
وزیراعلیٰ مریم نواز کا 2029 تک پنجاب کو جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ اے آئی فعال صوبہ بنانے کا ہدف
صوبائی مشیر علی مصطفیٰ ڈار نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو اے آئی آفس کی گزشتہ دو ماہ کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔
انصارزاہد- ادارت
پنجاب اے آئی وژن 2029 کی باضابطہ لانچنگ کی تیاری، وزیراعلیٰ سے صوبائی مشیر علی مصطفیٰ ڈار کی ملاقات
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے 2029 تک پنجاب کو جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) فعال اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ صوبہ بنانے کا ہدف مقرر کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پنجاب میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو حکومتی نظام، عوامی خدمات، پالیسی سازی، انتظامی امور اور ترقیاتی منصوبہ بندی کا اہم حصہ بنانے پر کام جاری ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے صوبائی مشیر برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات علی مصطفیٰ ڈار نے ملاقات کی، جس میں پنجاب میں مصنوعی ذہانت کے فروغ، اے آئی وژن 2029 کی باضابطہ لانچنگ، گزشتہ دو ماہ کے دوران اے آئی آفس کی کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
پنجاب اے آئی وژن 2029 کی باضابطہ لانچنگ پر مشاورت
ملاقات میں پنجاب اے آئی وژن 2029 کی باضابطہ لانچنگ کے حوالے سے مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ کو صوبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے وضع کیے جانے والے جامع فریم ورک اور مختلف شعبوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کے نفاذ کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
اس موقع پر اس وژن کے تحت پنجاب کے سرکاری نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو وسعت دینے، عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید تیز، مؤثر اور شفاف بنانے اور حکومتی فیصلہ سازی میں ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اے آئی آفس کی دو ماہ کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ
صوبائی مشیر علی مصطفیٰ ڈار نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو اے آئی آفس کی گزشتہ دو ماہ کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ کے دوران پنجاب میں مصنوعی ذہانت کے ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے کیے جانے والے اقدامات، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور اے آئی کو حکومتی شعبوں سے جوڑنے کے لیے جاری سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اے آئی آفس صوبائی حکومت کے مختلف محکموں کے ساتھ مل کر ایسے منصوبوں کی نشاندہی اور تیاری پر کام کر رہا ہے جن کے ذریعے مصنوعی ذہانت کو عوامی خدمات اور انتظامی نظام میں مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
دنیا کے پہلے اے آئی فعال ڈیلیوری یونٹ کا قیام
ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو پنجاب میں قائم کیے گئے دنیا کے پہلے آرٹیفیشل انٹیلیجنس فعال ڈیلیوری یونٹ کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔
اس ڈیلیوری یونٹ کا مقصد حکومتی ترجیحات اور ترقیاتی اقدامات کی نگرانی، کارکردگی کے جائزے اور فیصلوں کے لیے جدید ڈیٹا پر مبنی نظام کو فروغ دینا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی مدد سے حکومتی پروگراموں کی پیش رفت کا تجزیہ، مختلف شعبوں سے متعلق معلومات کو بہتر انداز میں استعمال کرنے اور ممکنہ مسائل کی بروقت نشاندہی کے امکانات پیدا ہوں گے۔
پنجاب کے اے آئی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے اعلیٰ سطح ٹیم تشکیل
وزیراعلیٰ کو پنجاب کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطح ٹیم کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اس ٹیم کا مقصد صوبے میں اے آئی سے متعلق اقدامات کو مربوط بنانا، مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری بہتر کرنا اور اے آئی وژن 2029 کے اہداف کے حصول کے لیے ترجیحات طے کرنا ہے۔
ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کو محض تجرباتی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں حکومتی نظام اور عوامی سہولیات کے ساتھ عملی طور پر مربوط کیا جائے۔
گلوبل ڈیلیوری ماہرین کے تعاون سے آن بورڈنگ پروگرام
صوبائی مشیر علی مصطفیٰ ڈار نے وزیراعلیٰ کو گلوبل ڈیلیوری ماہرین کے تعاون سے تیار کیے گئے آن بورڈنگ پروگرام کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
اس پروگرام کا مقصد متعلقہ ٹیموں اور حکومتی اہلکاروں کو مصنوعی ذہانت سے متعلق جدید تصورات، طریقہ کار اور عملی استعمال سے روشناس کرانا ہے تاکہ صوبائی سطح پر اے آئی اقدامات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال کے لیے ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل کی تربیت، مہارت اور استعداد کار میں اضافہ بھی ضروری ہے۔
جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ اے آئی فعال صوبہ بنانے کا وژن
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے 2029 تک پنجاب کو جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس این ایبلڈ صوبہ بنانے کے وژن پر جاری پیش رفت کا جائزہ لیا۔
اس وژن کے تحت پنجاب میں مصنوعی ذہانت کو مختلف حکومتی اور عوامی شعبوں میں استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ صوبے کے انتظامی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل گورننس، ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی، عوامی خدمات، تعلیم، صحت، شہری انتظام، زراعت اور دیگر اہم شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال پر توجہ دی جا رہی ہے۔
