یورپتازہ ترین

آسیان سمٹ کے موقع پر امریکی اور روسی وزرائے خارجہ کے مابین یوکرینی جنگ کے موضوع پر بات چیت

ملاقات میں لاوروف نے روبیو کے ساتھ بات چیت میں یوکرین کو مغربی ممالک کی طرف سے مزید ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف خبردار بھی کیا۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں جنوب مغربی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ان کے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف نے جمعرات 23 جولائی کے روز ہونے والی اپنی دوطرفہ ملاقات میں یوکرینی جنگ کے موضوع پر بات چیت کی۔

فلپائن میں منیلا اور روس میں ماسکو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق چار سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل روس کی یوکرین میں مسلح مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ سے متعلق اپنی بات چیت میں سیرگئی لاوروف نے مارکو روبیو کو اس بارے میں آگاہ کیا کہ روسی نقطہ نظر سے اس وقت اس جنگ کے مختلف محاذوں پر عملی صورت حال کیا ہے۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق ملاقات میں لاوروف نے روبیو کے ساتھ بات چیت میں یوکرین کو مغربی ممالک کی طرف سے مزید ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف خبردار بھی کیا۔

آسیان وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے منیلا پہنچنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی فلپائن کے صدر مارکوس جونیئر کے ساتھ بدھ 22 جولائی کے روز ہوئی ملاقات میں ہاتھ ملاتے ہوئے لی گئی ایک تصویر
آسیان وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے منیلا پہنچنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی فلپائن کے صدر مارکوس جونیئر کے ساتھ بدھ 22 جولائی کے روز ہوئی ملاقات میں ہاتھ ملاتے ہوئے لی گئی ایک تصویرتصویر: Francis R. Malasig/REUTERS

ماسکو سے آمدہ رپورٹوں کے مطابق سیرگئی لاوروف نے یورپی ممالک پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اپنے اقدامات سے یوکرین کو غیر مستحکم  بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

ملاقات واشنگٹن کی خواہش پر ہوئی، روسی میڈیا

منیلا میں اس لاوروف روبیو مکالمت کے بارے میں روسی میڈیا نے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی یہ ملاقات واشنگٹن کی خواہش پر ہوئی اور یہ تقریباﹰ 35 منٹ تک جاری رہی۔

امریکی حکام نے اس ملاقات یا اس میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

اس ملاقات کے حوالے سے موصولہ دیگر رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ روسی وزیر خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ گفتگو میں زور دے کر کہا کہ یوکرینی تنازعے کا کوئی بھی حل امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کے مابین اینکریج سمٹ کے دوران ہونے والے گزشتہ مذاکرات کی روشنی میں نکالا جانا چاہیے۔

گزشتہ برس اگست میں امریکی ریاست الاسکا میں ہونے والی اینکریج سمٹ کے اختتام پر امریکی صدر ٹرمپ اور روسی صدر پوٹن کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لی گئی ایک تصویر
گزشتہ برس اگست میں امریکی ریاست الاسکا میں ہونے والی اینکریج سمٹ کے اختتام پر امریکی صدر ٹرمپ اور روسی صدر پوٹن کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لی گئی ایک تصویرتصویر: Drew Angerer/AFP

روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس ملاقات میں سیرگئی لاوروف نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ ماسکو جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم اس سلسلے میں کسی بھی تصفیے کی بنیاد وہ باہمی مفاہمت ہونا چاہیے، جس تک گزشتہ برس امریکی ریاست الاسکا میں اینکریج کے مقام پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر پوٹن اپنی ملاقات میں بات چیت کے دوران پہنچے تھے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button