
ژینس تھوراؤ
ان تصاویر میں مذکورہ تمام رہنماؤں کو امریکی جیلوں میں استعمال ہونے والی نارنجی رنگ کی قیدیوں کی وردی میں دکھایا گیا۔
خیال رہے کہ فروری سے متعدد یورپی ممالک نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ بعض ممالک نے ان امریکی کارروائیوں لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت بھی دی۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا اپنے والد کی ہلاکت کا’انتقام‘لینے کا عزم
ایران کے خلاف فوجی مہم کے آغاز ہی میں اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد ان کے صاحب زادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کا جانشین مقرر کیا گیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے گزشتہ ہفتے ایک تحریری بیان میں اپنے والد کی ہلاکت کا ”انتقام‘‘ لینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
اس ہفتے ایران کے مقبول اخبار ھمشہری کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا تھا، ”انتقام ناگزیر ہے۔ مجرم اپنی پُرامن موت کی خواہش کو بھی قبر میں لے جائیں گے۔‘‘
تاہم یہ مضمون اتوار کے پرنٹ ایڈیشن میں شامل نہیں کیا گیا جبکہ رواں ہفتے کے آغاز تک اسے اخبار کی ویب سائٹ سے بھی حذف کر دیا گیا۔

جرمن حکومت کا ردعمل
جرمن حکومت کے نائب ترجمان اسٹیفان مائر نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران صرف اتنا کہا کہ حکومت نے اس مبینہ دھمکی کا نوٹس لے لیا ہے تاہم انہوں نے اس پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
لیکن بعض دیگر جرمن حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیوں کا امکان نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال سے انتہا پسند گروہوں کو تقویت ملنے اور تنہا حملہ آوروں (لون ایکٹرز) کے متحرک ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
جرمن پارلیمان کے انٹیلی جنس اداروں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کے چیئرمین مارک ہینرش مان نے کہا، ”ہمیں یہ فرض کرنا چاہیے کہ ایرانی انٹیلیجنس ادارے یورپ میں بھی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جرمن سکیورٹی اداروں کو خاص طور پر ایسے افراد کے حوالے سے تشویش ہے، جنہیں صرف ایک حملہ انجام دینے کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے۔ سکیورٹی حلقوں میں ایسے افراد کو ”ڈسپوزیبل ایجنٹس‘‘ کہا جاتا ہے۔
جرمنی کے سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں ایرانی حمایت یافتہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا جبکہ انٹیلیجنس ادارے اس حوالے سے مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
جرمن حکام کے اندازے کے مطابق ملک میں تقریباً 180 ایسے افراد موجود ہیں جو یا تو ایران کی طاقتور پاسدارانِ انقلاب یا ایرانی انٹیلیجنس اداروں کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
آن لائن پورٹل ‘یورایکٹیو‘ کی جانب سے کیے گئے ایک استفسار کے جواب میں جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے تحفظِ آئین (بی ایف وی) نے مئی میں کہا تھا کہ ایرانی انٹیلیجنس ادارے طویل عرصے سے ایسے اقدامات کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں، جنہیں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔
بی ایف وی نے مزید کہا کہ ایران کے اندر جاری حملوں کے باعث ایرانی سکیورٹی نظام نمایاں طور پر کمزور ہوا ہے۔ تاہم حکام کو خدشہ ہے کہ اگر ایران پر دباؤ میں کمی آئی، خصوصاً جنگ کے باضابطہ خاتمے کے بعد، تو تہران اپنی سرگرمیوں کا رخ بیرونِ ملک موڑ سکتا ہے۔



