
By Voice of Germany Urdu News Team
ریاض: سعودی عرب جہاں ایک طرف اپنے صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے، وہیں عالمی معیار کے سیاحتی منصوبوں اور جدید طبی سہولتوں کی بدولت طبی (Medical Tourism) اور شفائی (Wellness Tourism) سیاحت کو بھی قومی معیشت کے ایک اہم ستون کے طور پر فروغ دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مؤثر ضابطہ سازی، مربوط پالیسی اور عالمی سطح پر مضبوط تشہیری حکمت عملی اختیار کی جائے تو سعودی عرب آئندہ چند برسوں میں مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ دنیا کے نمایاں طبی سیاحتی مراکز میں شامل ہو سکتا ہے۔
سعودی وژن 2030 کے تحت مملکت اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر سیاحت، صحت، سرمایہ کاری اور جدید خدمات جیسے شعبوں کی جانب منتقل کر رہی ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت طبی اور شفائی سیاحت کو ایک ایسے شعبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دے سکتا ہے بلکہ زیادہ اخراجات کرنے والے سیاحوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
طبی اور شفائی سیاحت میں بنیادی فرق
ماہرین کے مطابق طبی سیاحت اور شفائی سیاحت اگرچہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے شعبے ہیں، تاہم دونوں کے مقاصد مختلف ہیں۔
طبی سیاحت سے مراد ایسے مریضوں کا دوسرے ملک سفر کرنا ہے جہاں وہ پیچیدہ سرجری، خصوصی طبی علاج، جدید تشخیص، سرطان، امراضِ قلب، اعضا کی پیوندکاری یا دیگر تخصصی طبی خدمات حاصل کر سکیں۔
دوسری جانب شفائی یا صحت افزا سیاحت کا مقصد جسمانی و ذہنی صحت کی بحالی، قدرتی علاج، فزیوتھراپی، بحالی صحت کے پروگرام، غذائی رہنمائی، ذہنی سکون، قدرتی ماحول اور خوشگوار آب و ہوا سے استفادہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔
عالمی سطح پر دونوں شعبوں کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کے باعث سعودی عرب کے لیے اس تیزی سے پھیلتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
جدید طبی انفراسٹرکچر سعودی عرب کی بڑی طاقت
سعودی عرب نے گزشتہ چند برسوں میں صحت کے شعبے میں اربوں ریال کی سرمایہ کاری کی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں عالمی معیار کے متعدد طبی شہر، تخصصی اسپتال اور جدید تحقیقاتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
مملکت میں سرطان، امراضِ قلب، اعضا کی پیوندکاری، ری ہیبیلیٹیشن، جدید تشخیصی سہولتوں اور خصوصی علاج کے لیے جدید طبی مراکز موجود ہیں، جہاں جدید ترین طبی ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کے علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معیار کے ہوائی اڈے، جدید شاہراہیں، لگژری ہوٹل، ریزورٹس، ٹرانسپورٹ اور سیاحتی سہولتیں بیرونِ ملک سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو ایک مکمل اور معیاری تجربہ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ریاض، جدہ، طائف اور جنوبی سعودی عرب اہم مراکز
ماہرین کے مطابق ریاض، جدہ، طائف اور سعودی عرب کے جنوبی علاقے صحت اور سیاحت کے امتزاج کے لیے بہترین مقامات بن سکتے ہیں۔
ریاض میں جدید طبی مراکز اور تخصصی اسپتال موجود ہیں، جبکہ جدہ اپنی بین الاقوامی فضائی رابطہ سہولتوں اور سیاحتی انفراسٹرکچر کی وجہ سے غیر ملکی مریضوں کے لیے انتہائی موزوں شہر تصور کیا جاتا ہے۔
اسی طرح طائف، عسیر اور الباحہ اپنے معتدل موسم، سرسبز پہاڑی علاقوں اور قدرتی حسن کے باعث بحالی صحت، آرام اور ذہنی سکون کے خواہشمند افراد کے لیے بہترین منزل بن سکتے ہیں۔
الاحساء میں قدرتی چشموں، نخلستانوں اور قدرتی علاج پر مبنی منصوبے مستقبل میں سعودی عرب کی سیاحتی صنعت کو مزید متنوع بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
"امالا” صحت و عافیت کی سیاحت کا عالمی منصوبہ
سعودی عرب کے سب سے منفرد منصوبوں میں "امالا” کو صحت و عافیت (Wellness Tourism) کے عالمی مرکز کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ تقریباً 4200 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہوگا اور اس میں عالمی معیار کے ریزورٹس، قدرتی علاج، ذہنی سکون، غذائیت، فٹنس، طویل اور صحت مند زندگی (Longevity) اور جامع طبی سہولتیں ایک ہی مقام پر فراہم کی جائیں گی۔
امالا میں دنیا کے معروف ادارے Clinique La Prairie Health Resort، Jayasom Wellness Resort اور Six Senses AMAALA اپنے جدید ریزورٹس قائم کر رہے ہیں، جہاں مہمانوں کو جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صحت کے جامع پروگرام فراہم کیے جائیں گے۔
