پاکستاناہم خبریں

وزیراعظم شہباز شریف کا بلوچستان کی ترقی کے لیے بھرپور وسائل فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ

وفاقی حکومت آئندہ بھی بلوچستان کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کرتی رہے گی تاکہ صوبے کو ترقی کے قومی سفر میں مزید مضبوط مقام حاصل ہو۔

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور قومی دھارے میں مزید مضبوط شمولیت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ملک کے چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کراچی سے چمن تک این-25 شاہراہ کو دو رویہ بنانے کا 300 ارب روپے کا میگا منصوبہ آئندہ ڈیڑھ سے دو سال میں مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ کچھی کینال منصوبے کو بھی تیز رفتاری سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا تاکہ بلوچستان میں زرعی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں۔

وزیراعظم نے یہ بات جمعہ کے روز اسلام آباد میں "بلوچستان نیشنل ورکشاپ” کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی سمیت دیگر وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

بلوچستان کی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیح

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد پورے پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام، خصوصاً بلوچ اور پشتون برادری کی قیام پاکستان اور قومی ترقی کے لیے تاریخی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1947 اور 1948 میں بلوچستان کی ریاستوں اور قبائلی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا تاریخی فیصلہ کیا، جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، اس لیے یہاں ترقیاتی منصوبوں پر دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔ دور دراز علاقوں، وسیع جغرافیے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اضافی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

این ایف سی ایوارڈ اور پنجاب کا مالی تعاون

وزیراعظم شہباز شریف نے یاد دلایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کی خصوصی ضروریات کو تسلیم کرتے ہوئے دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے مالی حصے میں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب نے گزشتہ سولہ برسوں کے دوران تقریباً 150 ارب روپے بلوچستان کے لیے فراہم کیے، جو کسی احسان کے طور پر نہیں بلکہ بھائی چارے، قومی یکجہتی اور مشترکہ ترقی کے جذبے کے تحت دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت آئندہ بھی بلوچستان کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کرتی رہے گی تاکہ صوبے کو ترقی کے قومی سفر میں مزید مضبوط مقام حاصل ہو۔

کراچی۔چمن شاہراہ کی تعمیر

وزیراعظم نے کہا کہ کراچی سے چمن تک این-25 شاہراہ کو ماضی میں "خونی سڑک” کہا جاتا تھا کیونکہ یہاں آئے روز ٹریفک حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہوتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے حاصل ہونے والی بچت کو اس منصوبے کے لیے مختص کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 300 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی یہ دو رویہ شاہراہ آئندہ ڈیڑھ سے دو سال میں مکمل ہو جائے گی، جس کے بعد یہ شاہراہ بلوچستان کی معاشی ترقی، محفوظ سفر اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کی علامت بن جائے گی۔

زرعی ترقی اور سولر ٹیوب ویل منصوبہ

وزیراعظم نے بلوچستان کے کسانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ہزاروں کسان بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا شکار تھے، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہوتی تھی۔ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے تقریباً 27 ہزار زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے پر 75 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جن میں سے 50 ارب روپے وفاقی حکومت فراہم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے نہ صرف کسانوں کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ زرعی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔

تمام صوبوں کی مساوی ترقی ہی قومی ترقی

وزیراعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر صرف ایک صوبہ ترقی کرے اور باقی پیچھے رہ جائیں تو اسے قومی ترقی نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں کی مساوی ترقی ہی مضبوط، خوشحال اور مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے درمیان ترقیاتی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے گی۔

دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد کی ضرورت

اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم نے مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے اہلکار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ لڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک تقریباً 90 ہزار پاکستانی شہری، سکیورٹی اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے چکے ہیں۔

وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے اور دہشت گرد عناصر کو مالی و دیگر وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2017-18 تک دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔

افغانستان سے متعلق مؤقف

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے افغان عبوری حکومت کو متعدد بار باور کرایا ہے کہ دونوں ممالک ہمسایہ ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے مشترکہ تعاون ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گرد تنظیموں کے استعمال سے روکے اور پاکستان مخالف عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے، تاہم افغان عبوری حکومت اس حوالے سے مطلوبہ اقدامات کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

سفارتی اور دفاعی کامیابیوں کا ذکر

وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان نے دفاعی اور سفارتی دونوں محاذوں پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مؤثر سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کیا، جس سے عالمی سطح پر ملک کا وقار مزید بلند ہوا۔

انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی ساکھ سے خوش نہیں، تاہم قوم متحد ہو کر ہر سازش کا مقابلہ کرے گی۔

شفاف حکمرانی ہی مسائل کا حل

سوال و جواب کے سیشن میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے معاشی مسائل کی بنیادی وجہ بدعنوانی اور کمزور طرز حکمرانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کے نتیجے میں گزشتہ سال سیلز ٹیکس اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں تقریباً 800 ارب روپے اضافی وصول کیے گئے، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر قومی وسائل ایمانداری سے خزانے میں جمع ہوں تو نہ صرف غربت میں کمی آئے گی بلکہ قرضوں پر انحصار بھی کم ہوگا۔

وزیراعظم نے جاپان اور جرمنی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ترقی صرف محنت، دیانت، شفافیت اور امانت داری سے حاصل کی جا سکتی ہے، جادو یا شارٹ کٹ سے نہیں۔

کچھی کینال منصوبہ جلد مکمل ہوگا

کچھی کینال سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں آبی ذخائر اور آبی منصوبوں کے لیے 368 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھی کینال منصوبہ انہی اہم منصوبوں میں شامل ہے اور اسے تیزی سے مکمل کیا جائے گا کیونکہ اس سے بلوچستان اور دیگر علاقوں میں لاکھوں ایکڑ بنجر زمین قابل کاشت بن سکے گی۔

بلوچستان کے طلبہ کے لیے خصوصی اقدامات

چاغی سے تعلق رکھنے والی طالبہ خالدہ یوسف کے سوال پر وزیراعظم نے بلوچستان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت تعلیم کو قومی ترقی کی بنیاد سمجھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں پنجاب میں میرٹ پر لاکھوں طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم کیے گئے جنہوں نے جدید ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ بلوچستان کو لیپ ٹاپ اور تعلیمی وظائف کی تقسیم میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں 10 فیصد اضافی کوٹہ دیا جا رہا ہے تاکہ صوبے کے نوجوان جدید تعلیم کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں نو دانش اسکول قائم کیے جا رہے ہیں جہاں غریب، مستحق اور یتیم بچوں کو معیاری اور مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔ ان اداروں میں طلبہ و طالبات کے لیے الگ تعلیمی بلاکس، کھیلوں کے میدان اور جدید سہولیات دستیاب ہوں گی۔

بلوچستان میں مزید سرمایہ کاری کا عزم

وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو اس وقت تک مکمل اطمینان حاصل نہیں ہوگا جب تک انہیں یہ احساس نہ ہو کہ وفاق اور دیگر صوبے ان کی ترقی اور خوشحالی کو اپنی ترقی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بلوچستان میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، روزگار اور سماجی ترقی کے لیے مزید وسائل فراہم کیے جائیں گے تاکہ صوبے کے عوام بھی ترقی کے ثمرات سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں مشترکہ حکمت عملی کے تحت بلوچستان کی پائیدار ترقی کے لیے کام کریں گی اور پاکستان کو دنیا کے مضبوط، ترقی یافتہ اور باوقار ممالک کی صف میں شامل کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

تقریب کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے غیر رسمی ملاقات کی، ان کے سوالات کے تفصیلی جواب دیے اور بعد ازاں شرکاء کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوایا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button