نے اسے جمہوری رکھنے کی جنگ لڑی۔تاریخ گواہ ہے کہ آمریت وقتی طور پر اقتدار تو چھین سکتی ہے، لیکن عوام کا ضمیر نہیں۔ مادرِ ملت نے اپنی لازوال قربانیوں سے تاریخ میں ایک بے مثال سیاسی جمہوری تحریک چلائی۔ آج جب ہم مہنگائی، ناانصافی اور اقتدار کی ہوس میں گھرے ہیں تو ہمیں پھر اسی "لالٹین” کی روشنی چاہیے۔ پاکستان کو فاطمہ جناح ک نظریۀ عمل کی ضرورت ہے جو کرسی کے لیے نہیں، قوم کے لیے بولیں۔ کیونکہ یہ ملک ووٹ سے بنا تھا اور ان شاءاللہ ووٹ سے ہی چلے گا۔ مادرِ ملت کی للکار آج بھی زندہ ہے۔ بس سننے والے کان اور عمل کرنے کا جذبہ چاہیے۔ حکومتِ پاکستان سے مطالبہ ہے کہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی جمہوری خدمات کے اعتراف میں ہر سال 9 جولائی کو "یومِ جمہوریہ” منایا جائے۔
تاکہ ہر پاکستانی کو یاد رہے: "یہ ملک ووٹ سے بنا تھا، ووٹ سے ہی چلے گا”

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button