پاکستاناہم خبریں

آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مبینہ اشتعال انگیز بیانات پر تشویش، ریاستی اداروں کے خلاف دھمکیاں

یہ ریاستی رٹ کو کھلا چیلنج اور عوامی امن کے لیے سنگین خطرہ تصور کیے جا سکتے ہیں۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مبینہ سربراہ امان سے منسوب ایک ویڈیو اور اشتعال انگیز گفتگو منظرِ عام پر آنے کے بعد سیاسی اور سیکیورٹی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر ریاستی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے تشدد آمیز کارروائیوں کی دھمکیاں دی گئی ہیں، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں سے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مبینہ گفتگو میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ امان نے آزاد کشمیر کے علاقے بلوچ (بیٹھک) میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ "جو کچھ بلوچ (بیٹھک) میں کیا، وہ یہاں بھی کر سکتے ہیں اور کریں گے، ہمارے مطالبات ہماری مرضی کے مطابق حل ہوں گے۔”

یہ ریاستی رٹ کو کھلا چیلنج اور عوامی امن کے لیے سنگین خطرہ تصور کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا سرغنہ امان اور دیگر منظم منصوبہ بندی کے تحت ریاست مخالف اشتعال انگیزبیانیے کی ترویج کررہے ہیں۔مسلح جتھوں کے ذریعے دہشتگردی کی دھمکی اس مؤقف کو تقویت دیتی ہیں کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی بھارتی پراکسی کے طور عدم استحکام پیدا کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔

قانون کی موثرعملداری کے ذریعے مسلح جتھوں کے ذریعے سیکیورٹی فورسز پرحملوں میں ملوث اورریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button