توقع ہے کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد سالانہ ایک لاکھ سے زائد سیاح صرف امالا کا رخ کریں گے، جس سے سعودی عرب کی سیاحتی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
عالمی درجہ بندی میں سعودی عرب کی پوزیشن
میڈیکل ٹورازم انڈیکس (Medical Tourism Index) کی تازہ ترین درجہ بندی کے مطابق سعودی عرب دنیا بھر میں 35ویں جبکہ عرب ممالک میں ساتویں نمبر پر موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طبی سیاحت کے لیے مربوط قومی حکمت عملی، بین الاقوامی تشہیر، ویزا سہولتوں اور نجی و سرکاری شعبوں کے درمیان بہتر تعاون کو فروغ دیا جائے تو سعودی عرب آئندہ برسوں میں عالمی درجہ بندی میں نمایاں بہتری حاصل کر سکتا ہے۔
خطے کے مریض پہلے ہی سعودی اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں
سعودی عرب اس وقت بھی یمن، سوڈان، شام اور متعدد افریقی ممالک سے آنے والے ہزاروں مریضوں کو اپنے اسپتالوں میں علاج فراہم کر رہا ہے۔
اگرچہ ان مریضوں کو ہر مرتبہ سرکاری سیاحتی اعداد و شمار میں طبی سیاح کے طور پر شامل نہیں کیا جاتا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ بھی طبی سیاحت کا اہم حصہ ہیں اور مستقبل میں اس شعبے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
طبی سیاح سب سے زیادہ اخراجات کرتے ہیں
معاشی ماہرین کے مطابق طبی سیاحت صرف اسپتالوں کی آمدنی تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس سے ہوٹل، ریسٹورنٹس، سفری کمپنیاں، فارمیسیاں، خریداری مراکز، تفریحی مقامات اور دیگر کاروبار بھی براہِ راست مستفید ہوتے ہیں۔
عالمی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ طبی یا شفائی سیاح عام سیاح کے مقابلے میں اوسطاً دو سے تین گنا زیادہ اخراجات کرتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ عرصہ قیام کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اہلِ خانہ یا معاون افراد بھی سفر کرتے ہیں۔
وزارتِ سیاحت کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران سعودی عرب میں تقریباً 2 کروڑ 93 لاکھ (29.3 ملین) غیر ملکی سیاح آئے، جنہوں نے مجموعی طور پر 172 ارب ریال سے زائد اخراجات کیے۔
ان اعداد و شمار کی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ایک طبی سیاح اپنے ایک سفر کے دوران اوسطاً تقریباً 18 ہزار ریال تک خرچ کر سکتا ہے، تاہم علاج کی نوعیت، قیام کے دورانیے اور ہمراہ آنے والے افراد کی تعداد کے مطابق یہ رقم مزید بڑھ سکتی ہے۔
ترقی کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
ماہرین کے مطابق اگرچہ سعودی عرب کے پاس طبی اور شفائی سیاحت کی ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچہ موجود ہے، تاہم اس شعبے کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلانے کے لیے چند اہم اقدامات ناگزیر ہیں۔
ان میں طبی سیاحت کے الگ سرکاری اعداد و شمار جاری کرنا، علاج، رہائش، سفر اور بحالی صحت پر مشتمل جامع پیکجز متعارف کرانا، بیرونِ ملک مؤثر مارکیٹنگ مہم چلانا، اسپتالوں، ہوٹلوں، ایئرلائنز اور ٹریول کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنانا اور خصوصی طبی ویزا نظام کو مزید آسان بنانا شامل ہے۔
اردن ایک کامیاب مثال
ماہرین اردن کی مثال دیتے ہیں، جہاں طبی سیاحت کے فروغ کے لیے خصوصی علاج ویزا، اسپتالوں کا مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور ایسے جامع پیکجز متعارف کرائے گئے ہیں جن میں علاج، سفر، رہائش اور صحت یابی کی تمام سہولتیں ایک ہی منصوبے کے تحت فراہم کی جاتی ہیں۔
اسی ماڈل کو سعودی عرب بھی اپنی ضروریات کے مطابق اختیار کر سکتا ہے، جس سے عالمی سطح پر اس کی مسابقت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں اہم کردار
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ طبی اور شفائی سیاحت مستقبل میں سعودی عرب کی غیر تیل آمدنی بڑھانے، نئی سرمایہ کاری لانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عالمی سیاحتی صنعت میں مملکت کی پوزیشن مستحکم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ان کے مطابق سعودی عرب کے پاس جدید طبی سہولتیں، عالمی معیار کا انفراسٹرکچر، پرکشش قدرتی مقامات، بڑے ترقیاتی منصوبے اور حکومتی سرپرستی جیسے تمام عناصر موجود ہیں۔
اگر ان تمام وسائل کو ایک جامع قومی حکمت عملی کے تحت یکجا کر کے عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا جائے تو سعودی عرب نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے نمایاں طبی اور شفائی سیاحتی مراکز میں شامل ہو سکتا ہے، جس سے وژن 2030 کے تحت قومی معیشت کو متنوع بنانے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی نمایاں مدد ملے گی۔




