پاکستانتازہ ترین

پاکستان کی عالمی سفارتی کامیابی اور داخلی استحکام کا امتحان: کیا بیرونی ثالثی کے بعد اب اندرونی بحرانوں کے حل کا وقت آ گیا ہے؟

ایک ایسے وقت پر جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، ملک کے اندر کئی صوبوں اور علاقوں میں امن و استحکام اس کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکست، وائسآف جرمنی اردو سروس

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے پر بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے، ملک کے اندر بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری سیاسی، سماجی اور سکیورٹی چیلنجز ایک بنیادی سوال کو جنم دے رہے ہیں: اگر پاکستان عالمی سطح پر پیچیدہ تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے تو پھر اپنے داخلی مسائل کے حل میں کامیاب کیوں نہیں ہو پا رہا؟

سیاسی اور خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق اس سوال کا جواب صرف سکیورٹی یا خارجہ پالیسی میں نہیں بلکہ ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے میں پوشیدہ ہے۔ ان کے نزدیک بیرونی سفارت کاری اور داخلی سیاسی استحکام دو مختلف میدان ہیں، جن کی کامیابی کے لیے مختلف حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔

داخلی بحرانوں کی بنیادی وجہ اعتماد کا فقدان

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران جیسے ممالک پاکستان کی سفارتی کوششوں پر ایک حد تک اعتماد کرنے پر آمادہ ہوئے، تاہم ملک کے بعض حصوں، خصوصاً بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں وفاقی حکومت پر اعتماد کا بحران موجود ہے۔

ان کے مطابق ان علاقوں میں مختلف سیاسی حلقے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ عوامی نمائندگی، اختیارات کی تقسیم اور سیاسی عمل کے حوالے سے سنجیدہ تحفظات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی اقدامات کو وہاں مطلوبہ عوامی حمایت حاصل نہیں ہو پاتی، جس سے مسائل مزید پیچیدہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عوام خود کو ریاستی فیصلوں کا حصہ محسوس نہیں کریں گے، اس وقت تک پائیدار امن اور سیاسی استحکام کا حصول مشکل رہے گا۔

آئینی بالادستی اور جمہوری نظام پر زور

سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان میں آئین، قانون اور جمہوریت کی مکمل بالادستی کا فقدان سیاسی بے چینی کو بڑھا رہا ہے۔

ان کے نزدیک ملک کو نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی سے نکل کر جدید، شفاف اور عوامی شمولیت پر مبنی نظام کی طرف بڑھنا ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر جیسے علاقوں میں عوامی نمائندگی اور اختیارات کے حوالے سے موجود سوالات کو محض انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے سیاسی انداز میں حل کیا جانا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق سیاسی اختلافات کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش وقتی نتائج تو دے سکتی ہے، مگر دیرپا حل صرف سیاسی مکالمے، آئینی اصلاحات اور جمہوری عمل سے ہی ممکن ہے۔

عالمی کامیابی داخلی مسائل کا خودکار حل نہیں

تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ بیرونی سفارتی کامیابی کو داخلی استحکام کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔

ان کے مطابق اگر پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظات، شکایات اور احساسِ محرومی کو سنجیدگی سے نہیں سنے گا تو داخلی مسائل برقرار رہیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر اختلاف کو بیرونی سازش قرار دینے کے بجائے یہ جاننا ضروری ہے کہ عوام کے ایک طبقے میں ریاست سے دوری اور ناراضی کے اسباب کیا ہیں۔

ان کے مطابق جب ریاست اپنے عوام کا اعتماد حاصل کر لے گی تو بیرونی مداخلت یا منفی پراپیگنڈے کی گنجائش خود بخود محدود ہو جائے گی۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری احتجاج

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری احتجاج نے مقامی معیشت کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔

سیاحت کے عروج کے موسم میں ہزاروں سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے باعث ہوٹل مالکان، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹرز، دکانداروں اور دیگر کاروباری طبقے کو کروڑوں روپے کے نقصانات کا سامنا ہے۔

مختلف علاقوں میں ٹرانسپورٹ، انٹرنیٹ اور کاروباری سرگرمیوں کی معطلی نے روزمرہ زندگی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ دونوں جانب لچک کی کمی اور سیاسی مطالبات کو انتظامی یا سکیورٹی مسئلہ سمجھ کر نمٹانے کی کوشش ہے۔

اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صورتحال بہتر بنانے کے لیے حکومت اور احتجاج کرنے والے گروپوں کے درمیان بامعنی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

ان کے مطابق اگر کسی سیاسی یا عوامی پلیٹ فارم کو بڑی عوامی حمایت حاصل ہو چکی ہو تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے اعتماد سازی کی کوشش کی جانی چاہیے۔

ماہرین کے نزدیک سیاسی قیدیوں کی رہائی، مذاکرات کا آغاز، اختلاف رائے کے احترام اور شفاف سیاسی عمل سے ماحول بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی حکومت کو صرف انتظامی یا طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل ہو لیکن عوامی قبولیت نہ ہو تو ایسی حکومت کو دیرپا استحکام حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