اے آئی وژن 2029 کے چھ بنیادی ستون
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو پنجاب اے آئی وژن 2029 کے چھ بنیادی ستونوں پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ان بنیادی ستونوں کے ذریعے صوبے میں مصنوعی ذہانت کے لیے ایک جامع اور مربوط ماحولیاتی نظام تشکیل دینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس وژن میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی استعداد، انسانی وسائل، اختراع، ڈیٹا اور عوامی خدمات کو جدید بنانے کے پہلوؤں کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اے آئی وژن 2029 کو عملی شکل دینے کے لیے مختلف سطحوں پر اہداف مقرر کیے جا رہے ہیں تاکہ پیش رفت کو قابلِ پیمائش انداز میں مانیٹر کیا جا سکے۔
حکومتی خدمات میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دینے پر توجہ
پنجاب حکومت کے اے آئی ایجنڈے کا ایک اہم مقصد سرکاری خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے ذریعے شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے، سرکاری اداروں کی کارکردگی کا تجزیہ کرنے، عوامی شکایات کے ازالے کے نظام کو جدید بنانے اور حکومتی فیصلوں کے لیے ڈیٹا پر مبنی معاونت فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے اے آئی ٹیکنالوجی کو حکومتی محکموں کے موجودہ ڈیجیٹل نظام کے ساتھ مربوط کرنے پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کی جانب اہم پیش رفت
اے آئی وژن 2029 کے تحت صوبائی حکومت میں ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دینے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔
مصنوعی ذہانت بڑے پیمانے پر دستیاب ڈیٹا کے تجزیے کے ذریعے حکومتی اداروں کو رجحانات سمجھنے، مسائل کی نشاندہی کرنے اور پالیسی سازی میں بہتر معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس تناظر میں پنجاب حکومت کا مقصد ایسے نظام کو فروغ دینا ہے جس کے ذریعے مختلف شعبوں کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔
پہلی سی ایم اے آئی اسٹاک ٹیک پر بھی گفتگو
ملاقات میں اے آئی وژن 2029 پر پیش رفت کے جائزے کے لیے پہلی سی ایم اے آئی اسٹاک ٹیک کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس اسٹاک ٹیک کا مقصد مصنوعی ذہانت کے حوالے سے صوبائی حکومت کے اقدامات، مقررہ اہداف اور حاصل ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا اور مستقبل کے لیے ترجیحات طے کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ کو اے آئی وژن کے مختلف پہلوؤں پر ہونے والی پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھنے اور اہداف کے حصول کے لیے نگرانی کے مؤثر نظام کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔
جدید ٹیکنالوجی سے پنجاب کے انتظامی نظام میں تبدیلی کا عزم
ملاقات کے دوران اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کو پنجاب کے انتظامی نظام میں مؤثر انداز میں شامل کیا جائے گا۔
اے آئی کے استعمال سے حکومتی محکموں کی کارکردگی میں بہتری، وسائل کے زیادہ مؤثر استعمال، منصوبہ بندی کے معیار میں اضافے اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں بہتری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
حکومت کی جانب سے اس وژن کو عملی شکل دینے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر استعداد کار بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی سے واقف ماہرین اور ٹیموں کو شامل کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
نوجوانوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے نئے مواقع
پنجاب میں اے آئی کے فروغ سے نوجوانوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، اختراع اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں تیزی سے تبدیل ہونے والی ٹیکنالوجیز میں شامل ہے اور اس کے استعمال نے تعلیم، صحت، صنعت، زراعت، کاروبار اور سرکاری خدمات سمیت متعدد شعبوں میں نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔
پنجاب اے آئی وژن 2029 کے تحت صوبے میں ایسی ٹیکنالوجی پر مبنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جو مستقبل کی معیشت اور روزگار کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔
پنجاب کو ٹیکنالوجی کے میدان میں علاقائی مرکز بنانے کا ہدف
اے آئی وژن 2029 کے ذریعے پنجاب کو جنوبی ایشیا میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے ایک نمایاں مقام دلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس وژن کے تحت حکومت کا مقصد نہ صرف سرکاری نظام میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دینا ہے بلکہ پنجاب میں ایک ایسا ٹیکنالوجی ایکو سسٹم تشکیل دینا بھی ہے جہاں جدید تحقیق، اختراع، ڈیجیٹل مہارت اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔
وزیراعلیٰ کی اے آئی اقدامات کو مزید تیز کرنے کی ہدایت
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اے آئی وژن 2029 کے تحت جاری اقدامات کی رفتار برقرار رکھنے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کو عملی نتائج سے جوڑنے، حکومتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور عوامی خدمات میں بہتری کے لیے اے آئی کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی اہمیت اجاگر کی۔
ملاقات میں پنجاب کو مستقبل کی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ صوبہ بنانے اور 2029 تک جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ اے آئی فعال صوبہ بنانے کے وژن پر پیش رفت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔



