
اٹلی اور اسپین کے درمیان زمینی سرحد موجود نہیں، تاہم سیوتا کی سرحد پر تارکین وطن افراد کا ہجوم جمع ہونے کے بعد دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی ہے
یورپی یونین کے رکن ملک اسپین کے شمالی افریقہ میں ایک علاقے میں مراکش سے زبردستی داخل ہونے والے ہزارہا تارکین وطن کی آمد سے پیدا شدہ ‘خوفناک‘ بحران کے بعد اٹلی نے اسپین کے ساتھ شینگن معاہدہ عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔
اس پیش رفت کے بعد اسپین کی حکومت نے اٹلی سے آنے والے مسافروں پر بھی جوابی داخلہ چیکنگ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسپین نے خبردار کیا تھا کہ اگر وزیراعظم جورجیا میلونی کی حکومت اتوار تک اسپین کے خلاف نافذ کردہ سرحدی اقدامات واپس نہیں لیتی، تو وہ بھی اسی نوعیت کے اقدامات کرے گا۔
تاہم یہ اقدامات بڑی حد تک علامتی نوعیت کے ہیں کیونکہ سیوتا یورپی براعظم کے مرکزی حصے میں واقع نہیں اور اسپین و اٹلی کے درمیان کوئی زمینی سرحد بھی موجود نہیں۔ اس لیے ممکنہ طور پر ان پابندیوں سے متاثر ہونے والوں کی اکثریت ہوائی سفر کرنے والے سیاح ہوں گے۔
اس کے باوجود یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اختلاف کا سبب بن گیا ہے۔ مختلف نظریاتی مؤقف رکھنے والی حکومتیں ہجرت اور سرحدی پالیسیوں کے حوالے سے متضاد پیغامات دے رہی ہیں، جس کے باعث یہ تنازعہ مزید نمایاں ہو گیا ہے۔
اٹلی کے ساتھ تنازعہ: اسپین نے کیا اعلان کیا؟
اسپین نے کہا ہے کہ اٹلی سے آنے والے مسافروں پر جوابی داخلہ چیکنگ کا نفاذ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب سے 7 ستمبر تک جاری رہے گا۔ ان اقدامات کے تحت اٹلی سے آنے والے مسافروں اور دیگر ممالک کے ان افراد کے پاسپورٹ، شہریت اور ویزوں کی جانچ کی جائے گی، جو اٹلی کے راستے اسپین پہنچیں گے۔
اسپین نے اٹلی کے اس فیصلے کو، جس کے تحت اسپین سے آنے والوں پر چیکنگ عائد کی گئی، ”غیر ضروری، یورپی یونین کے مفادات کے منافی اور ہسپانوی شہریوں کے خلاف امتیازی‘‘ قرار دیا ہے۔
میڈرڈ کا مؤقف ہے کہ سیوتا کی سرحد پر موجود ہجوم کا یورپی براعظم تک پہنچنے کا حقیقی خطرہ موجود نہیں تھا، اٹلی تک پہنچنا تو دور کی بات ہے۔ اسپین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ تقریباً 72 ہزار افراد میں سے اکثریت چند روز کے اندر مراکش واپس چلی گئی تھی۔
دوسری جانب اٹلی نے جواب میں کہا کہ وہ میڈرڈ کی جانب سے کسی ”الٹی میٹم یا دباؤ‘‘ کو قبول نہیں کرے گا اور اسپین سے آنے والے غیر یورپی یونین شہریوں پر شینگن قواعد کی معطلی کم از کم 15 اگست تک برقرار رہے گی۔
اگرچہ اسپین نے اٹلی کے اقدامات پر اعتراض کیا ہے تاہم جرمنی سمیت متعدد یورپی ممالک اور یورپی کمیشن نے شینگن زون میں سرحدی سلامتی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ البتہ اٹلی ان چند ممالک میں شامل ہے، جس نے اس معاملے کو اسپین کی شینگن حیثیت کی ”معطلی‘‘ کے طور پر پیش کیا۔
اٹلی کی چیکنگ کے بارے میں ہمیں کیا معلوم ہے؟
اٹلی نے اسپین سے آنے والے مسافروں پر جو چیکنگ نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، اس کی عملی نوعیت اور تفصیلات اب تک پوری طرح واضح نہیں ہو سکی ہیں۔
ہجرت سے متعلق امور کے ماہر جیرالڈ کناؤس نے اس اقدام کو ”محض عوامی مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش‘‘ اور ”انتہائی غیر معمولی اقدام‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق اسپین اور اٹلی کے درمیان کوئی زمینی سرحد موجود نہیں، اس لیے یہ پابندیاں بنیادی طور پر چند پروازوں تک ہی محدود رہیں گی۔
کناؤس نے کہا کہ سیاحتی سیزن کے عروج پر ایسے اقدامات کا کوئی عملی منطق نظر نہیں آتا، بالخصوص جب اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی خود یہ کہہ چکی ہیں کہ ان اقدامات سے مسافروں کو غیر ضروری پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔
جیرالڈ کناؤس کے بقول اس فیصلے کو خارجہ پالیسی کے تناظر میں نہیں بلکہ اٹلی کی اندرونی سیاست کے پس منظر میں سمجھنا چاہیے، ”میرا خیال ہے کہ میلونی کے دائیں بازو پر موجود سخت گیر سیاسی جماعتیں ان پر دباؤ ڈالتی ہیں۔ جب یورپ بھر میں سیاست دان ایسی تصاویر دیکھتے ہیں، جو عوام میں خوف پیدا کرتی ہیں تو وہ کوئی ایسا بیان یا اقدام کرنا چاہتے ہیں، جس سے وہ سخت مؤقف اختیار کرنے والے رہنما دکھائی دیں۔‘‘
میلونی اور سانچیز: ہجرت کے معاملے پر دو مختلف انداز
کم از کم اپنے اعلانات اور سیاسی مؤقف کے لحاظ سے اٹلی اور اسپین ہجرت کے مسئلے پر مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ جورجیا میلونی سن 2022 میں اٹلی کی وزیر اعظم بنیں۔ اس سے قبل شام اور یوکرین کی جنگوں کے باعث اٹلی میں غیر قانونی ہجرت اور پناہ کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد میلونی نے جنوبی یورپ کے اہم داخلی راستوں میں شمار ہونے والے اٹلی میں بے ضابطہ ہجرت کے خلاف سخت پالیسی اپنانے کا وعدہ کیا۔
دوسری جانب اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز اپنے دونوں ادوار حکومت میں امیگریشن کے نسبتاً حامی رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسپین کی معیشت کو تارکین وطن افراد کی ضرورت ہے۔ اسی لیے رواں سال انہوں نے ملک میں پہلے سے موجود غیر دستاویزی تارکین وطن کے لیے عام معافی اور عارضی رہائشی اجازت نامے کی اسکیم متعارف کرائی۔ سانچیز کا کہنا تھا کہ لوگوں کو قانونی رہائش دینا اور ان سے ٹیکس وصول کرنا، انہیں رسمی لیبر مارکیٹ سے باہر رکھنے سے بہتر ہے۔
تاہم مائیگریشن ایکسپرٹ جیرالڈ کناؤس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان عملی فرق کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول میلونی کو بھی اطالوی معیشت کو بہتر بنانے کے چیلنج کا سامنا ہےاور وہ بھی کم و بیش ایسی ہی پالیسیاں اختیار کر رہی ہیں، البتہ اس کی زیادہ تشہیر نہیں کی جاتی۔
کناؤس نے کہا، ”اٹلی بھی تقریباً یہی کر رہا ہے۔ جورجیا میلونی کے دور میں لاکھوں افراد کو اٹلی لایا گیا ہے یا انہیں قانونی حیثیت دے کر اطالوی لیبر مارکیٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ گزشتہ بیس برسوں کے دوران مختلف اطالوی حکومتوں نے تقریباً 16 لاکھ افراد کو قانونی حیثیت دی ہے۔‘‘



