
اسلام آباد میں سربرینیکا نسل کشی کی 31ویں برسی پر خصوصی تقریب، پاکستان اور بوسنیا نے انسانی اقدار، امن اور انصاف کے عزم کا اعادہ کیا
پاکستان ہر قسم کی نسل کشی، جنگی جرائم، نسلی امتیاز، مذہبی نفرت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی واضح الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے سفارت خانے کے زیر اہتمام وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سربرینیکا نسل کشی (Srebrenica Genocide) کی 31ویں برسی کے موقع پر ایک پروقار یادگاری تقریب اور خصوصی تصویری نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں حکومت پاکستان، سفارتی برادری، مسلح افواج، انسانی حقوق کے نمائندوں، تعلیمی حلقوں، طلبہ اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کا مقصد جولائی 1995 میں بوسنیا کے شہر سربرینیکا میں پیش آنے والے المناک قتل عام کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرنا، عالمی برادری کو نسل کشی کے ہولناک نتائج سے آگاہ کرنا اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو اجاگر کرنا تھا۔
تقریب کے موقع پر "The Lives Behind the Fields of Death” کے عنوان سے ایک خصوصی تصویری نمائش بھی سجائی گئی، جس میں سربرینیکا کے متاثرین کی زندگیوں، جنگ کے دوران پیش آنے والے دلخراش واقعات، اجتماعی قبروں، یادگار اشیاء، تاریخی دستاویزات اور تصاویر کے ذریعے اس انسانی المیے کی مختلف جہات کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔
بیرسٹر عقیل ملک کا خطاب
تقریب کے مہمان خصوصی، قانون و انصاف کے وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے اپنے خطاب میں سربرینیکا کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جولائی 1995 میں بوسنیا میں پیش آنے والی نسل کشی انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی نسل کشی، جنگی جرائم، نسلی امتیاز، مذہبی نفرت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی واضح الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ سربرینیکا کا سانحہ دنیا کے لیے ایک اہم سبق ہے کہ اگر نفرت، انتہا پسندی اور تعصب کو بروقت نہ روکا جائے تو اس کے نتائج لاکھوں بے گناہ انسانوں کی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو انصاف، برداشت، بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔
بوسنیا کے سفیر کا پاکستان کو خراج تحسین
پاکستان میں بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے سفیر ایمن کوہوداریوچ (Emin Čohodarević) نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بوسنیا کی جنگ کے دوران پاکستان کی غیر معمولی سفارتی، عسکری، انسانی اور امدادی معاونت کو خصوصی طور پر سراہا۔
انہوں نے کہا کہ بوسنیا کے عوام پاکستان کی اس تاریخی حمایت کو آج بھی انتہائی احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل ترین حالات میں پاکستان نے نہ صرف عالمی سطح پر بوسنیا کا مؤقف اجاگر کیا بلکہ انسانی امداد، طبی سہولیات اور دیگر عملی تعاون بھی فراہم کیا۔
سفیر نے کہا کہ پاکستان اور بوسنیا کے درمیان دوستی صرف سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ مشترکہ انسانی اقدار، باہمی احترام اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی مضبوط روایت پر قائم ہے۔
پاک فوج اور پاکستانی عوام کی خدمات کو سراہا گیا
تقریب کے دوران بوسنیا کی جانب سے پاک فوج، حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی خدمات کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
مقررین نے کہا کہ بوسنیا کی جنگ کے دوران پاکستان نے متاثرین تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانے، طبی سہولیات فراہم کرنے اور بین الاقوامی سطح پر امن و انصاف کے مطالبات کو اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا، جسے بوسنیا کے عوام آج بھی فراموش نہیں کر سکے۔
متاثرین کی یاد میں خاموشی
تقریب کے شرکاء نے سربرینیکا نسل کشی کے ہزاروں متاثرین کی یاد میں چند لمحوں کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر ایک خصوصی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں سربرینیکا کے سانحے، متاثرہ خاندانوں کی داستان، جنگی جرائم کے شواہد، اجتماعی قبروں کی دریافت، انصاف کی جدوجہد اور عالمی برادری کے ردعمل کو تفصیل سے پیش کیا گیا۔
ڈاکومینٹری دیکھنے والے شرکاء نے اس انسانی المیے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دنیا کو نفرت، نسل پرستی اور مذہبی تعصب سے پاک بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنا ضروری ہیں۔
تصویری نمائش نے حاضرین کو جذباتی کر دیا
"دی لائیوز بہائنڈ دی فیلڈز آف ڈیتھ” کے عنوان سے منعقدہ تصویری نمائش تقریب کا مرکزی حصہ تھی، جہاں بڑی تعداد میں سفارت کاروں، طلبہ، محققین اور شہریوں نے شرکت کی۔
نمائش میں متاثرین کی ذاتی اشیاء، تاریخی تصاویر، جنگ کے دوران محفوظ کیے گئے ریکارڈ، اجتماعی قبروں سے برآمد ہونے والی علامات اور متاثرہ خاندانوں کی کہانیوں کو انتہائی مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔
شرکاء نے نمائش کو تاریخ کے ایک اہم مگر دردناک باب کو سمجھنے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ ایسی تقریبات نئی نسل کو امن، رواداری اور انسانی حقوق کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
سربرینیکا کا سانحہ
سربرینیکا نسل کشی کو دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں پیش آنے والا بدترین اجتماعی قتل عام قرار دیا جاتا ہے۔ جولائی 1995 میں بوسنیائی سرب افواج نے اقوام متحدہ کے محفوظ زون قرار دیے گئے سربرینیکا میں داخل ہو کر آٹھ ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو قتل کر دیا، جبکہ ہزاروں خواتین، بچوں اور بزرگوں کو بے گھر ہونا پڑا۔
بعد ازاں بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) اور سابق یوگوسلاویہ کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل (ICTY) نے ان واقعات کو باضابطہ طور پر نسل کشی (Genocide) قرار دیا، جبکہ متعدد فوجی اور سیاسی رہنماؤں کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں سزا بھی سنائی گئی۔
امن اور انصاف کے لیے مشترکہ عزم
تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سربرینیکا جیسے سانحات کی یاد صرف ماضی کو یاد رکھنے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو انسانی حقوق کے تحفظ، مذہبی آزادی، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، انصاف کی فراہمی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنی چاہئیں تاکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں دوبارہ ایسے المناک واقعات رونما نہ ہوں۔



