
بھارت کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ سے متعلق مبینہ حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک
مبینہ دستاویزات میں وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹمز کے خاکے، سپلائرز کی فہرستیں، معائنہ رپورٹس، اجلاسوں کا ریکارڈ اور انشورنس پالیسیوں کی تفصیلات شامل ہیں
روئٹرز کے ساتھ
انٹرنیٹ پر حساس ڈیٹا کی چوری کے بعد اس کے بدلے تاوان طلب کرنے والے ہیکرز (رینسم ویئر گروپ) ورلڈ لیکس (World Leaks) نےبھارت کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کودانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق مبینہ طور پر حساس دستاویزات ڈارک ویب پر جاری کر دی ہیں، جن میں پلانٹ کے بعض حصوں کے خاکے، سپلائرز کی معلومات اور دیگر تکنیکی ریکارڈ شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق جنوبی بھارتی ریاست تامل ناڈو میں واقع کودانکولم پلانٹ بھارت کے سات جوہری بجلی گھروں میں سے سب سے بڑا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے جوہری توانائی کے توسیعی منصوبے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
اس پلانٹ کے کنٹریکٹر ریلائنس گروپ نے تصدیق کی ہے کہ اس کے ایک سرور پر ’’ ڈیٹا کی جزوی خلاف ورزی‘‘ ہوئی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ سرور بھارتی ڈیٹا سینٹر پرووائیڈر یوٹا (Yotta) کے پاس ہوسٹ کیا گیا تھا اور اس واقعے سے حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ کون سا ڈیٹا متاثر ہوا۔
آزاد سائبر سکیورٹی محقق راکیش کرشنن کے مطابق ڈارک ویب پر KKNP کے نام سے تقریباً 19 ہزار فائلیں، جن کا مجموعی حجم 14.3 گیگا بائٹ بنتا ہے، 11 جون سے دستیاب ہیں۔ یہ فائلیں مبینہ طور پر 2016 سے 2025 کے وسط تک کی دستاویزات پر مشتمل ہیں۔
روئٹرز نے ان دستاویزات کا جائزہ لیا، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ مبینہ دستاویزات میں وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹمز کے خاکے، سپلائرز کی فہرستیں، معائنہ رپورٹس، اجلاسوں کا ریکارڈ اور انشورنس پالیسیوں کی تفصیلات شامل ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ معلومات درست ثابت ہوئیں، تو ان سے پلانٹ کے معاون نظام، سپلائی چین اور ممکنہ سکیورٹی کمزوریوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے، جو سب حفاظتی خطرات میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ نے کہا کہ اس نوعیت کی معلومات غلط ہاتھوں میں جانے سے وہ پلانٹ کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔
بھارت کی نیوکلیئر پاور کارپوریشن اور سائبر سکیورٹی کا قومی ادارہ CERT-In اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم حکام نے تاحال اس لیک ہونے والے ڈیٹا کی نوعیت یا صداقت پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔
دوسری جانب یوٹا کا کہنا ہے کہ اس نے 29 مئی کو ریلائنس انفراسٹرکچر کے سرور پر مشکوک سرگرمی کا پتہ چلنے کے بعد فوری کارروائی کی اور ممکنہ رینسم ویئر حملہ روک دیا تھا، تاہم بعد میں کمپنی نے بیرونی عناصر کی جانب سے ڈیٹا لیک کے دعووں سے آگاہ کیا۔
واضح رہے کہ ورلڈ لیکس نامی ہیکنگ گروپ اس سے قبل بھی متعدد بڑی کمپنیوں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنا چکا ہے اور مبینہ طور پر تاوان کی رقم نہ ملنے پر چوری شدہ ڈیٹا ڈارک ویب پر شائع کرتا رہا ہے۔