طاقت اور سیاست میں فرق

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ طاقت کے مراکز اور سیاسی عمل کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق جب سیاسی مخالفین کو دشمن تصور کیا جائے تو چھوٹے تنازعات بھی بڑے بحرانوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اختلافِ رائے کو جمہوری نظام کا حصہ سمجھنے کے بجائے اگر اسے ریاستی چیلنج قرار دیا جائے تو سیاسی مسائل مزید سنگین شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

بلوچستان: صرف سکیورٹی نہیں، سیاسی مسئلہ بھی

بلوچستان کے حوالے سے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ مسئلہ صرف امن و امان تک محدود نہیں۔

ان کے مطابق بلوچستان میں بیرونی مداخلت کی تاریخ موجود ہے، جبکہ علاقائی جغرافیائی سیاست، چین کی سرمایہ کاری، سی پیک، اور پاکستان بھارت تعلقات بھی اس خطے کو مزید حساس بناتے ہیں۔

تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ بیرونی عوامل کے ساتھ ساتھ داخلی سیاسی مسائل، ترقیاتی تفاوت، عوامی نمائندگی اور اعتماد کے فقدان کو بھی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔

نئی تعلیم یافتہ نسل کے ساتھ رابطہ ضروری

تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں ایک نئی تعلیم یافتہ مڈل کلاس سامنے آئی ہے جو سوشل میڈیا، جامعات اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی معاملات سے باخبر ہے۔

یہ نئی نسل سوال کرتی ہے، شفافیت چاہتی ہے اور اپنے حقوق کے حوالے سے زیادہ حساس ہے۔

ماہرین کے مطابق اب صرف چند روایتی بااثر شخصیات کے ذریعے پورے صوبے کی نمائندگی ممکن نہیں رہی۔

اس لیے منتخب نمائندوں کو مضبوط بنانا، نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا اور روزگار، تعلیم اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سوشل میڈیا اور معلومات کی جنگ

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے دور میں معلومات اور غلط معلومات کے درمیان فرق کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ریاست کو صرف بیانیہ پیش کرنے کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا تاکہ منفی پراپیگنڈے کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی موجودہ صورتحال کی ذمہ داری سے مکمل طور پر بری الذمہ نہیں۔

ان کے مطابق اصولی سیاست، شفاف انتخابی عمل اور آئینی بالادستی پر مستقل مؤقف اختیار کرنے کے بجائے اکثر جماعتوں نے وقتی سیاسی مفادات کو ترجیح دی، جس سے جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد متاثر ہوا۔

معاشی کمزوری بھی قومی سلامتی کا مسئلہ

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جدید دور میں صرف مضبوط فوج یا ایٹمی صلاحیت کسی ملک کو مکمل استحکام فراہم نہیں کر سکتی۔

اگر معیشت کمزور ہو، مہنگائی بلند ہو، بے روزگاری میں اضافہ ہو اور سرمایہ کاری کا ماحول غیر یقینی ہو تو قومی سلامتی بھی متاثر ہوتی ہے۔

ان کے مطابق مضبوط معیشت، بہتر طرز حکمرانی اور عوامی اعتماد ہی قومی طاقت کی حقیقی بنیاد ہیں۔

آئینی اصلاحات اور اختیارات کی منتقلی

بعض آئینی ماہرین کے مطابق پاکستان میں پائیدار استحکام کے لیے مکمل اختیارات عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والی سویلین قیادت کے پاس ہونے چاہییں۔

ان کے نزدیک آئینی اصلاحات، شفاف انتخابی نظام، آزاد ادارے اور قانون کی یکساں حکمرانی مستقبل کے استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔

اصلاحات کی ضرورت اور مثبت اشارے

سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سمیت بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں پہلی مرتبہ ملک میں معاشی اور انتظامی اصلاحات پر سنجیدہ گفتگو دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ان کے مطابق ٹیکس نظام کو وسعت دینے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے، متوسط طبقے کو کچھ ریلیف فراہم کرنے اور ادارہ جاتی اصلاحات جیسے اقدامات اگر مستقل مزاجی سے جاری رہیں تو ان کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے، جن کے اثرات ظاہر ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔

قومی اتفاقِ رائے ہی پائیدار امن کی بنیاد

ماہرین اس نتیجے پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان کا اصل امتحان صرف بیرونی محاذ پر نہیں بلکہ داخلی سطح پر ہے۔

ان کے مطابق ریاست اگر عوام کے اعتماد کی بحالی، آئین کی بالادستی، شفاف جمہوری عمل، سیاسی مکالمے، معاشی اصلاحات اور منصفانہ طرز حکمرانی کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جائے تو یہی داخلی استحکام مستقبل میں پاکستان کی سب سے بڑی قومی طاقت بن سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ طاقت وقتی امن تو قائم کر سکتی ہے، مگر دیرپا استحکام صرف اس وقت ممکن ہے جب شہری خود کو ریاست کا برابر کا شریک سمجھیں، قانون سب پر یکساں لاگو ہو، اور سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات، آئین اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ یہی راستہ پاکستان کو داخلی استحکام، معاشی ترقی اور عالمی سطح پر مزید مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button