
آبنائے ہرمز میں کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل، امریکہ کے ایران کے میزائل اور فضائی دفاعی نظام پر حملے، قشم جزیرے پر دھماکے، ٹرمپ کا سخت مؤقف
"وہ تقریباً ہر چیز ماننے کے لیے تیار تھے، لیکن صرف دو گھنٹے بعد ایک ڈرون کے ذریعے ایک بحری جہاز پر حملہ کر دیا گیا۔"

By voice of Germany Urdu News Team
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکہ نے اتوار کو ایران کے میزائل لانچنگ انفراسٹرکچر، فضائی دفاعی نظام اور آبنائے ہرمز کے اطراف موجود متعدد عسکری اہداف پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایرانی سرکاری ذرائع نے جزیرہ قشم پر متعدد پروجیکٹائل گرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں کا ہدف فوجی تنصیبات تھیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئیں، جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھیں گے۔ ان پیش رفتوں نے نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کے حوالے سے بھی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
امریکہ کی فضائی کارروائیاں
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ امریکی فوج نے ایران کے میزائل نظام، فضائی دفاعی تنصیبات اور دیگر عسکری اہداف پر متعدد حملے کیے۔
عہدیدار کے مطابق کارروائی کا مقصد ان صلاحیتوں کو محدود کرنا تھا جنہیں امریکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیتا ہے۔
اس کے علاوہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز کے اطراف مختلف مقامات پر موجود ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی چھوٹی تیز رفتار کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا، جنہیں امریکہ خطے میں بحری سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
جزیرہ قشم پر حملوں کی تصدیق
دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اتوار کے روز آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے اہم جزیرے قشم پر دس سے زائد میزائل یا دیگر پروجیکٹائل گرے۔
قشم ٹاؤن شپ کے گورنر حسین امیر تیموری نے سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ:
"اتوار کی دوپہر سے اب تک دشمن کے 10 سے 11 پروجیکٹائل جزیرہ قشم پر گرے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ تمام حملوں کا ہدف فوجی تنصیبات تھیں اور ان واقعات میں کسی شہری کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ایرانی حکام کے مطابق متعلقہ ادارے نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ دفاعی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
ٹرمپ کا سخت ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کو انتہائی سخت جواب دیا ہے۔
سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا:
"ہم نے گزشتہ رات انہیں بہت سخت جواب دیا۔”
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کے جواب میں کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اور امریکہ ایک روز قبل ممکنہ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔
ٹرمپ نے کہا:
"وہ تقریباً ہر چیز ماننے کے لیے تیار تھے، لیکن صرف دو گھنٹے بعد ایک ڈرون کے ذریعے ایک بحری جہاز پر حملہ کر دیا گیا۔”
انہوں نے مزید کہا:
"ان لوگوں کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔”
آبنائے ہرمز کھلی ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر نے این بی سی نیوز کے پروگرام Meet the Press میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت بھی عالمی تجارتی بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس اہم بحری گزرگاہ میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق امریکہ کسی بھی ایسے اقدام کو برداشت نہیں کرے گا جو عالمی تجارت یا توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کرے۔
مذاکرات اور فوجی کارروائی ساتھ ساتھ
حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک جانب امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے جاری رہے، جبکہ دوسری جانب میدان میں عسکری کارروائیاں بھی ہوتی رہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہی صورتحال موجودہ بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، کیونکہ مذاکرات کی ناکامی یا کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر برآمد ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
خلیجی ممالک، جن میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، عراق اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک شامل ہیں، اپنی توانائی کی برآمدات کے لیے بڑی حد تک اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے اس علاقے میں معمولی کشیدگی بھی عالمی تیل کی قیمتوں، بحری انشورنس، شپنگ لاگت اور بین الاقوامی تجارت پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
عالمی منڈیوں میں تشویش
امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کے تبادلے کے بعد بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں، شپنگ کمپنیوں اور تجارتی اداروں نے صورتحال پر گہری نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی یا آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں کی معیشتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
آئندہ منظرنامہ
علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے، تاہم حالیہ فوجی کارروائیوں نے اعتماد کی فضا کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے فیصلے نہ صرف خلیجی خطے کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی، بین الاقوامی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کے مجموعی امن و استحکام کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ عالمی برادری اس بات پر زور دے رہی ہے کہ مزید فوجی تصادم سے گریز کرتے ہوئے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل تلاش کیا جائے تاکہ خطے کو ایک وسیع تر بحران سے بچایا جا سکے۔





