
لاہور میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور کمزور بچوں کے تحفظ پر اہم میڈیا بریفنگ
آئینی ضمانتوں پر مؤثر عملدرآمد، قانونی اصلاحات اور ادارہ جاتی اقدامات کی ضرورت پر زور

By Voice of Germany Urdu News Team
مذہبی اقلیتی رہنماؤں، انسانی حقوق کے ماہرین، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے پاکستان میں کمزور بچوں کے تحفظ، مذہبی آزادی، آئینی حقوق اور انصاف تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر زور دیا ہے۔ لاہور میں منعقدہ ایک مشترکہ میڈیا بریفنگ میں مقررین نے کہا کہ آئینِ پاکستان مذہبی آزادی، مساوات اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی واضح ضمانت دیتا ہے، تاہم ان حقوق کو عملی شکل دینے کے لیے مؤثر قانون سازی، مضبوط اداروں اور شفاف انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے۔
میڈیا بریفنگ سے سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کامران مائیکل، سینٹر فار سوشل جسٹس (CSJ) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب، نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس (NCJP) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نعیم یوسف گل اور پارلیمنٹرین کمیشن فار ہیومن رائٹس (PCHR) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شفیق چوہدری نے خطاب کیا۔
آئین مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے
شرکاء نے اپنے مشترکہ مؤقف میں کہا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 20 ہر شہری کو مذہبی آزادی، آرٹیکل 25 قانون کے سامنے مساوات، آرٹیکل 27 سرکاری ملازمت میں امتیازی سلوک سے تحفظ جبکہ آرٹیکل 36 مذہبی اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ آئینی دفعات اس وقت ہی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں جب ان پر مکمل عملدرآمد، مؤثر ریاستی اداروں کی موجودگی اور تمام شہریوں کو بلاامتیاز انصاف تک رسائی حاصل ہو۔
ماریہ شہباز کیس پر عدالتی فیصلے کے بعد نئی قومی بحث
میڈیا بریفنگ میں حال ہی میں ماریہ شہباز کیس میں وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے عدلیہ کی آزادی اور فیصلوں کے احترام کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے کم عمر بچوں کے تحفظ، نابالغوں کی رضامندی، مذہب کی تبدیلی اور کم عمری کی شادی جیسے حساس معاملات پر ایک اہم قومی بحث کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال قانون سازوں، پالیسی سازوں اور سول سوسائٹی کے لیے موجودہ قانونی فریم ورک کا ازسرِنو جائزہ لینے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے تاکہ بچوں کے بنیادی حقوق کو مزید مؤثر طریقے سے تحفظ دیا جا سکے۔
حکومتی اقدامات کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا
شرکاء نے وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے فروغ کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔
انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے قومی بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی کی منظوری کو مذہبی رواداری، ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
اسی طرح مسیحی پرسنل لاز میں اصلاحات کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام اور پنجاب حکومت کی جانب سے مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی تاریخی و متروک عبادت گاہوں کی بحالی اور تزئین و آرائش کے اقدامات کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا گیا۔
پالیسیوں کا اصل امتحان ان پر عملدرآمد ہے
مقررین نے کہا کہ اگرچہ حکومتی سطح پر کی جانے والی قانون سازی اور پالیسی اصلاحات مثبت پیش رفت ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا اصل معیار ان پر مؤثر اور غیرجانبدارانہ عملدرآمد ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ مذہبی اقلیتوں کو اب بھی نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، جبری تبدیلی مذہب کے الزامات، بعض قوانین کے مبینہ غلط استعمال اور سماجی پسماندگی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جن کے مستقل حل کے لیے مزید مربوط قانونی اور ادارہ جاتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
کامران مائیکل: بچوں کے تحفظ کے قوانین کا ازسرنو جائزہ لیا جائے
سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کامران مائیکل نے اپنے خطاب میں کہا کہ پارلیمنٹ کو کمزور اور کم عمر بچوں سے متعلق قوانین کا مسلسل جائزہ لیتے رہنا چاہیے تاکہ آئینی ضمانتوں اور مذہبی آزادی کا مکمل احترام کرتے ہوئے بچوں کو زیادہ مضبوط قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض آئینی اور قانونی دفعات، جو مذہبی اقلیتوں کی بعض آئینی عہدوں تک رسائی کو محدود کرتی ہیں، ان پر بھی نظرثانی ہونی چاہیے تاکہ مساوی شہریت، جمہوری شمولیت اور ریاستی اداروں پر تمام شہریوں کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔
پیٹر جیکب: شفاف تحقیقات اور قانونی اصلاحات ضروری ہیں
سینٹر فار سوشل جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب نے کہا کہ جبری تبدیلی مذہب کے الزامات مذہبی اقلیتی برادریوں میں شدید تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے معاملات میں شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات، متاثرہ افراد کے تحفظ کے مؤثر طریقہ کار اور پاکستان کی آئینی ذمہ داریوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کے مطابق مزید قانونی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
نعیم یوسف گل: متاثرہ خاندانوں کو مؤثر معاونت فراہم کی جائے
نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نعیم یوسف گل نے کہا کہ ایسے واقعات متاثرہ خاندانوں پر گہرے سماجی اور نفسیاتی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ انصاف تک آسان رسائی، متاثرین کے لیے معاونتی نظام کو مضبوط بنانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کے اعتماد میں اضافے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں تاکہ کمزور طبقات خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔
شفیق چوہدری کی تمام ریاستی اداروں سے مشترکہ اقدامات کی اپیل
بریفنگ کے اختتام پر پارلیمنٹرین کمیشن فار ہیومن رائٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شفیق چوہدری نے حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ، قومی انسانی حقوق کے اداروں، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مشترکہ مشاورتی عمل کے ذریعے ایسے اقدامات کریں جن سے قانونی تحفظات مزید مضبوط ہوں، نفرت انگیز تقاریر کا مؤثر سدباب ہو، جبر اور استحصال کی روک تھام ممکن ہو اور ہر پاکستانی شہری کو بلاامتیاز مذہب و عقیدہ مساوی حقوق، تحفظ اور وقار میسر آ سکے۔

مذہبی ہم آہنگی اور آئینی مساوات کے فروغ پر زور
میڈیا بریفنگ کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق، مذہبی آزادی اور انسانی وقار کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کی بالادستی، اداروں کی مضبوطی، بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے ذریعے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جہاں ہر شہری مذہب، عقیدے یا برادری سے بالاتر ہو کر برابری اور احترام کے ساتھ زندگی گزار سکے۔



