
آئی ایس پی آر سمر کیمپ 2026: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا طلبہ سے خصوصی مکالمہ، قومی یکجہتی، امن اور ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال پر زور
اگرچہ بلوچستان کو ماضی میں مختلف چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم حکومت اور ریاستی ادارے امن و استحکام، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیرِ اہتمام ملک بھر کے طلبہ کے لیے منعقد کیے گئے سمر کیمپ 2026 کے سلسلے میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوجوانوں کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں شرکت کی، جہاں انہوں نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال، قومی سلامتی، دہشت گردی کے چیلنجز، نوجوانوں کے کردار اور ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال سمیت مختلف اہم قومی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، سمر کیمپ 2026 میں پاکستان کے 18 مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے نویں سے بارہویں جماعت کے 4,000 سے زائد طلبہ و طالبات شریک ہیں۔ کیمپ کا مقصد نوجوان نسل میں قومی شعور، قیادت کی صلاحیتوں، حب الوطنی، باہمی ہم آہنگی اور مثبت سوچ کو فروغ دینا ہے تاکہ وہ مستقبل میں ملک کی ترقی اور استحکام میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
نوجوانوں سے براہِ راست مکالمہ
خصوصی سیشن کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے طلبہ سے براہِ راست گفتگو کی اور انہیں بلوچستان کی سیاسی، سماجی اور سیکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، جو قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، ساحلی پٹی اور جغرافیائی اہمیت کے باعث ملک کی ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ بلوچستان کو ماضی میں مختلف چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم حکومت اور ریاستی ادارے امن و استحکام، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں تاکہ صوبے کے عوام خصوصاً نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
دہشت گردی کسی صورت قابلِ قبول نہیں
اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور تشدد کو کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر پاکستان کے امن، ترقی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم پوری قوم، سیکیورٹی ادارے اور حکومت ان عناصر کے خلاف متحد ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ منفی سوچ، نفرت انگیز بیانیے اور تشدد کے نظریات سے خود کو دور رکھیں اور تعلیم، تحقیق، مثبت سوچ اور قومی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔
بلوچستان کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان صوبے اور ملک کا روشن مستقبل ہیں اور ان کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید تعلیم، ٹیکنالوجی، تحقیق اور اختراع کے میدان میں آگے بڑھنا چاہیے تاکہ وہ ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
ان کے مطابق مضبوط پاکستان کی بنیاد ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار نوجوان نسل ہی رکھ سکتی ہے۔
طلبہ کے سوالات کے مدلل جوابات
خصوصی نشست کے دوران طلبہ و طالبات نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مختلف قومی، سماجی، تعلیمی اور سیکیورٹی امور پر سوالات کیے۔

میر سرفراز بگٹی نے شرکاء کے سوالات تحمل اور تفصیل سے سنے اور ہر سوال کا مدلل اور جامع جواب دیتے ہوئے نوجوانوں کو حقائق پر مبنی معلومات فراہم کیں۔
انہوں نے طلبہ کی دلچسپی، شعور اور قومی معاملات میں آگاہی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہی نوجوان مستقبل میں پاکستان کی قیادت سنبھالیں گے۔
حالیہ عالمی بحران میں پاکستان کے کردار کو سراہا
اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے حالیہ عالمی بحران کے دوران پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کی مشترکہ کوششوں کے باعث پاکستان نے عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور مؤثر ریاست کے طور پر اپنی شناخت مزید مضبوط کی ہے۔
ان کے مطابق پاکستان نے مشکل علاقائی اور عالمی حالات میں ذمہ دارانہ سفارت کاری، قومی اتحاد اور مؤثر حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، جسے عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔
ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال کی تلقین
وزیراعلیٰ بلوچستان نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا کو ذمہ داری، تحقیق اور مثبت انداز میں استعمال کریں۔
انہوں نے کہا کہ جدید دور میں سوشل میڈیا معلومات کے حصول کا ایک مؤثر ذریعہ ضرور ہے، لیکن اسی پلیٹ فارم پر جھوٹی خبریں، گمراہ کن معلومات، افواہیں اور منفی پروپیگنڈا بھی تیزی سے پھیلایا جاتا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا:
"گمراہ کن معلومات اور پروپیگنڈا نوجوان ذہنوں کو متاثر کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکے ہیں، اس لیے ہر خبر یا مواد کو تحقیق کے بعد ہی درست سمجھا جائے۔”
انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ قومی مفاد، اخلاقی اقدار اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے اجتناب کریں۔
قومی یکجہتی اور بلوچستان کی اہمیت
اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی ترقی، سلامتی اور خوشحالی بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور دونوں کی مضبوطی ایک دوسرے کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قومی اتحاد، بھائی چارے، برداشت اور باہمی احترام کے جذبے کو فروغ دیں اور ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ اتحاد اور شعور کے ساتھ کریں۔
آئی ایس پی آر سمر کیمپ کا مقصد
آئی ایس پی آر کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا سمر کیمپ 2026 نوجوانوں کو قومی تاریخ، دفاعی امور، قیادت، سماجی ذمہ داری، کردار سازی اور پاکستان کی جغرافیائی و ثقافتی تنوع سے روشناس کرانے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔
کیمپ میں شریک طلبہ کو مختلف تعلیمی، تربیتی، ثقافتی اور قائدانہ سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ساتھ روابط استوار کریں، ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں اور قومی یکجہتی کے جذبے کو فروغ دیں۔
نتیجہ
آئی ایس پی آر کے سمر کیمپ 2026 میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی نوجوانوں کے ساتھ خصوصی نشست کو قومی شعور، حب الوطنی اور مثبت سوچ کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر نوجوانوں کو نہ صرف بلوچستان کی موجودہ صورتحال اور قومی چیلنجز سے آگاہ کیا گیا بلکہ انہیں تحقیق، برداشت، ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال، تعلیم اور قومی خدمت کی اہمیت سے بھی روشناس کرایا گیا۔ ماہرین کے مطابق نوجوانوں اور قومی قیادت کے درمیان اس نوعیت کے مکالمے مستقبل کی باصلاحیت، باشعور اور ذمہ دار نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔



