
مارک زکربرگ نے میٹا کے مواد اور غلطیوں پر بھارتی حکومت سے معذرت کر لی: مقامی میڈیا
حکومت نے میٹا سے سات دنوں کے اندر وضاحت طلب کی کہ پلیٹ فارم پر ایسے مواد پر مشتمل اشتہارات کی اجازت کیسے دی گئی
رائٹرز کے ساتھ
میٹا پلیٹ فارمز کے سربراہ مارک زکربرگ نے کمپنی کے پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال کے مواد اور آپریشنل غلطیوں پر بھارتی حکومت سے معافی مانگی ہے، مقامی ٹیلی ویژن چینلز نے بدھ کو بتایا۔
مالیاتی خبروں کے اشاعتی ادارے منی کنٹرول نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ زکربرگ نے میٹا کے پلیٹ فارمز پر ایسے مواد کی موجودگی نیز ڈیپ فیک مواد اور آپریشنل غلطیوں پر معذرت کی۔
اشاعتی ادارے نے مزید کہا کہ منگل کو میٹا ایگزیکٹوز اور بھارتی حکومت کے عہدیداروں کے درمیان ایک اجلاس کے دوران معافی مانگی گئی۔
میٹا جس کی بڑی سوشل میڈیا ایپس میں فیس بک اور انسٹاگرام شامل ہیں، نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
بی بی سی نے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے ایک سینئر اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جولائی میں بھارتی حکومت نے میٹا کو انسٹاگرام پر بچوں کے جنسی استحصال کو فروغ دینے والے اشتہارات اور مواد ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
مزید کہا گیا کہ حکومت نے میٹا سے سات دنوں کے اندر وضاحت طلب کی کہ پلیٹ فارم پر ایسے مواد پر مشتمل اشتہارات کی اجازت کیسے دی گئی۔
اس وقت اس کی بچوں کے جنسی استحصال کے مواد پر عدم برداشت کی پالیسی تھی اور وہ سراغ لگانے کا نظام مضبوط بنا رہا تھا، بی بی سی کے مطابق میٹا نے کہا۔
گذشتہ ماہ فیس بک کی جانب سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ایک پوسٹ کو مختصراً محدود کرنے کے بعد بھارت کی انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کی وزارت نے میٹا کے سربراہاں کو طلب کیا تھا۔ کمپنی نے کہا کہ پوسٹ کو آپریشنل غلطی کی وجہ سے نادانستہ طور پر بلاک کر دیا گیا تھا۔
ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق حیدرآباد پولیس نے میٹا انڈیا کے سربراہ ارون سری نِواس کے خلاف مقدمہ درج کیا جس میں فیس بک پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں مبینہ طور پر مودی کو "بدتمیزانہ انداز میں” دکھایا گیا تھا۔
بھارت نے اس سال مواد کے قوانین سخت کیے ہیں جس سے پلیٹ فارم صارف کے تیار کردہ مواد کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکیں گے۔
فروری سے پلیٹ فارمز کو عدالتوں یا حکومت کے نشان زدہ (فلیگڈ) غیر قانونی مواد کو تین گھنٹے کے اندر ہٹانا ہو گا جس کے لیے پہلے 36 گھنٹے کا وقت ہوتا تھا۔



