
محرم الحرام کے کامیاب سکیورٹی انتظامات پر تقریبِ تقسیمِ اسناد، 5 ہزار سے زائد فرقہ وارانہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس رپورٹ، چہلم کے لیے بھی ہائی الرٹ سکیورٹی پلان تیار
جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے باعث کسی بھی ممکنہ خطرے یا ہنگامی صورتحال پر بروقت ردعمل دینا ممکن ہوا۔
قاسم بخاری-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
لاہور: محرم الحرام کے دوران صوبہ بھر میں امن و امان کو یقینی بنانے، حساس مذہبی اجتماعات کے تحفظ، سائبر نگرانی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور بین الادارہ جاتی رابطہ کاری میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے اعزاز میں محکمہ داخلہ پنجاب میں ایک پروقار تقریبِ تقسیمِ اسناد منعقد کی گئی۔ تقریب میں سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے بہترین خدمات انجام دینے والے افسران و اہلکاران میں تعریفی اسناد تقسیم کیں اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، لگن اور فرض شناسی کو سراہا۔
تقریب میں محکمہ داخلہ کے اعلیٰ افسران، مختلف شعبہ جات کے نمائندوں اور متعلقہ حکام نے شرکت کی، جبکہ محرم الحرام کے دوران نافذ کیے گئے سکیورٹی پلان، سائبر مانیٹرنگ، ڈیجیٹل نگرانی اور امن و امان کی مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔
محرم کے دوران فول پروف سکیورٹی انتظامات
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ حکومت پنجاب نے محرم الحرام کے دوران عوام کے جان و مال، مذہبی آزادی اور عزت و آبرو کے تحفظ کو اولین ترجیح بناتے ہوئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں جلوسوں، مجالس اور دیگر مذہبی سرگرمیوں کے لیے ایک جامع اور مربوط سکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا، جس پر پولیس، سول انتظامیہ، ریسکیو اداروں، سول ڈیفنس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں نے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ عمل درآمد کیا۔
ان کے مطابق محرم الحرام کے دوران صوبے کے حساس اضلاع میں اضافی نفری تعینات کی گئی، داخلی و خارجی راستوں کی کڑی نگرانی کی گئی، سرچ، سویپ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز بھی جاری رہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔
مرکزی کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال رہا
ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے بتایا کہ محکمہ داخلہ پنجاب کا مرکزی کنٹرول روم پورے عشرہ محرم کے دوران 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن (24/7) مسلسل فعال رہا۔
انہوں نے کہا کہ کنٹرول روم کے ذریعے پنجاب بھر کے اضلاع سے لمحہ بہ لمحہ رپورٹس موصول ہوتی رہیں، جن کی بنیاد پر سکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا گیا اور ضرورت کے مطابق فوری فیصلے کیے گئے۔
ان کے مطابق جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے باعث کسی بھی ممکنہ خطرے یا ہنگامی صورتحال پر بروقت ردعمل دینا ممکن ہوا۔
سائبر پٹرولنگ اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ
سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ موجودہ دور میں سکیورٹی کے چیلنجز صرف زمینی سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ ڈیجیٹل دنیا بھی امن و امان کے لیے ایک اہم محاذ بن چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ محکمہ داخلہ پنجاب کے ڈیجیٹل میڈیا سیل اور سائبر پٹرولنگ سیل نے محرم الحرام کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مسلسل نگرانی کی۔
ان کے مطابق اس دوران 5 ہزار سے زائد ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی جو فرقہ وارانہ نفرت، اشتعال انگیزی اور مذہبی منافرت پر مبنی مواد پھیلا رہے تھے۔
یہ تمام اکاؤنٹس مزید کارروائی کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو رپورٹ کیے گئے تاکہ متعلقہ قوانین کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
محرم پورٹل نے اہم کردار ادا کیا
ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے بتایا کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے قائم کیا گیا محرم پورٹل بھی محرم الحرام کے دوران انتہائی مؤثر ثابت ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے صوبہ بھر سے سکیورٹی صورتحال، جلوسوں اور مجالس کی معلومات، انتظامی امور اور دیگر اہم رپورٹس حقیقی وقت (Real Time) میں موصول ہوتی رہیں، جس سے فوری فیصلے کرنے اور وسائل کی مؤثر تقسیم میں مدد ملی۔
چہلم کے لیے بھی خصوصی سکیورٹی پلان
سیکرٹری داخلہ نے اعلان کیا کہ جس طرح محرم الحرام کے دوران فول پروف انتظامات کیے گئے، اسی طرز پر چہلم حضرت امام حسینؓ کے موقع پر بھی جامع سکیورٹی پلان نافذ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حساس مقامات، جلوسوں اور اجتماعات کی سکیورٹی مزید مؤثر بنانے کے لیے پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضلعی انتظامیہ اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطہ کاری پہلے ہی شروع کر دی گئی ہے۔
شرانگیزی پر سخت قانونی کارروائی
ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب فرقہ واریت، مذہبی نفرت اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف پیکا (Prevention of Electronic Crimes Act – PECA)، انسداد دہشت گردی ایکٹ اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کی نفرت انگیزی، فرقہ وارانہ اشتعال یا جھوٹی معلومات کے ذریعے امن و امان خراب کرنے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔
عوام کا تحفظ اولین ترجیح
اپنے خطاب میں سیکرٹری داخلہ پنجاب نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال، عزت و آبرو اور بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب مستقبل میں بھی جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی، مؤثر انٹیلی جنس نظام اور اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کے ذریعے امن و امان کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
تقریب میں اعلیٰ حکام کی شرکت
تقریب میں محکمہ داخلہ پنجاب کے متعدد اعلیٰ افسران نے شرکت کی، جن میں:
- سپیشل سیکرٹری داخلہ فیصل فرید
- سپیشل سیکرٹری داخلہ زینب خان
- ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ عاصمہ اعجاز چیمہ
- ایڈیشنل سیکرٹری انٹرنل سکیورٹی ماہم آصف ملک
- ایڈیشنل سیکرٹری سپیشل انیشیٹو عبدالرؤف
- ڈائریکٹر سول ڈیفنس تسنیم علی خان
اور دیگر متعلقہ حکام شامل تھے۔
تقریب کے اختتام پر محرم الحرام کے دوران نمایاں خدمات انجام دینے والے افسران اور اہلکاروں کو تعریفی اسناد سے نوازا گیا، جبکہ اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پنجاب میں امن و امان، مذہبی ہم آہنگی اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ادارے آئندہ بھی مکمل یکجہتی، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔



