
آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توانائی کے لیے فلیش پوائنٹ، ایران اور امریکا کشیدگی سے تیل و گیس کی سپلائی کو بڑا خطرہ
ان کے مطابق خطے میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی فوجی کارروائیوں اور بمباری کے باوجود ایران کی آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
بین الاقوامی ڈیسک:
خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل اور گیس کی ترسیل ایک بار پھر شدید خطرات کی زد میں آ گئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے آبنائے ہرمز کی اہمیت کو غیر معمولی طور پر بڑھا دیا ہے، کیونکہ دنیا کی توانائی کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی تنگ سمندری راستے سے گزرتا ہے۔
حالیہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں اور بحری آمدورفت میں نمایاں رکاوٹ کی اطلاعات نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے یا آبنائے ہرمز مکمل یا جزوی طور پر بند ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایشیا، یورپ اور دیگر عالمی منڈیوں تک پھیل سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ اس کا کوئی فوری اور مکمل متبادل موجود نہیں۔ اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت بعض خلیجی ممالک کے پاس متبادل پائپ لائنیں موجود ہیں، تاہم ان کی مجموعی گنجائش آبنائے ہرمز سے معمول کے مطابق گزرنے والی توانائی کی ترسیل کا مکمل متبادل فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں۔
ایران کی آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت
برسلز کی فری یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات اور تھنک ٹینک بروگل سے وابستہ سینیئر فیلو گنترم وولف کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو کنٹرول کرنے یا کم از کم اسے شدید متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق خطے میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی فوجی کارروائیوں اور بمباری کے باوجود ایران کی آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
یہ صورتحال امریکہ کے لیے ایک پیچیدہ تزویراتی مسئلہ بن گئی ہے، کیونکہ واشنگٹن کے پاس جدید بحری اور فضائی طاقت ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز جیسے محدود مگر انتہائی اہم سمندری راستے کو مکمل طور پر محفوظ رکھنا ایک مشکل چیلنج ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر
حالیہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک تقریباً رکنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایران نے بعض تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا، جبکہ بحرین، کویت اور اردن میں موجود فوجی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
ان واقعات کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرنے کے ساتھ ساتھ تیل کی فروخت سے متعلق بعض پابندیوں میں دی گئی رعایتیں بھی واپس لینے کا اقدام کیا۔
اس صورتحال نے ایران کی توانائی برآمدات اور عالمی مارکیٹ تک اس کی رسائی کو بھی ایک بار پھر اہم مسئلہ بنا دیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی شہ رگ
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عرب اور بحر ہند سے ملانے والا ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اس کی جغرافیائی حیثیت ایسی ہے کہ سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے کئی ممالک کی توانائی کی برآمدات اور درآمدات کسی نہ کسی حد تک اس راستے سے وابستہ ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد مائع قدرتی گیس، یعنی ایل این جی، اسی سمندری راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی تھی۔
اسی طرح عالمی سطح پر استعمال ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ بھی خلیج فارس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے ایشیا اور دنیا کی دیگر منڈیوں تک منتقل ہوتا رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں معمولی نوعیت کی رکاوٹ بھی عالمی توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
روزانہ کروڑوں بیرل تیل کی ترسیل
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران آبنائے ہرمز سے اوسطاً تقریباً دو کروڑ بیرل تیل روزانہ منتقل ہوتا رہا۔
تاہم فراہم کردہ معلومات کے مطابق سال کی پہلی سہ ماہی میں اس راستے سے گزرنے والی مقدار کم ہو کر تقریباً ایک کروڑ 46 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ تنازعے میں شدت آنے کے بعد اس میں مزید نمایاں کمی ہوئی۔
تیل کی ترسیل میں یہ کمی عالمی مارکیٹ کے لیے خطرے کی علامت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ عالمی توانائی کے نظام میں تیل کی سپلائی اور طلب کے درمیان معمولی فرق بھی قیمتوں میں بڑی تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔
ایشیائی ممالک سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک کو جاتا ہے۔ چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ایشیائی معیشتیں خلیجی تیل اور گیس کی درآمد پر نمایاں انحصار رکھتی ہیں۔
اگر آبنائے ہرمز میں طویل عرصے تک رکاوٹ برقرار رہتی ہے تو ایشیائی ریفائنریوں کو متبادل سپلائرز تلاش کرنا پڑ سکتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں نہ صرف خام تیل کی قیمت میں اضافہ ممکن ہے بلکہ پٹرول، ڈیزل، جیٹ فیول اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صنعتی پیداوار، نقل و حمل، بجلی کی پیداوار اور مجموعی مہنگائی پر بھی پڑ سکتا ہے۔
17 جون کی جنگ بندی سے ملنے والا ریلیف ختم
فراہم کردہ معلومات کے مطابق 17 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ابتدائی جنگ بندی معاہدے سے بحری تجارت کو عارضی ریلیف ملا تھا۔
تاہم یہ جنگ بندی اب مؤثر نہیں رہی اور گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکی افواج کی جانب سے ایران کے سینکڑوں فوجی اہداف کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات نے کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگ بندی کے خاتمے سے نہ صرف براہ راست فوجی تصادم کا خطرہ بڑھا بلکہ آبنائے ہرمز سمیت پورے خلیجی خطے کی توانائی تنصیبات کے لیے بھی خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی جوابی کارروائی کا خطرہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر مزید فوجی حملے کیے جاتے ہیں تو تہران ممکنہ طور پر خلیجی ممالک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جوابی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
ممکنہ اہداف میں ریفائنریاں، بندرگاہیں، پائپ لائنیں، تیل ذخیرہ کرنے کے مراکز اور دیگر توانائی تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں۔
ایسی کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں خلیجی ممالک کو براہ راست معاشی نقصان کے علاوہ عالمی توانائی سپلائی کو بھی شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی قلت کا خدشہ
اگر خلیج فارس سے عالمی مارکیٹ تک تیل کی ترسیل میں بڑے پیمانے پر کمی آتی ہے تو عالمی سطح پر خام تیل کی قلت کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اس صورت میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں اور توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے درآمدی اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں مہنگائی کے دباؤ کو بڑھا سکتا ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے توانائی کی درآمد مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ صورتحال عالمی اقتصادی بحالی، صنعتی پیداوار اور بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
MARISKS کی جانب سے خطرے کی وارننگ
یونان کی بحری خطرات کا جائزہ لینے والی کمپنی MARISKS نے خبردار کیا ہے کہ جون میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بحری سلامتی اور تجارتی سرگرمیوں میں جو محدود بہتری سامنے آئی تھی، وہ اب تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
کمپنی کے مطابق خطے میں مزید کشیدگی کا امکان بدستور موجود ہے اور موجودہ صورتحال میں تجارتی جہازوں، خاص طور پر تیل بردار جہازوں کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
بحری نقل و حمل کی صنعت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جہازوں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے نہ صرف اضافی وقت اور اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں بلکہ انہیں زیادہ خطرناک متبادل راستے بھی اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے پر مبینہ فیس کا معاملہ
جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض جہازوں سے بھاری فیس وصول کر رہا ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق بعض جہازوں سے تقریباً 20 لاکھ ڈالر تک فیس طلب کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ایران کی جانب سے بعض تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز کے شمالی حصے میں ایرانی سمندری حدود کے اندر سے گزرنے والا راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔
دوسری جانب امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں عمان کے ساحل کے قریب موجود سمندری راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس صورتحال نے آبنائے ہرمز کو ایک حساس بحری اور فوجی محاذ میں تبدیل کر دیا ہے۔
ایران، عراق، کویت، قطر اور بحرین کا انحصار
خلیج فارس کے کئی ممالک اپنی توانائی برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز پر نمایاں انحصار کرتے ہیں۔
ایران، عراق، کویت، قطر اور بحرین کے لیے یہ سمندری راستہ خاص اہمیت رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اپنی توانائی برآمدات کے ایک بڑے حصے کے لیے خلیجی سمندری راستوں سے وابستہ رہے ہیں۔
اگر آبنائے ہرمز میں طویل مدتی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو ان ممالک کو اپنی برآمدی حکمت عملی میں فوری تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔
متبادل راستوں کی تلاش شروع
موجودہ صورتحال کے باعث خلیجی تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک متبادل برآمدی راستوں کی تلاش میں تیزی لا رہے ہیں۔
اگرچہ بحری جہازوں کے ذریعے تیل کی ترسیل نسبتاً کم لاگت اور زیادہ مؤثر ذریعہ ہے، لیکن جنگی خطرات بڑھنے کے بعد پائپ لائنوں اور دیگر زمینی راستوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی ایسے بنیادی ڈھانچے کے حامل ہیں جو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر محدود مقدار میں تیل برآمد کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن، جسے پیٹرولائن بھی کہا جاتا ہے، مشرقی ساحل پر واقع بقیق کو بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع سے ملاتی ہے۔
یہ پائپ لائن سعودی عرب کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے ہٹ کر تیل کی ایک مقدار کو بحیرہ احمر کی جانب منتقل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
تاہم اس راستے کی بھی اپنی سکیورٹی مشکلات ہیں، کیونکہ ینبع سے تیل بردار جہازوں کو ایشیائی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے بحیرہ احمر، باب المندب اور دیگر حساس سمندری راستوں سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔
باب المندب کا نیا خطرہ
بحیرہ احمر کے راستے میں باب المندب ایک اہم تنگ سمندری گزرگاہ ہے۔ یمن میں موجود مسلح گروہوں کی کارروائیوں اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث اس راستے کی سلامتی پہلے ہی عالمی بحری تجارت کے لیے تشویش کا باعث رہی ہے۔
اگر خلیجی تنازعہ باب المندب تک پھیلتا ہے تو تیل بردار جہازوں کے لیے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں کئی تجارتی جہازوں کو افریقہ کے جنوبی سرے، یعنی کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے طویل سفر اختیار کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس سے سفر کا وقت اور ایندھن کے اخراجات بڑھیں گے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر اشیا کی ترسیل کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نسبتاً بہتر پوزیشن میں
متحدہ عرب امارات کو اس معاملے میں بعض دیگر خلیجی ممالک کے مقابلے میں نسبتاً بہتر پوزیشن حاصل ہے، کیونکہ اس کے پاس ایسے برآمدی راستے موجود ہیں جو آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر دونوں سے بچنے کی گنجائش فراہم کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات اپنے موجودہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ مشرقی ساحل پر نئی بندرگاہ اور کنٹینر ٹرمینل سمیت دیگر سہولتوں کی ترقی پر بھی غور کر رہا ہے۔
یہ اقدامات طویل مدت میں متحدہ عرب امارات کو خلیجی سمندری راستوں پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
پائپ لائنیں مکمل متبادل نہیں
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی موجودہ پائپ لائنوں کے ذریعے روزانہ زیادہ سے زیادہ تقریباً 88 لاکھ بیرل تیل دوسرے راستوں پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔
یہ مقدار آبنائے ہرمز کے ذریعے معمول کے حالات میں منتقل ہونے والے تیل کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے کے لیے بند یا شدید متاثر ہوتی ہے تو موجودہ متبادل راستے عالمی طلب کو مکمل طور پر پورا نہیں کر سکیں گے۔
نئی پائپ لائنوں کی تعمیر مہنگا منصوبہ
خلیجی ممالک کے لیے ایک ممکنہ حل نئی پائپ لائنوں کی تعمیر اور موجودہ پائپ لائنوں کی صلاحیت میں اضافہ ہے۔
لیکن بڑے پیمانے پر پائپ لائن منصوبے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری طلب کرتے ہیں اور انہیں مکمل ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ نئی پائپ لائنوں کے لیے زمین، ماحولیات، سکیورٹی اور علاقائی سیاسی صورتحال سے متعلق کئی چیلنجز بھی موجود ہیں۔
لہٰذا آبنائے ہرمز کا فوری متبادل پیدا کرنا عملی طور پر آسان نہیں۔
عراق، اردن، کویت اور ترکیہ بھی متبادل راستوں پر غور کر رہے ہیں
عراق، اردن، کویت اور ترکیہ میں بھی متعدد پائپ لائنیں یا تو پہلے سے کام کر رہی ہیں یا زیر تعمیر ہیں۔
تاہم ان منصوبوں کی گنجائش محدود ہے اور یہ آبنائے ہرمز میں مکمل رکاوٹ پیدا ہونے کی صورت میں عالمی تیل سپلائی میں پیدا ہونے والے بڑے خلا کو پر کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔
اس صورتحال نے توانائی کی عالمی سپلائی کے نظام کی ایک بنیادی کمزوری کو نمایاں کر دیا ہے کہ دنیا کی بڑی مقدار میں توانائی ایک محدود جغرافیائی گزرگاہ سے وابستہ ہے۔
ایران کا ممکنہ پیغام
بحری خطرات کا جائزہ لینے والی کمپنی MARISKS کے مطابق سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن اور متحدہ عرب امارات کی ابوظہبی کروڈ آئل پائپ لائن جیسے متبادل برآمدی راستوں کو ایران کی جانب سے دی جانے والی مبینہ دھمکیاں موجودہ بحران کی اہم پیش رفت ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی حکمت عملی کا ایک ممکنہ مقصد یہ پیغام دینا ہو سکتا ہے کہ اگر ایرانی توانائی برآمدات کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو خلیج کے دیگر توانائی پیدا کرنے والے ممالک بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رہیں گے۔
ایسی حکمت عملی توانائی کے پورے نظام میں خطرے کو پھیلانے کی کوشش تصور کی جا سکتی ہے۔
جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ
موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی کشیدگی صرف دونوں ممالک تک محدود نہ رہے بلکہ پورے خلیجی خطے کے توانائی اور بحری بنیادی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔
اگر تیل کی تنصیبات، بندرگاہیں، پائپ لائنیں یا ریفائنریاں نشانہ بنتی ہیں تو عالمی مارکیٹ میں فوری طور پر سپلائی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی طرح اگر آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ باب المندب یا بحیرہ احمر بھی متاثر ہوئے تو عالمی تجارت کو ایک ساتھ کئی اہم سمندری راستوں پر رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی
آبنائے ہرمز کا بحران صرف تیل پیدا کرنے والے ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دنیا بھر میں مہنگائی بڑھا سکتا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے فضائی سفر، بحری تجارت، ٹرکنگ اور صنعتی پیداوار کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی توانائی کی بلند قیمتوں اور درآمدی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
اگر بحران طویل ہوتا ہے تو مرکزی بینکوں کو بھی مہنگائی اور اقتصادی ترقی کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
آنے والے دن انتہائی اہم
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دن آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے۔
اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے اور بحری آمدورفت معمول پر آتی ہے تو عالمی توانائی کی منڈیوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
لیکن اگر فوجی کارروائیوں میں مزید اضافہ ہوا اور ایران نے آبنائے ہرمز یا خلیجی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر متاثر کرنے کی کوشش کی تو صورتحال تیزی سے عالمی توانائی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی حفاظت عالمی ترجیح بن گئی
موجودہ بحران نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ آبنائے ہرمز محض ایک علاقائی سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی ایک اہم شریان ہے۔
دنیا کی بڑی معیشتوں، توانائی درآمد کرنے والے ممالک اور خلیجی تیل و گیس پیدا کرنے والے ممالک سب کے مفادات اس سمندری راستے کی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں۔
ایران کے پاس آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی صلاحیت کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں، لیکن ماہرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ تہران اس راستے میں بحری ٹریفک کو متاثر کرنے اور عالمی توانائی سپلائی میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نتیجہ
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ خلیج فارس سے تیل اور گیس کی ترسیل میں کسی بھی بڑے پیمانے کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈی، تیل کی قیمتوں، مہنگائی اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس موجود متبادل پائپ لائنیں کچھ حد تک دباؤ کم کر سکتی ہیں، لیکن ان کی صلاحیت آبنائے ہرمز کے مکمل متبادل کے لیے ناکافی ہے۔ دوسری جانب بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستے بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھے جا رہے۔
یوں موجودہ بحران نے عالمی توانائی نظام کے اس بنیادی خطرے کو نمایاں کر دیا ہے کہ تیل اور گیس کی بڑی مقدار چند انتہائی حساس سمندری گزرگاہوں سے وابستہ ہے۔
اگر کشیدگی مزید بڑھی تو ایران کے ممکنہ جوابی اقدامات، امریکی بحری کارروائیاں اور خلیجی توانائی تنصیبات کو لاحق خطرات ایک ایسے بحران کو جنم دے سکتے ہیں جس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے کہیں آگے عالمی معیشت تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
اس لیے آبنائے ہرمز کی سلامتی، بحری آمدورفت کا تسلسل اور خلیجی توانائی تنصیبات کا تحفظ آنے والے دنوں میں نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے ایک اہم تزویراتی اور اقتصادی ترجیح بن چکا ہے۔



