
سعودی عرب کا حوثی ملیشیا کے خلاف بڑا فضائی ردعمل، حدیدہ میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا
کارروائی ہفتہ 25 جولائی کی علی الصبح پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً صبح 4 بجے کی گئی
ریاض/صنعاء: سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی جوائنٹ فورسز کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ یمن کے صوبہ حدیدہ میں حوثی ملیشیا سے وابستہ فوجی اہداف کے خلاف متناسب اور ہدفی فضائی کارروائی کی گئی ہے۔ یہ کارروائی سعودی آئل ٹینکروں پر حالیہ حملوں کے بعد سعودی عرب کی جانب سے پہلا براہ راست فوجی ردعمل قرار دی جا رہی ہے۔
اتحادی فورسز کے جاری کردہ بیان کے مطابق کارروائی ہفتہ 25 جولائی کی علی الصبح پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً صبح 4 بجے کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ فضائی حملے بین الاقوامی قوانین اور عسکری اصولوں کے مطابق صرف ان مقامات پر کیے گئے جہاں حوثی ملیشیا کی فوجی سرگرمیوں اور حملہ آور صلاحیتوں سے متعلق مصدقہ معلومات موجود تھیں۔
یمنی ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی فضائیہ نے حدیدہ کے مختلف علاقوں میں واقع تین فوجی مقامات کو نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق ان اہداف میں اسلحہ کے ذخائر، ڈرون لانچنگ مقامات اور عسکری تنصیبات شامل تھیں، جنہیں حوثی ملیشیا مبینہ طور پر بحیرہ احمر میں کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی تھی۔ تاہم فوری طور پر حملوں میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد پہلا ردعمل
دفاعی مبصرین کے مطابق یہ فضائی کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حالیہ دنوں میں بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی حکام کا مؤقف ہے کہ ان حملوں سے نہ صرف مملکت کی توانائی کی تنصیبات بلکہ عالمی تجارتی راستوں اور بین الاقوامی بحری سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہوئے ہیں۔
اتحادی فورسز کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد حوثی ملیشیا کی ان عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جن کے ذریعے وہ سعودی عرب، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔
"متناسب فوجی ردعمل”
اتحادی جوائنٹ فورسز کمانڈ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کارروائی مکمل طور پر "متناسب فوجی ردعمل” کے اصول کے تحت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ صرف جائز فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ شہری آبادی کو کسی قسم کے نقصان سے بچایا جا سکے۔
فوجی حکام کے مطابق کارروائی سے قبل انٹیلی جنس معلومات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تمام اہداف کی تصدیق کے بعد ہی فضائی حملے کیے گئے۔
بحیرہ احمر کی سلامتی پر بڑھتے خدشات
ماہرین کے مطابق بحیرہ احمر عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں حملوں اور کشیدگی میں اضافے نے عالمی شپنگ انڈسٹری اور توانائی کی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادی مسلسل اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی اور عالمی تجارتی راستوں کا تحفظ خطے کے امن اور عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔
علاقائی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی فضائی حملوں کے بعد یمن میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اگرچہ اتحادی فورسز نے کارروائی کو محدود اور دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے، تاہم اس کے بعد حوثی ملیشیا کی جانب سے ممکنہ ردعمل پر بھی خطے کی نظریں مرکوز ہیں۔
اب تک حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی حملوں پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ یمن کی صورتحال پر بین الاقوامی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اتحادی فورسز کا عزم
اتحادی جوائنٹ فورسز کمانڈ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ سعودی عرب اور اتحادی ممالک خطے کے امن، بحیرہ احمر میں محفوظ جہاز رانی اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر مملکت یا اس کے مفادات کو دوبارہ نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو بین الاقوامی قانون کے مطابق مناسب اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔



