پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

پاکستان: کارگو طیارے کا ملبہ نکالنے کا عمل جاری، بحیرہ عرب میں لاپتہ عملے کی تلاش

مد و جزر، تیز ہواؤں اور بدلتی ہوئی سمندری لہریں تیرتے ہوئے ملبے کو ایک وسیع علاقے پر بکھیر سکتی ہیں اور حادثے کی جگہ کی نشاندہی کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے جس سے تلاش پیچیدہ ہو گئی ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاک بحریہ کی سرچ ٹیموں نے اس ہفتے کے شروع میں بحیرۂ عرب میں گر کر تباہ ہو جانے والے کارگو طیارے کا مزید ملبہ برآمد کیا جبکہ طیارے کے لاپتہ عملے کے پانچ ارکان کی تلاش جمعہ کو تیسرے دن میں داخل ہو گئی ہے۔ تفتیش کار ملبے کا تجزیہ کریں گے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے گہرے پانیوں میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں اور لاپتہ عملے کو تلاش کرنے کے لیے مربوط کوششوں میں طیارے اور دیگر اثاثہ جات تعینات کیے گئے ہیں۔
اتھارٹی نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ حادثے کی وجہ کی تحقیقات جاری ہے۔
کراچی میں قائم نجی مال بردار ایئرویز کے زیرِ انتظام چلنے والا طیارہ متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے کراچی کے لیے روانہ ہوا جو منگل کے اواخر میں اپنے نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع کے بعد ریڈار سے غائب ہو گیا۔
بلوچستان میں پاکستان کے جنوب مغربی ساحل مکران کے ساحلی قصبے اورماڑہ سے تقریباً 100 کلومیٹر (60 میل) کے فاصلے پر بحریہ نے بدھ کے روز ملبے کے پہلے ٹکڑے برآمد کیے لیکن حکام نے کہا ہے کہ طیارے کا مین فیوزلیج اور عملے کے پانچوں ارکان لاپتہ ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے حکام کو لاپتہ عملے کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ کے ٹو ایئرویز نے کہا ہے کہ وہ حادثے کی تحقیقات کرنے والے سول ایوی ایشن حکام سے مکمل تعاون کر رہا ہے۔
مد و جزر، تیز ہواؤں اور بدلتی ہوئی سمندری لہریں تیرتے ہوئے ملبے کو ایک وسیع علاقے پر بکھیر سکتی ہیں اور حادثے کی جگہ کی نشاندہی کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے جس سے تلاش پیچیدہ ہو گئی ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے کہا ہے کہ ریڈار ڈیٹا کے مطابق منگل کو طیارے نے تیزی سے رخ تبدیل کیا اور تیز رفتاری سے نیچے آیا۔ پھر رات 9:21 بجے
کراچی سے تقریباً 287 کلومیٹر (178 میل) مغرب میں ریڈیو اور ریڈار سے اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔
پاکستان کو حالیہ عشروں میں کئی مہلک فضائی حادثات کا سامنا ہوا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button