
شمالی ایران میں بھی امریکی کارروائیاں شروع
گزشتہ چند روز کے دوران امریکی حملوں کا زیادہ تر مرکز جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے اطراف کے علاقے تھے

By Voice of Germany Urdu News Team
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تصادم ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ امریکہ نے پہلی بار شمالی ایران کو بھی اپنے حملوں کا نشانہ بنا کر فوجی کارروائیوں کا دائرہ نمایاں طور پر وسیع کر دیا، جس سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ جنگ اب محدود محاذوں سے نکل کر ایران کے مزید اندرونی علاقوں تک پہنچ رہی ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے بلکہ ایک وسیع تر علاقائی تصادم کے خدشات بھی مزید گہرے کر دیے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب آبنائے ہرمز کے گرد لڑائی بدستور جاری ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی حملوں میں دارالحکومت تہران کے قریب واقع مقامات کے علاوہ صوبہ سمنان کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خلائی پروگرام سے متعلق تنصیبات موجود ہیں۔
ادھر ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمدان، لرستان، مرکزی، خوزستان، ہرمزگان، سیستان و بلوچستان سمیت مختلف صوبوں میں بھی فضائی حملے کیے گئے۔
شمالی ایران کو نشانہ بنایا جانا فوجی کارروائیوں میں ایک اہم تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ گزشتہ چند روز کے دوران امریکی حملوں کا زیادہ تر مرکز جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے اطراف کے علاقے تھے، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان موجودہ کشیدگی کا مرکزی محاذ بن چکے ہیں۔
بحری محاصرہ برقرار
ایک اور پیش رفت میں امریکی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے کوراساؤ کے پرچم والی ایک آئل ٹینکر کو غیر مؤثر بنا دیا، جو ایران کی سب سے بڑی تیل برآمدی بندرگاہ جزیرہ خارگ کی جانب جا رہا تھا۔ امریکی فوج نے الزام عائد کیا کہ ٹینکر ایران پر دوبارہ عائد کیے گئے بحری محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
دوسری جانب ایران نے بحرین، اردن اور کویت کی سمت میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جبکہ ایرانی فوج نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو تہران اپنی فوجی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرے گا۔
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کو ”سرخ لکیر ”قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بحری محاصرہ جاری رہا تو پاسدارانِ انقلاب خطے سے توانائی کی برآمدات روکنے کی دھمکی پر عمل کر سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت اس عارضی مفاہمت کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے جس نے کچھ عرصے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان لڑائی روک دی تھی۔ گزشتہ چند روز کے دوران واشنگٹن اور تہران ایک دوسرے پر حملے کر چکے ہیں، جبکہ مبصرین مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
نئے مرحلے میں داخلہ
فوجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایران کا نہ کوئی شمال ہے، نہ جنوب، نہ مشرق اور نہ مغرب۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران ایک متحد ملک ہے، اور یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی حملوں کا دائرہ ملک کے نئے علاقوں تک پھیل گیا۔شمالی ایران تک امریکی حملوں کا پہنچنا موجودہ جنگ کے آغاز کے بعد اہم ترین عسکری پیش رفتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق اس سے کشیدگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو سکتا ہے، جس میں ایران کے اندر مزید گہرائی تک اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب سفارتی کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں اور خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔



